بدھ 15  اگست 2018ء
بدھ 15  اگست 2018ء

غازیوں کا استقبال۔۔۔۔۔۔۔ارشاد محمود

مردان کی جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی طرف سے مشعال خان کے قتل میں عدالت سے رہائی پانے والے ”غازیوں“ کے پرجوش استقبال پر جو ہنگامہ برپا ہے وہ بے سبب نہیں۔جس تپاک سے نوجوانوں کا استقبال کیاگیااور جو گفتگو وہاں کی گئی اس پر مجھے کوئی تعجب نہ ہوا۔ مردان جماعت اسلامی کے امیر عطاءالرحمان نے ایک وضاحتی ویڈیو میں تفصیل کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا ۔جو سننے کے بعد احساس ہوتاہے کہ ریاستی قانون، شہریوں کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے مروجہ قوانین کا یہ سابق رکن قومی اسمبلی ادراک رکھتے ہیں اور نہ انہیں اپنی غلطی کا فہم ہے۔ وہ بضد ہیں کہ مشعال خان کے قتل کا مقدمہ ہی غلط چلا۔عذرگناہ بدتر ازگناہ۔عطا ءالرحمان کوجماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم کے بقول سخت تنبیہ کی جاچکی ہے اور جماعت مشعال کے قتل کی مذمت بھی کرتی ہے ۔ مشعال خان کے قتل میں ملوث گروہ کی اعانت کرنے والوں اور ہجوم کا حصہ بننے والوں کو ”غازی “ قراردیئے جانے پر بہت سارے لوگ سیخ پاہوئے۔ دکھ اس بات کا بھی ہے کہ باچا خان جو خدائی خدمت گار کہلاتے اور عمر بھر عدم تشدد کے فلسفے کے علمبردار رہے ہیں‘ کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن بھی مشعال پر حملے میںملوث پائے گئے ۔ اگراے این پی کی صفوں میں بھی شدت پسند راہ پاچکے ہیںتو باقیوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شدت اور رجعت پسندی محض کسی ایک مذہبی جماعت تک محدود نہیں بلکہ اس نے جسد قومی کو دیمک کی طرح چاٹ لیاہے۔منصف اور دانشور فاروق عادل کہتے ہیں ہم سب کے اندر ایک بال ٹھاکرے بیٹھا ہوتاہے جو موقع ملتے ہی باہر نکل آتاہے۔ کل تک مدارس اور مذہبی جماعتوں کے حامیوں کو عدم راواداری کا مظاہرہ کرنے پر مطعون کیاجاتاتھا۔اب یہ سلسلہ اعلیٰ تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ چند ہفتے قبل سینئر صحافی جاوید عزیز خان نے پشاور سے ایک رپورٹ میں لرزہ خیز انکشاف کیاکہ خیبر پختون خوا پولیس نے انہیں بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران گرفتار کیے گئے دہشت گردوں میں36 کے پاس ایم اے اور ایم ایس ای کی ڈگریاں تھیں۔36 دہشت گرد وں نے بی اے یا بی ایس سی پاس کررکھاتھا۔100کے قریب ایسے تھے جنہوں نے ایف اے یا ایف اسی کے امتحان پاس کررکھے تھے۔کراچی کی سول سوسائٹی کی سرگرم رہنما سبین محمودکے قتل میں ملوث سعود عزیز بارے پولیس نے اطلاع دی تھی کہ وہ کراچی کے بہت ہی معتبر تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرین (آئی بی اے ) سے فارغ التحصیل تھا۔ ’انصار الشریعہ‘ نامی دہشت گرد تنظیم کا کمانڈر سروش صدیقی فزکس کا پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھا ۔ ایک نوجوان خاتون نورین لغاری جوکراچی کے ایک نجی میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی‘ پر داعش سے تعلق کا الزام لگا۔ کاو¿نٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے محمد اویس کے بارے میں بتایا کہ وہ کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔اسی طرح وکلاء، صحافی اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ بھی ہیں جو انتہاپسندوں کے نہ صرف سرگرم ساتھی ہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔کہتے ہیں گھر کو آگ لگتی ہے تو پھر کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہتا۔یہی حال ہمارا ہوا۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جڑیں بہت گہری اور دور تلک پھیل چکی ہیں۔  غلط حکومتی پالیسیوں نے پاکستان کے سارے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا۔ ریاست اور ریاست کے قائم کردہ عدالتی نظام پر بھروسہ کرنے کے بجائے مختلف گروہوں نے اپنا اپنا نظام انصاف وضع کیا۔ذاتی اور گروہی رنجشوں کو مذہب اور وطن کا نام دے کر بے شمار بے گناہ شہریوں کا خون بہایاگیا۔ہجوم نے منصف کا منصب سنبھال لیا۔خاص طور پراقلیتوں کو نشانہ بنایالیکن ریاست چپ سادھے تماشائی بنی رہی۔ عالم یہ ہے کہ اس عمل کی مذمت کرنے والوں کو بھی معاشرے میں اچھوت بنادیاجاتاہے۔انہیں مذہب دشمن، غدار وطن اور اغیار کا کارندہ قراردے کر غیر موثربنادیاجاتاہے تاکہ لوگ ان کی بات پر کاہی نہ دھریں۔ اب عطاالرحمان مشعال خان کیس سے بری ہونے والوں کے استقبال کو غلط نہیں سمجھتے تو ان کا کوئی قصور نہیں۔وہ اسی معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں آج بھی بعض علاقوں میں عورتوں کو ونی کردیا جاتاہے۔ انہیں ووٹ کا حق نہیں دیا جاتا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو سوسائٹی اسے معمول کا اقدام سمجھ کر نظرانداز کردیتی ہے۔ ماوراءعدالت قتل ہوتاہے تو پولیس افسر خاموشی سے پس منظر میں چلاجاتاہے۔نیشنل پریس کلب کے سامنے سیکٹروں مظاہرین نقیب اللہ مسعود کے لیے انصاف مانگتے ہیں لیکن ریاست کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ہزاروں لوگوں کو اکسا کر صوفی محمد افغانستان لے جاتے ہیں۔بعدازاں سوات میں ریاست کو چیلنج کرتے ہیں اور ان کا دست راست ملاّ فضل اللہ قانون اپنے ہاتھ میں لیتاہے لیکن وہ باعزت رہاکردیئے جاتے ہیں۔ریاست نے اپنے اقدامات سے خود کو بری طرح کمزور ثابت کیا ۔ اس کا رعب اور دبدبہ تمام ہوچکا ہے ۔ دہشت گرد تنظیموں نے اس صورت حال کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے پاو¿ں پھیلالیے۔سستے اور فوری انصاف کی عدم فراہمی ،سماجی اور معاشی ناہمواریوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دہشت گرد گروہوں کے لیے آسان ہدف بنا یا۔  دہشت گردی کا اس وقت تک مقابلہ ممکن نہیں جب تک کہ ریاست کے تمام ادارے عدلیہ سمیت ایک صفحے پر جمع نہیں ہوتے۔اگر وہ ایک صفحے پہ جمع ہوں تو سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اپنے نقطہ نظر کاقائل کرکے مشترکہ سیاسی بیانیہ مرتب کرسکیں گے۔قومی سطح کی مذہبی جماعتیں پہلے ہی شدت پسندی کے خلاف اپنا موقف بیان کرچکی ہیں۔مذہبی بیانیہ خاص کر مولانا فضل الرحمان نے بدلنے میں اہم کردارادا کیاہے۔ ماضی کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن گزشتہ سات آٹھ برسوں سے انہوں نے ہر جلسے اور تقریب میں پرامن سیاسی جدوجہدکو ہی ملک میں تبدیلی کا واحد راستہ قراردیا۔بندوق، تشدد اور زیر زمین کارروائیوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی۔ جناب سراج الحق اور جماعت اسلامی کے رہنماو¿ں کو بھی اپنے حامیوں کو مسلسل یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان میں انقلاب کی صبح بندوق کی کوکھ سے نہیں ‘ ووٹ کی پرچی سے طلوع ہوگی۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم