جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

تارےخ بدلنے والے فےصلے۔ بےرسٹر حمےد باشانی

 جج خود نہےں بولتے، ان کے فےصلے بولتے ہےں۔ ےہ اےک پرانی کہاوت ہے۔ مگرےہ کہاوت آج دنےا بھر کی عدلےہ کا اےک مسلمہ اصول ہے۔ اس اصول کا مقصد ججوں کی غےر متنازعہ حثےت اور احترام کو بر قرار رکھنا ہے۔ اسی اصول کے تحت فےصلے اس طرےقے سے لکھے جاتے ہےں کہ ان مےں کوئی ابہام نہ ہو، کسی قسم کی وضاحت کی حاجت نہ ہو۔ اس طرح فےصلہ لکھنے کے بعد ججوں کو اپنے فےصلے کے دفاع ےا ان کی مذےد وضاحت کی ضرورت نہےں محسوس ہوتی۔ ججز اپنے فےصلے عوام کی رائے سے متاثر ہو کر نہےں، قانون کی روشنی مےں کرتے ہےں۔ ان سے ےہ بھی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ زاتی مفادات، خےالات اور تعصبات سے اوپر اٹھ کر فےصلے کرےں۔ اس لےے کسی فےصلے کی وجہ سے جج کی زات پر تنقےد کو غلط اور نا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ مگر خود فےصلے کی بات دوسری ہے، فےصلہ صادر ہونے کے بعد عوامی ملکےت بن جاتا ہے۔ اس پر عوام رائے دےتے ہےں۔ تنقےد کی جاتی ہے۔ تبصرے ہوتے ہےں۔ کالم اور ادارےے لکھے جاتے ہےں۔ لا ءسکولوں اور عدالتوں مےں ان پر گفتگوہ ہوتی ہے۔ اس سلسلہ عمل مےں ہر فےصلہ اپنی اہمےت اور افادےت کے لحاظ سے سماج اور تارےخ مےں اپنی جگہ خود بناتاہے۔ کچھ فےصلے قوموں اور ملکوں کی تارےخ کا رخ بدل کر رکھ دےتے ہےں۔ اور اپنے اثرات کے اعتبار سے اتنے اہم ہوتے ہےں کہ آنے والی کئی نسلوں تک ان پر بحث و مباحثہ جاری رہتاہے۔ پاکستان مےں اس کی اےک بڑی مثال مولوی تمےزالدےن کےس کا فےصلہ ہے۔ مولوی تمےزالدےن کےس پاکستان کی آئےنی، سےاسی اور عدالتی تارےخ کا اہم ترےن کےس ہے۔ اس فےصلے نے پاکستان کی تارےخ کا رخ بدل کر رکھ دےا۔ اس کہانی کا آغاز 1953سے ہوتا ہے، جب گورنر جنرل غلام محمد نے وزےر اعظم خواجہ ناظم الدےن کو ہٹا کر محمد علی بوگرہ کووزےر اعظم بنا دےا۔ خواجہ ناظم الدےن کو اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا، مگر اس کے باوجود ان کو ہٹا دےا گےا۔ آئندہ کسی اےسی صورت حال سے بچنے کے لےے اس قانون ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کو اختےارات کو محدود کرنے کے لےے ترمےمی بل پےش کےا۔ اس بل کے تحت گورنر جنرل کے اختےارات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ گورنر جنرل اور اسمبلی کے درمےان اختلافات بڑھ گئے ، چنانچہ گورنر نے قانون ساز اسمبلی کو ہی برطرف کر دےا۔ مولوی تمےز الدےن اس وقت اس اسمبلی کے صدر تھے۔ انہوں نے اس فےصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ مےں درخواست داہر کر دی۔ سندھ ہائی کورٹ نے مولوی تمےزالدےن کے حق مےں اےک جاندار اور خوبصورت فےصلہ دےا، اور گورنر کے اقدام کو غےر آئےنی قرار دے دےا۔ اس فےصلے کے خلاف فےڈرل کورٹ مےں اپےل دائر کر دی گئی۔ جسٹس منےر اس وقت فےڈرل کورٹ کے چےف جسٹس تھے۔ ان کی سربراہی مےں کےس کی سماعت ہوئی ۔ ہائی کورٹ کے فےصلے کو معطل کر دےا گےا۔ اور گورنر جنرل کی طرف سے قانون ساز اسمبلی کو تحلےل کرنے کے فےصلے کو درست قرار دےا گےا۔ فےصلے کے حق مےںجسٹس منےر کی دلےل ےہ تھی کہ پاکستان ابھی تک اےک مکمل آزاد رےاست نہےں، بلکہ ڈومےنےن ہے۔ چنانچہ اقتدار اعلی، تاج برطانےہ کے پاس ہے۔ اس لےے قانون ساز اسمبلی کے پاس اقتدار اعلی نہےں، بلکہ گورنر جنرل کے پاس ہے ، جو کراون کا نمائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون ساز اسمبلی کے اراکےن ےہ سمجھتے ہےں کہ اقتدار اعلی ان کے پاس ہے، تو وہ احمقوں کی جنت مےں رہتے ہےں۔ فےصلے کے لےے جسٹس منےر نے قدےم رومن ، انگلش اور کامن لاءکے اصولوں کو استعمال کےا۔ ان مےں برےکٹن مےکسم ےعنی اصول سر فہرست تھا۔ اس اصول کے مطابق جو کچھ قانونی نہےں ہے ، وہ ضرورت کے وقت قانونی ہو سکتا ہے۔ ا س کا مطلب ےہ ہے کہ گورنر کے اقدام کو نظرےہ ضرورت کے مطابق قانونی سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسرا مےکسم ےا ا صول انہوں نے جےننگ سے لےا۔ اس اصول کے مطابق دنےا مےں سب سے بڑا قانون عوام کی بہبود کا قانون ہے۔ اس فےصلے سے پاکستان مےںنظرےہ ضرورت کا آغاز با قاعد قانونی اصول کے طور پر ہوا ، جوآنے والے بر سوں مےں تسلسل سے جمہورےت کے خلاف اور آمرےت کے حق مےں استعمال ہوتا رہا۔ اس فےصلے کے صرف تےن سال بعد اےوب خان کے مارشل لاءکو اس قانون کے تحت درست قرار دےا گےا۔ اس کےس مےں جسٹس منےر کو ہی دوبارہ نظرےہ ضرورت اور اس کی تشرےح کا موقع مےسر آےا۔ اس مےں انہوں نے مذےد واضح کےا کہ اےک کامےاب اندرونی بغاوت آئےن کو بدلنے کا قانونی طرےقہ ہے۔ اس کے بعد جب جنرل ضےا الحق نے زولفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا، تو اسی اصول اور نظےرکے تحت جنرل ضےا کے قدم کو جائز قرار دےا گےا۔ بعد ازاں جنرل مشرف کے مارشل لا ءمےں بھی ےہی نظرےہ ضرورت ےاقانونی اصول کام آےا۔ جسٹس منےر کے پاس مولوی تمےز الدےن کےس مےں رہنمائی کے کوئی مقامی نظےر نہےں تھی۔ آئےن و قانون مےں اےسی کوئی واضح رہنما اصول نہےں تھے۔ چنانچہ اس فےصلے کے لےے انہوں نے دو قدےم رومن مےکسم ےا اصول استعمال کےے ۔ دنےا کے کئی بڑے ماہر قانون اور جےورسٹ ےہ مانتے ہےں کہ ےہ دونوں اصول دو دھاری تلوار کی طرح ہےں۔ ان کو اےک مقدمے مےں دونوں طرف کامےابی سے استعمال کےا جا سکتا ہے، ےہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے وہ ان کا رخ کس طرف موڑتا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود کس چےز مےں ہے۔ ؟ مختلف صورتحال مےں اس کے مختلف جواب ہےں۔ عوام کی بہبود اس بات مےں مضمر ہے کہ اختےارات ان کی منتخب شدہ اسمبلی کے پاس ہوں؟ ےا پھر عوام کی بہبود اس بات مےں ہے کہ عوام کے بارے مےں فےصلے کرنے کا اختےار اےک غےر منتخب شدہ فرد واحد کے پاس ہو۔ اور نظرےہ ضرورت بھی اس سے مختلف نہےں۔ ےہ عوام کے مفاد مےں بھی استعمال ہو سکتاہے۔ اور مقتدر قوتوں کی طاقت بھی بن سکتا ہے۔ اس وقت قدےم رومن اور انگلش لاءسے کئی اےسے مےکسم موجود تھے جو طاقت کا سر چشمہ عوام قرار دےتے تھے ، ۔ کامن لاءمےںکئی اےسی قانونی نظےر اور تسلےم شدہ ضابطے بھی موجود تھے جو اےک اسمبلی کو فرد واحد پر ترجےح دےنے کی بات کرتے تھے۔ اےسی کسی نظےر ےا اصول کو بروئے کار لا کر پاکستان مےں ہمےشہ کے لےے آمرےت کا راستہ بند کےا جا سکتا تھا۔ ےہ اےک تارےخی موقع تھا جو ضائع کر دےا گےا۔ اس فےصلے پر کئی مقامی اور عالمی قانون دانوں اور لکھارےوں نے کڑی تنقےد کی۔ اےلن مےک گراتھ سمےت کئی غےر ملکی مصنفےن نے جسٹس منےر کے اس فےصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس فےصلے نے پاکستان کی ائےنی بنےادوں کو تباہ کر دےاتھا۔ اس نے اسمبلی کے اختےارات کا انکار تو کر دےا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ےہ نہےں بتاےا کہ اگر اختےارات اسمبلی کے پاس نہےں تو کس کے پاس ہےں؟ اس فےصلے سے اےک واضح خلا پےدا ہوا۔ اور اس خلا کو گورنر غلام محمد نے اپنے حق مےں استعمال کےا اور طاقت پر قبضہ کر لےا۔ ےہ پاکستان کے اقتدار پر نوکر شاہی کا پہلا قبضہ تھا۔ اس مےں ان کو عسکری قےادت کی واضح حماےت حاصل تھی، جس کی تصدےق بعد مےں جنرل اےوب خان نے انےس سو باسٹھ مےں پرےس کانفرنس مےں کی۔ مولوی تمےز الدےن کےس کے اس فےصلے سے پاکستان مےں پارلےمانی جمہورےت کے تصورات کو سخت دھچکا لگا۔ آنے والے وقتوں مےں اس فےصلے سے عدلےہ کو غےر آئےنی اور غےر جمہوری حکومتوں کے حق مےں فےصلے کرنے کا جواز مل گےا۔ اور نظرےہ ضررورت کئی بار نا صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دےش مےں بھی جمہورےت کے قتل کے لےے استعمال کےا گےا۔ دلچسب بات ےہ ہے کہ خودجسٹس منےر نے اپنی کتاب ہائی وے اےنڈ بائی وے آف لائف مےں ےہ تسلےم کےا کہ ان کے اس فےصلے کو ملک کی بدنصےبی کا آغاز کے طور پر دےکھا گےا۔ اگرچہ دےر سے سہی، مگر خوش قسمتی سے عدالتوں نے نظرےہ ضرورت کا راستہ خود ہی ہمےشہ کے لےے بند کر دےا۔ اس کا مگر ےہ مطلب نہےں اب جمہورےت کو کئی خطرہ درپےش نہےں۔ اےک تازہ روپورٹ کے مطابق کئی ملکوں مےں جمہورےت روبہ زوال ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ آمرےتےں نئے روپ اور نئی شکلوں مےں سامنے آ رہی ہےں۔ آمرےت کی نئی شکلوں سے آگہی رکھنا ، اور ان سے ہوشےار رہنا بہت ضروری ہے۔