پیر 23 جولائی 2018ء
پیر 23 جولائی 2018ء

سینٹ انتخابات۔بہت کچھ واضح کر گئے!۔۔۔۔۔سردار حیات خان

   ۳ مارچ ۸۱۰۲ئ کو سینٹ کی باون نشتوں کے لیے انتخابات جن پر آج سے کچھ عرصہ قبل بہت چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہےں،ہوئے۔ اور نتائج عوام الناس دیکھ چکے ہےں۔یہ بات خوش آہند ہے کہ جمہوری پراسس تسلسل سے چل رہا ہے۔مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملک مےں تمام اخلاقی،قانونی اور جمہوری قدرےں پامال ہورہی ہےں۔اور اس مےں بہتری تو در کنار نہایت ڈھٹائی سے ہمارے قومی راہنماءیعنی قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کچھ تو خریدار ہوتے ہےں اور کچھ بکاﺅ مال بنتے ہےں۔اور یہی لوگ اسمبلیوں مےں بیٹھ کر پاکستانی عوام کے لیے قوانےن بناتے ہےں۔اور پھر یہی لوگ ان الیکشنز پر کیے گئے اخراجات کرپشن کر کے ملکی دولت لوٹتے اور عوام کے ٹیکسوں سے جمع کی گئی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹتے ہےں۔اور اس پریکٹس مےں سب شامل ہوتے ہےں۔ا س پر سوشل میڈیااور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر آج اور آنیوالے دنوں مےں تمام تر تفصیل پارٹیوں کی کارکردگی بکنے اور خریدنے والوں کا احوال ہو گا۔مگر اس مضمون مےں خصوصاً دو تین باتون کا ذ کر کرنا مقصود ہے۔پہلی بات یہ کہ جو لیڈران پارلیمنٹ کے تقدس کی بات کرتے ہےں۔ان کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے۔کہ میاں محمد نواز شریف جو تین دفعہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔وہ اس دفعہ اقامے پر نکالے جانے سے پہلے اپنے پورے عرصے مےں صرف آٹھ مرتبہ اسمبلی مےں تشریف لائے۔ اسی طرح ہماری اسمبلی کے اجلاس کورم پورا نا ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیے جاتے ہےں۔اور وزراءکی حاضری کا یہ حال رہا کہ سینٹ کے چیئر مےن کو اسمبلی اجلاس سے روٹھ کر جانا پڑا۔ مسلم لیگ ن والے تو اپنی دوتہائی اکثریت کے زعم مےں تھے۔مگر دوسری طرف اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنے والے عمران خان اسمبلی مےں آنا اپنی توئےن سمجھتے ہےں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے نکالے جانے کے بعدعمران خان اپنے نامزد کردہ امیدوار شیخ رشید کو ووٹ تک دینے پارلیمنٹ مےں نہےں آئے۔باہر جلسوں مےں یا پریس کانفرنسوں مےں تو بہت باتےں کرتے ہےں مگر اسمبلی اجلاس مےں آنا گوارا نہےں۔۴۱۰۲ئ مےں دھرنا دیا اور پھر پی۔ٹی۔آئی کے سب ممبران نے استفعے بھی دیے وہ آج بھی غیر قانونی طور پراسمبلی مےں بیٹھے ہےں اس دھرنے کے دور کی سب ممبران نے تنخوائےں بھی لی اور آج بھی لے رہے ہےں۔کسی ماہر قانون سے پوچھےں۔انہوں نے آج جو ووٹ دیے کیا یہ قانوناً ٹھیک ہےں شاہد نہےں ۔(مگر یہاں پوچھنے والا کوئی نہےں)۔پھر عمران خان خود آج اپنا قیمتی ووٹ ڈالنے اسمبلی نہےں آئے۔کیوں؟ اس لیے کہ انہوں نے اس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی ہوئی ہے۔ اگر وہ اسمبلی سے نفرت کرتے ہےں اور آنیوالے وقت مےں الیکشن جیت کر وزیراعظم بھی بننا چا یئتے ہےں۔تو اخلاقی جرائت کر کے کم از کم یہ تو قوم کو بتاہےں کہ چالیس کروڑ کی آفر کس نے کی تھی۔ تاکہ یہ بد کردار لوگ عوام کے سامنے آہےں۔مگر لگتا ہے کہ عمرن خان نے یہ بھی ایک زیب داستان کے لیے چٹکلا چھوڑا ہے ۔جیسے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،نجم سیٹھی،اورشہباز شریف کے متعلق کرتے رہے ہےں۔شیخ رشید تو ووٹ دینے اس لیے نہےں آئے۔کہ انہوں نے کئی ہزار مرتبہ اس اسمبلی پر لعنت بھیجی تھی ۔ویسے وہ بڑے اصول والے اوراخلاقی قدروں والے ہےں انہوں نے تنخواہ اور مراعات بھی چھوڑ دی ہوں گی۔اور پرویز الہی تو اس لیے ووٹ دینے نہےں آئے۔کہ انہےں نواز لیگ کے ممبران ٹوٹنے کی بڑی امید تھی ۔کہ ن لیگ مےں ٹوٹ پھوٹ ہو گی۔اور جس طرح وہ اپنے لیگی ساتھیوں کو ساتھ لے کر مشر ف کے ہو گئے تھے۔ کچھ لوگ ان سے آ ملےں گے اور وہ جموریت کی خاطر اپنا نیا اتحا د بنا کراقتدار مےں آ جائےں گے۔وہ تو نا ہوا۔ ہاں البتہ وہ اور عمران خان اب اس امید پر ہےں کہ شاہد کسی میٹرو،اورینج ٹرین،آشیانہ ہاﺅسنگ یا کئی سے بھی کوئی معمولی سی چیز ملے تو شہبا ز شریف کو بھی نااہل کرا کر انہےں خود کھلا میدان ملے اور وہ قوم کی بہتر خدمت کر سکےں۔آسمان کے تیور بھی یہی بتا رہے ہےں۔۔۔۔دوسری بات پی پی پی کی بہتر پرفارمنس کی ہے۔اُن کی جماعت کے ورکرز یہ نعرہ لگاتے ہےں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری ۔تو اس مےں شک بھی نہےں ہونا چایئے۔وہ اتنے زیرک اور بھاری بھر کم سیاست دان ہےں کہ ان کی ”سیاست اور دانشمندی“ کو نا ماننا یا تو کم عقلی ہو گی نہےں تو بخل ہو گا۔اس لیے کہ بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد جس طرح انہوں نے معاملات کو سمھبالا اور چلایا۔یہ ان کا ہی کمال تھا۔ملک مےں اور خصوصاً پی پی پی کارکنان مےں جذبات کی شدت تھی۔مگر انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا ۔اور کارکنان کو حوصلہ دیا۔پھر بے نظیر شہید کی وصیت جو ان کے پاس محفوظ تھی ۔وہ پی پی پی کے غمگساران کو دیکھا ئی اور پانچ سال تک صدارت جیسا منصب بوجھل دل کے ساتھ قبول کر کے ملک کی خدمت کی ۔اور بی بی شہید کے قتل کاکیس اقوام متحدہ اور سکاٹ لینڈ یارڈ جیسے ادروں سے تفتیش کرائی۔ا ور کارکنان کو یہ بھی بتایا کہ کہ قاتل کا پتہ ہے۔مگر یہ غم بھی پی رہا ہوں۔ وہ تو قومی خدمت مےں یکتا ہےں۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی سوئس اکاﺅنٹ مےں کروڑوں ڈالر رکھ گیا۔اور باقی جو باہر کاروبار یا کمپنیاں ہےں۔یہ بھی محنت کی کمائی کی ہےں۔ یہ نیب یا سپریم کورٹ نہےں پوچھتی تو دوسرے کسی کو کیا حق ہے کہ پوچھے۔اور دوستی نبھانا تو کوئی ا ن سے سیکھے۔اسی لیے تو راﺅ انوار کو بہادر بچہ کہہ دیا۔۔۔ہاں تو زرداری صاحب جو کہتے ہےں وہ کرتے ہےں۔انہوں نے لاہور کے جلسے مےں کہا کہ بلوچستان مےں جو چا ہا کر دیکھایا۔اور ان سینٹ کے الیکشن کے لیے بھی انہوں نے کہہ دیا تھا کہ جیت کر دیکھا ﺅں گا۔ آج جہاںدیدہ اعتزاز احسن کہہ رہے تھے کہ پی پی پی نے سینٹ الیکشن اپنی بہترکارکردگی پر جیتے ہےں ۔سبحان اللہ۔اور زرداری صاحب نے الیکشن جیت کر دیکھائے ہےں۔وہ مفاہمت کے بادشاہ ہےں ۔ اور تیسری اور اہم بات جسکی طرف چند دن قبل ایک مضمون”بڑے بھائی کا چھوٹا بھائی۔۔فاروق بھائی،فاروق بھائی“ لکھا تھا۔کہ فاروق ستار اور خا لد مقبول صدیقی کے گروپس مےں یہ جو الطاف حسین کے زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہےں۔یہ ایک ریہر سل ہے۔اور عوام کی نبض چیک کرنے کی بات ہے ۔مجھ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ۔مگر میری دانست مےں یہ جو سینٹ کے الیکشن مےں ۲مارچ کو دونوں گروپس یعنی بہادر آباد اور پی۔آئی۔بی کالونی دھڑوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔اور دوسرے دن طے شدہ فارمولے پر عمل نا ہو۔یہ با لکل فراڈاور ڈرامہ ہے۔یہ حقیقت مےں پہلے سے مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری اور الطاف حسےن کا ایک اندرونی ایریجمنٹ تھا اور ہے۔اور فاروق ستار کا یہ کہنا کہ ہمارے چودہ ممبران بکے ہےں یہ بھی اس ڈرامے کا ایک حصہ ہے۔اس لیے کہ آصف علی زرداری کا پھولے نا سمانا اور بار بار یہ کہنا کہ سینٹ مےں کامیابی ہماری ہے۔آخر کس امیدپر ۔۔یہ صرف الطاف حسین کے ساتھ کی گئی انڈر سٹینڈگ ہے اور تھی ۔کہ یہ ناٹک رچاﺅ آپ کے ممبران پی پی پی کو ووٹ دے دےں گے ۔اور آنیوالے وقت مےں ہم اور تم ایسے ہی یک جان اور دو قالب ہوں گئے جس طرح۸۰۰۲ئ سے ۳۱۰۲ئ تک رہے ہےں۔جب آصف علی زرداری یہ مانتے ہےں کہ ان کے بہادر بچے کے ساتھ ۳۵ پولیس آفیسران کو قتل کیا گیا۔ تو انہےں یہ نہےں معلوم کہ وہ قاتل کون ہے۔اور مصطفےٰ کما ل جو چیخ چیخ کر ثبوت مہیا کر رہے ہےں کہ الطاف حسین را کا ایجنٹ ہے۔وہ ملک دشمن سرگرمےوں مےں ملوث ہی نہےں بلکہ عملی اقدامات یعنی قتل و غارت اور بتھہ خوری کراتا رہا ہے اور اب بھی کرا رہا ہے۔اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ مےں کھیل رہا ہے۔تو کیا اس مےں یہ سب برابر کے شریک نہےں۔اور اقتدار کی خاطر ملک دشمنوں کو پال رہے ہےں ۔کل کلاں یہی لوگ کچھ ناکچھ توجیحات پیش کر کے اسی الطاف حسین کو واپس لا کر سینے سے لگائےں گئے۔اور یہ جو کچھ آج کل کراچی مےں ہو رہا ہے یہ صرف ڈرامے ہےں۔اور ہماری یہ نام نہاد بڑی پارٹیاں بھی ان کا حصہ ہےں۔ورنہ کچھ تو منہ کھولےں ۔مگر سب نے چپ سادھ رکھی ہے۔جو یقینآ ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔سینٹ کے ا لیکشن مےں مسلم لیگ ن کو اکثریت ملی ہے۔ اور جماعتی اراکےن یکجا رہے۔یہ مسلم لیگ ن کے لیے باعث اطمینان اور دوسروں کے لیے ایک دھچکا ہے۔۔بے شک کوششےں جاری رہےں گی۔مگر آثار بتا رہے ہےں ۔کہ ۸۱۰۲ئ کے جزل الیکشن کے رزلٹ بھی یہی ہوں گے۔پی پی پی سندھ مےں کچھ مشکلات کے باوجود زیادہ سیٹےں لے لے گی۔پی۔ٹی۔آئی کو ایم ۔ایم۔اے کا کے۔پی مےں سامنا ہو گا اور معمولی ایج حاصل رہے گا ۔پنجاب مےں پیَ۔ٹی۔آئی پہلے سے معمولی بہتر پرفارم کرے گی۔اور ن لیگ باوجود تمام آزمائشوں اور زیر عتاب آنے کے پنجاب مےں پہلے سے بھی بہتر کارکردگی دیکھائے گی۔اور مرکز مےں حکومت بنائے گی۔یہ صرف ایک تجزیہ ہے اس سے سو فیصد اختلاف کیا جا سکتا ہے۔البتہ چند ماہ بعد یہ سب عوام کے سامنے ہو گا۔اس لیے کہ عوام پہلے سے زیادہ معاملات جانتے اور سمجھنے لگے ہےں۔۔۔اللہ پاک ملک کی بہتری اور خوشحالی کے لیے اسباب مہیا کرے۔ امےن۔ثم آمےن۔   

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم