بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

کرپشن"بطور مضمون ۔۔۔عابد صدیق"

    ’’کرپشن ‘‘ بطور مضمون       راولپنڈی سے مظفر آباد جاتے ہوئے میری ساتھ والی سیٹ پر راجہ اکرام اللہ بیٹھے تھے۔ تعلیم کے محکمہ میں مدت سروس پوری کر کے اب پنشن کے حصول کیلئے جدو جہد میں مصروف تھے اور بقول ان کے صرف اسی مقصد کے لیے یہ مظفر آباد ان کا ساتواں چکر تھا ۔ دوران سفر بڑی دلچسپ گفتگو سے وہ محظوظ کرتے رہے ،ا ن کا کہنا تھا کہ اب کرپشن اور بد دیانتی میں بھی’’ دو نمبری ‘‘ آگئی ہے۔ پہلے اگر کسی سرکاری ملازم کو کسی کام کی غرض سے ایک سو روپیہ بھی دیتے تھے تو ا س کے بھی اپنے کچھ اصول ہوتے تھے۔پہلی بات یہ ہے کہ وہ جس کام کیلئے یہ ’’اجرت ‘‘ لینے کا ارادہ رکھتا تھا وہ کام کی تکمیل سے قبل وصولی کبھی نہیں کرتا تھا ، ہاں اگر جیسا کہ یہ طریقہ کار اب بھی رائج ہے کہ دیگر اضلاع سے مظفر آباد آنے والے لوگوں کو بعض دفعہ وہاں ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے ا س لیے وہ ایڈوانس ادائیگی کر دیتے ہیں لیکن ان اہلکاروں کے جو ایڈوانس ’’اجرت‘‘ لیتے تھے علیحدہ سے کچھ اصول بنا رکھے تھے۔ وہ جس کام کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ( جائز و ناجائز) ایڈوانس پیسے لیتے تھے وہ اس وقت تک بطور امانت اپنے پاس رکھتے تھے جب تک وہ کام پورانہیں ہو جاتا بلکہ ایسا بھی ہو تا رہا ہے کہ اگر وہ اہلکار کام نہ کروا سکا تو وہ رقم شکریہ کے ساتھ رقم واپس کر دیتا تھا اور شرمندگی بھی محسوس کر تا تھا ۔ پیسے دینے والے کو بھی سو فیصد یقین ہوتا تھا کہ اس کا کام ہو جائیگا لیکن اگر نہ بھی ہو سکا تو کم از کم ’’رشوت‘‘ کی غرض سے جو رقم دی گئی ہے وہ واپس مل جائیگی۔ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ کام نہ ہو ، یوں تو راجہ اکرم اللہ نے یہ عمومی تاثرات کا اظہار کیا لیکن مجھے خود ایسے بہت سارے واقعات یا دآ گئے کہ واقعی کسی کام کیلئے سفارش یا رشوت کا معروف اصول اپنایا جا تا تھا تو اس کا رزلٹ بھی نکلتا تھا لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ سفارش یا رشوت کے بغیر آپ کا کوئی کام ہو نا گویا کہ کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن اب سفارش اور رشوت کے معروٖف اصول اپنا کر بھی آپ منزل نہیں پا سکتے ، آپ کسی کو ر شوت کے پیسے دے کر یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا کام ہو جائے گا، آپ کے دئیے ہوئے پیسے وہ اہلکار امانت کے طور پر رکھنے کا طریقہ بھی بھول گیا ہے ، اب وہ پیسے بھی خرچ کر دے گا اور کام بھی نہیں ہو گا ۔ رشوت اور سفارش کے بغیر آپ کی ’’فائل‘ کچھوے کی مانند سفر کرتی رہے گی اور بلا آخر ایک جگہ پہنچ کر رک جائیگی ، بغیر رشوت ، سفارش کے آپ کی فائل جس اہلکار کے پاس جاتی ہے تو اس کے معروف سے جملے ہوتے تو تقریباً ہر جگہ ایک ہی جیسے ہیں ’’ آپ کی فائل مکمل نہیں ‘‘ ’’صاحب ابھی ابھی اُٹھے ہیں ہسپتال میں کسی عزیز ہ کو دیکھنے گئے ہیں‘،‘’’ صاحب میٹنگ میں ہیں ‘‘یہ جملے تو 12بجے دن سے پہلے کے ہوتے ہیں ، 12بجے کے بعد آپ کو یہ جملہ سننے کو ملیں گے ’’صاحب نماز پڑھنے گئے ہیں ‘‘ ’’صاحب بچوں کو سکول سے گھر چھوڑنے گئے ہیں‘‘ ’’گھر میں کوئی مہمان آئے تھے ، اس لیے سویرے چلے گئے ہیں، اب صبح آ جائیں‘‘ ، لیکن جب رائج الوقت دستو ر پر عمل کرکے آپ فائل آ گے بڑھاتے ہیں تو یہ جواب ملتاہے ’’ آپ باقی کام کرکے ایک گھنٹہ بعد آئیں آپ کا کام ہو جائیگا ‘‘ ’’صاحب نکل گئے ہیں لیکن کوئی بات نہیں ، میں گھر سے دستخط کروا دوں گا‘‘۔اکثر اوقات یہ جملے سچ بھی ہوتے ہیں لیکن زیادہ فریب ہی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان جملوں کے عوض نذرانہ تو وہ وصول کر لیتے ہیں لیکن پھر خود ہی غائب ہو جاتے ہیں ، اب تو وہ جملے بھی سننے کو نہیں ملیں گے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ ہی بدل چکا ہے ، مخصوص طبقات نے عملاً ان ساری جگہوں کو اپنے کنڑول میں لے رکھا ہے جہاں سے آمدن کا کوئی ذریعہ ہو ، نائب قاصد سے لے کر گریڈ 17تک تقرریاں دو طرح سے کی جاتی ہیں ، آپ نے بھاری رقم ادا کی، یا پھر آپ کی سفارش مضبوط ہو۔جب سفارش اوررشوت کے بل بوتے پر کوئی اہلکار تعینات ہو گا تو آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ رشوت لیے بغیر آپ کا کام کر دے گا ، اس نے تو وہ رقم پوری کر نی ہے جو وہ دے کر یہاں تک پہنچاہے ، آج بھی اگر کسی سرکاری دفتر میں کوئی اہلکار میرٹ پر کام کرتاہے تو اس کیلئے یہ کہا جاتاہے کہ’’ بچارے کو دنیا کی ہوا ہی نہیں لگی ، شریف آدمی ہے‘‘ اور یہی الزام لگا کر اسے مختلف محکموں میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک معروف اصول ہے کہ آپ کوئی بھی کام پڑھے ، سیکھے یا تجربے کے بغیر اس کی روح کے مطابق نہیں کر سکتے ۔ اب معاشرے کے اندر یہ برائی اس قدر پھیل چکی ہے کہ حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ اسے دو ر کر سکے کیونکہ وہ خود اسی طریقے سے آئی ہوتی ہے ، بس اس نسل پر اگر یہ احسان کر دیا جائے کہ’’ کرپش بطور مضمون‘‘ نصاب سازی کا حصہ بنا دیا جائے تو کم ازکم اس کے کچھ اصول طے ہو جائیں گے اور رشوت لینے اور دینے ، سفارش کروانے اور کرنے کا کوئی فارمولہ بھی اپنا لیا جائیگا ، بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سرکاری طور پر یہ طے کر لیا جائے کہ کس مقصد کیلئے کتنی رشوت یا کس سطح کی سفارش انتہائی ضروری ہے ، اس سے دونوں فریقیین کو کوئی بہت زیادہ بارگین نہیں کر نا پڑیگا ، یوں یہ بھی طے ہو جائیگا کہ جو رشوت دے گا یا سفار ش کروائے گا ا س کا کام سوفیصد ہو جائے گا ،درخواست گذار کی بھی تشفی ہو جائے گی۔