بدھ 15  اگست 2018ء
بدھ 15  اگست 2018ء

نعیم بٹ! شہادت کی مبارک ہو.....قمر رحیم

سیز فائر لائن پر گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری گولہ باری سے دونوں طرف ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر جموںکشمیر لبریشن فرنٹ نے ۶۱ مارچ ۸۱۰۲ءکو تتہ پانی سے مدارپور تک امن مارچ کیا۔یہ پرامن مارچ تھالیکن حکومت نے نا معلوم وجوہ کی بنا پر پہلے آنسو گیس کی بے تہاشہ شیلنگ کی اور بعد ازاں براہ راست فائرنگ شروع کر دی ۔جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے جن میں سے نعیم بٹ جو شدید زخمی حالت میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے آج ۱۲ مارچ کو انتقال کر گئے۔ نعیم بٹ کا تعلق راولاکوٹ کے مضافاتی گاو¿ں چھوٹاگلہ سے تھا اور وہ لبریشن فرنٹ کے متحرک کارکن تھے۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات کو بلند کرے اور ورثا کو صبر جمیل عطا کرے۔ اس واقعہ کے عینی شاہد،جن میں سینئر صحافی بھی ہیں،کا کہنا ہے کہ پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ بلا جواز تھی۔ اور وہ انتظامیہ کے اس عمل پر حیران ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ اس امن مارچ کی حمائت کی جاتی ، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو ا س کی کورنگ کے لیے مدعو کیا جاتا تاکہ عالمی سطح پر بھارت پر دباو¿ ڈالا جاسکتا۔ لیکن سوائے ایک آدھ چینل کے جس نے اس مارچ کی مختصر خبر نشر کی ، پورے الیکٹرانک میڈیا نے اس مارچ کو بلیک آو¿ٹ کیا ۔ جبکہ دو طرفہ گولہ باری کی خبریں میڈیا میں مسلسل نشر اور شائع کی جاتی ہیں۔میڈیا کے اس روّیہ کا براہ راست نقصان ریاست پاکستان کو ہو رہا ہے۔ جسے کوئی بھی سمجھنے یا ماننے کو تیار نہیں۔خود ”آزاد“حکومت کا اس مارچ پر ردّعمل اس قدر غیر ذمہ دارانہ بلکہ احمقانہ اور جارحانہ تھا جس کے عشرِ عشیر کی بھی گنجائش نہ تھی۔حکومت نے یہاں تک ہی بس نہ کیا بلکہ وزیر اعظم نے دودن بعد نکیال میںجلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تمام آزادی پسند جماعتوں پر لعن طعن کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جڑ یں اکھاڑ پھینکیں گے۔ انہوں نے بلا تفریق تمام آزاد ی پسند جماعتوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ مہاراجہ پرست ہیں اور اسے اپنا رشتہ دار مانتے ہیں۔حالانکہ آزادکشمیر کا ادنیٰ سیاسی کارکن بھی سمجھتا ہے کہ مہاراجہ پرست کون لوگ ہیں اور ان کا ایجنڈا کیا ہے۔وزیر اعظم نے اس تقریر میں جو جارحانہ انداز اور زبان استعمال کی ،وہ قابل افسوس ہی نہیں باعث شرمندگی بھی ہے۔لیکن یہ سب کچھ ہمارے لیے باعث حیرت ہر گزنہیں ہے۔اس لیے، کہ فاروق حیدر کی جھولی میں لاکھ ”منّتوں اور ترلوں“ کے بعد جب ن لیگ آزادکشمیر کی بھیک ڈالی گئی تو ان کے تیور بدل گئے۔پھر ۶۱۰۲ءکے الیکشن میںجب انہیں دوتہائی اکثریت حاصل ہونے پر وزیر اعظم بنا دیا گیا تو وہ ”آزاد“ کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ بن گئے۔انہوںنے اپنے دروازے ن لیگی کارکنوں کے لیے بند کردیے اسمبلی ممبران اور وزرا¿ کو ان کی ”اوقات “ دکھانے لگے اورعوام کو لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیا۔اس پر اپوزیشن کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا سوائے اس کے کہ پیپلزپارٹی تعلیمی پیکیج کے ختم کیے جانے پر عدالت میں گئی ، جہاں اس کے حق میں فیصلہ ہوا۔البتہ حکمران جماعت کے اندر عدم اطمینانی ضرور پیدا ہوئی اور ہیڈ آفس میںشکایتوں کا انبار لگ گیا۔اس پر ان کی باز پرس کی گئی اور وہ رودھو کر اپنا معافی نامہ قبول کروانے میں کامیاب ہو گئے۔لیکن ان کے دامن پر ایک داغ ابھی باقی تھا۔وہ داغ یہ تھا کہ آزادی پسند جماعتیں انہیں ان کے ہم عصر سیاستدانوں سے بہتر سمجھتی تھیں۔اس کا مظاہرہ اس وقت بھی ہوا جب انہوں نے political milage حاصل کرنے کے لیے یہ افواہ پھیلائی کہ کشمیر کونسل ختم کی جارہی ہے تو آزادی پسند جماعتوں نے ان کے اس اقدام کو ایک مخلصانہ کوشش سمجھتے ہوئے سراہا۔ آزادی پسندحلقوں سے کسی بھی طرح کی قربت چونکہ ان کے لیے نقصان دہ تھی اس لیے انہوں نے یہ داغ نعیم بٹ شہید کے خون سے دھو کر اپنا دامن صاف کر لیا۔مگروہ یہ بات بھول گئے کہ ایسے اعمال کا بدلہ سوائے ذلّت و رسوائی کے کچھ نہیں۔گذشتہ الیکشن میں ، جب لوگ پاکستان میں ن لیگی حکومت کے باعث آزادکشمیر میں بھی ن لیگ کو مینڈیٹ دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ پورے آزادکشمیر میں واحد فاروق حیدر تھے جو اپنی سیٹ کے بارے میں غیر یقینی کا شکار تھے۔ اسی لیے انہوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا۔آنے والا الیکشن تو بہت دور ہے، اپنے دور میں ہی وہ اپنی پھرتیوں کا حساب دینا شروع کر لیں گے۔وہ دامن جو شروع دن سے دوسروں کے سامنے پھیلا ہوا ہو ، اگر ناحق خون سے بھی رنگ لیا جائے تو انجام کی خبر کے لیے کسی نجومی کی خدمات کی ضرورت نہیںپڑتی۔یہ تو دنیا کی زندگی تک ہے۔ موت کے وقت حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ نعیم بٹ کے خون سے رنگا ہوا فاروق حیدر کا یہ دامن پکار پکار کر دنیا کو دکھا رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں گلاب سنگھ اور ہری سنگھ کا وارث کون ہے۔ اور وہ یہ بھی دکھا رہا ہے کہ سردار شمس خان ، ملّی خان سے لے کر مقبول بٹ اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہدا¿ کا وارث کون ہے۔ہم نعیم بٹ ، ا س کے والدین ، بیوہ ، بھائیوں ، خاندان کو اس وراثت اور نسبت کا حقدار ٹھہرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔موت ایک اٹل حقیقت ہے ، ایک لمحہ آگے ہو سکتا ہے نہ پیچھے۔ کون ہے جو شہادت کی موت کا طلبگار نہیں۔ مگر یہ تاج ہر کسی کے سر پر نہیں سجتا۔نعیم بٹ نے اپنے خاندان ، اپنے علاقے کو جو اعزاز بخشا ہے دنیا میں اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں۔ہم نعیم کی ماں کو سلام پیش کرتے ہیں جس کے بطن سے ایک شہید نے جنم لیا۔ہم اپنے عزیز کو شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہونے پہ مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھ جیسے گناہگار کو بھی شہادت نصیب کرے ۔ اٰمین۔        

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم