بدھ 24 اکتوبر 2018ء
بدھ 24 اکتوبر 2018ء

تحریک انصاف اور کلیات عامر لیاقت حسین.....ارشادمحمود

عمران خان نے معروف اور متنازعہ ٹی وی میزبان عامر لیاقت حسین کو تحریک انصاف میں شامل کیا تو بے ساختہ زبان پر اناللہ واناالیہ راجعون رواں ہوگیا۔عامر لیاقت حسین پاکستان کی صحافت میں و ہ یکتا کردار ہیں جس نے بلا رنگ ونسل و مذہب ہر ایک کی پگڑی اچھالی۔ مخالفین کے خلاف ذلت آمیز پروپیگنڈا کیا۔ انہیں رسوا کرنے کے لیے ٹی وی چینل کا بے دریغ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کیا۔ ٹھوس شواہد کے بنا لوگوں کو امریکی اور بھارتی ایجنٹ کا خطاب دیتے ۔معمولی معمولی باتوں کا بتنگڑ بناکر اپنی اور چینل کی ریٹنگ بڑھاتے۔ مذہب کا بھی انہوں نے ذاتی مقاصد کے لیے بھرپور استعمال کیا۔  گزشتہ برسوں میں عامر لیاقت حسین نے جو کچھ کہا او رلکھا وہ ایک غیر متوازن اور متلون شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ خاص طورپر گزشتہ دو تین برسوں میں انہوں نے سیاست اور صحافت کے میدان میں پے درپے قلابازیاں کھائیں۔ عسکری اداروں کے خودساختہ ترجمان بھی بنے۔اسلام اور پاکستان کا ٹھیکہ اٹھانے کے بعد ہر کسی کو نیزے پر رکھنا جائز ہی نہیں بلکہ فرض عین سمجھ لیاجاتاہے۔انہوں نے بھی اسلام اور حب الوطنی کا خوب استحصال کیا۔ دوبارہ ایم کیوایم میں بھی شامل ہوئے لیکن ذرا سا دباو¿ آیا تو روتے بھاگتے پارٹی سے نکل گئے۔ایک رات رینجرز کی حراست میں رہنے کے نتیجے میں ان پر انکشاف ہوا کہ الطاف حسین او ر ان کی پارٹی ہندوستانی ایجنٹ ہے۔ غرض یہ کہ عامر لیاقت حسین نے زبان اور بیان کے ایسے جوہر دکھائے کہ ایک پوری کلیات مرتب ہوسکتی ہے۔ عامر لیاقت حسین کافی عرصے سے تحریک انصاف میں شامل ہونے کے آرزومند تھے ۔ بیدار مغزپارٹی کارکنوں او ررہنماو¿ں نے ڈٹ کر مزاحمت کی اور انہیں پارٹی میں شامل نہ ہونے دیا۔ عمران خان بھی اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔کئی ماہ بعد انہوں نے عامر لیاقت حسین کو پارٹی میں شامل کرلیا ۔حالانکہ عامر لیاقت کی طرح کے کرداروں کی صحت مند معاشروں میں حوصلہ شکنی کی جاتی ہے نہ کہ قومی سطح کے لیڈر انہیں بغل میں بیٹھا کر ان کے کارناموں کی ستائش کرتے ہیں۔ اس طرزعمل سے یہ پیغام ملتاہے کہ سیاسی لیڈروں کو اچھے اور برے کی تمیز ہے اور نہ فکر۔ انہیں مخالفین کے لتے لینے کے لیے پیادے درکار ہیں۔ جو بھی شخص اس کام میں تاک ہوگا وہ ”بادشاہ سلامت“ کے دربار تک نہ صرف رسائی پائے گا بلکہ اسے عزت واکرام سے بھی نواز جائے گا۔  قبل ازیں عمران خان نے خیبر پختون خوا میں مولانا سمیع الحق کو سینٹ کا ٹکٹ دیا ۔ حضرت کو دنیا میں ”فادر آف دی طالبان“ کے نام سے شناخت کیا جاتاہے۔مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو قومی دھارے میں لانے کی خاطر مالی وسائل فراہم کرنے کی حدتک بات سمجھ میں آتی ہے لیکن سیاسی اشتراک سمجھ سے بالاترہے۔  سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی داخلی سیاست بارے میں فیصلہ سازی کا میکانزم کیا ہے؟ جس طرح کے فیصلے آرہے ہیں ان سے قیاس کیا جاسکتاہے کہ عمران خان کو زمینی حقائق کا پوری طرح ادراک نہیں۔ وہ عوامی موڈ کا درست انداز ہ نہیں کرپاتے۔ ان کے گرد ہجوم کیے ہوئے لیڈرز انہیں عام لوگوں، رائے عامہ کے نباض اور سیاسی حرکیات کے ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ہی فراہم نہیں کرتے۔ تحریک انصاف کی اٹھان نوجوان اور خواتین کے حلقے میں مقبولیت سے ہوا لیکن رفتہ رفتہ یہ پارٹی بھی کھسے پٹے سیاستدان کا ایک کلب بنتی گئی۔ اب اگلی صفوں میں موجود لوگ پر نظر پڑتی ہے تو امیدیں دم توڑ جاتی ہیں اور طبیعت اچا ٹ ہوجاتی ہے۔ ٹھیک ہے کہ عمران خان بدعنوان نہیں لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ بدعنوان کے ہجوم نے گھیرے ہوئے ہیں۔ گنتی کے چند مختلف چہروں کے سوا اب اس پارٹی اور باقیوں میں امتیاز کرنا محال ہوچکا ہے۔ چند دن قبل پشاور جانا ہوا ۔سارا شہر کھودا ہوا پایا۔ شہر میں میڑو بس کی تعمیر کا غلغلہ ہے۔ میڑو بس کئی جاکر الیکشن کے بعد رواں دواں ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر میڑو بنانا ہی تھی تو وقت پر بناتے۔ آج شہر میں چمکتی دھمکتی بسیں لوگوں کو نظر آتیں تو وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو دعائیں دیتے۔اب تو میدان سج چکا ہے اور چند ماہ بعد عام الیکشن کا معرکہ برپاہونا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ الیکشن کے دنوں میں پورا شہراکھاڑ نے کا مشورہ کسی سیاسی پنڈت نے دیا۔ عمران خان نے رابطہ عوام مہم کاجو سلسلہ آج کل شروع کیا وہ کوئی دوسال قبل شروع کرنے کا تھا۔گزشتہ پانچ برسوں میں تنظیم سازی کو وقت نہیں دیا گیا۔ ساری پارٹی دھرنے اور پھر نوازشریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے پر لگی رہی۔ مقابلہ آن پڑا تو پتہ چلا کہ جہانگیر ترین کے صاحبزادے تک اپنی نشست ایک عام سے مقامی نو ن لیگی لیڈر کے ہاتھوں گنوا بیٹھے۔ کراچی شہرمیں سینکڑوں سیاسی لیڈر اور کارکن بستے ہیں۔و ہ تبدیلی کے جذبوں اور امنگوں سے سرشار ہیں۔کوئی ان سے رابطہ کرتا۔ دعوت تو دیتا لیکن معاشرے کے فعال طبقات کو چھوڑ کر عمران خان عامر لیاقت حسین کے ہمراہ تبدیلی کا لانگ مارچ کرنے جارہاہے ہیں۔ پنجاب جہاں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں 148 پر براہ راست الیکشن ہونا ہے وہاں بھی الیکشن کی تیاری نظر نہیں آتی۔راولپنڈی ‘جہاں عمران خان نے نہ صرف خود الیکشن جیتا بلکہ ان کی حمایت سے شیخ رشید احمد بھی فتح یاب ہوئے۔اب ایسا لگتاہے کہ حالات بدل چکے ہیں۔شیخ رشید احمد ٹی وی شوز میں گیپ شپ کے لیے مناسب شخصیت ہیں۔ حکمران جماعت کو للکارتے ہیں ۔جرا¿ت سے اظہار رائے کرتے ہیں لیکن شہر کے اندر ان کا اثر ورسوخ لگ بھگ دم توڑ چکا ہے۔ان کی سیاسی کامیابیوں کے پس منظر میں ضیاءالحق، نوازشریف اور پرویز مشرف کا انتظامی ڈھنڈا اور عمران خان کی مقبولیت کارفرمارہی ۔ اگر نون لیگ کے قومی سلامتی کے اداروں سے تعلقات بہتر ہوجاتے ہیں تو شیخ رشید احمد نہ صرف اپنی نشست ہار جائیں گے بلکہ پورے راولپنڈی ڈویژن سے پی ٹی آئی کا بوریا بستر گھول ہوسکتاہے۔ شہبازشریف کے بیانات اور لابنگ سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ ”راولپنڈی“ کے ساتھ تعلقات کار کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ شہباز شریف یہ یقینی بنانا چاہتے ہیںکہ اگر ان کی جماعت کی پشت پناہی نہیں کی جاسکتی تو کم ازکم نون لیگ کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔سب کو الیکشن لڑنے کے یکساں مواقع دستیاب ہوں۔  عمران خان کو پنجاب کی انتخابی سیاست پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اگر وہ اگلے الیکشن میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافہ چاہتے ہیں۔ جہانگیر ترین، چودھری سرور اور شاہ محمود قریشی کی طرح کے لوگ پنجاب کی سیاست اور خاص طور پر دہی علاقوں کی سیاست کے نشیب وفراز سے واقف ہیں۔انہیں متحرک اور بااختیار بنایاجائے تاکہ وہ پارٹی کی کامیابی کا کوئی راستہ نکالیں۔