جمعرات 21 جون 2018ء
جمعرات 21 جون 2018ء

مشرف وطن واپسی۔۔۔۔غزالہ حبیب

      زندگی کے اس طویل سفر میں جہاں ملکوں ملکوں گھومنے کا موقع ملا وہیں بھانت بھانت کے لوگوں سے شناسائی بھی ہوئی۔اپنے کشمیری تشخص اور پاکستان سے محبت کے پرچم کا علم بلندکئے میں ہر جگہ کشمیر دوست اور پاکستان کے بہی خواہوں کو کھوجتی رہی۔آج بھی دیارِ غیر میں ہونے کے باوجود مجھے امریکہ سے زیادہ پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کی فکر ہے۔ وہاں سے زیادہ یہاں کا انتہائی تیزی سے بدلتا ہوا سیاسی منظر نامہ مجھے آسودہ نہیں ہونے دیتا۔امریکہ میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رویوں سے زیادہ مجھے پاکستان میں ہونے والے معصوم بچوں کی لرزہ خیز داستانیں رات کو سونے نہیں دیتیں۔صرف یہی نہیں بلکہ ایک عرصہ سے وطن عزیز کی بگڑتی ہوئی صورتحال چاہیے وہ معیشت کے حوالے سے ہو یا امن وعامہ کے حوالے سے ، حکومت ہو یا سیاست مسلسل ایک ذہنی تناﺅ کی صورت میں اعصاب پر مسلسل بوجھ بن چکی ہے۔اور آجکل تو ہر مسئلہ میں مریم نواز کی تقریباً ہر تقریر میں ، ہر دوسرے ٹی وی چینل کے ہر دوسرے ٹاک شومیں جنرل پرویز مشرف کی گرفتاری کے مطالبے ، انہیں انٹر پول کے ذریعے وطن واپسی لا کے جیل میں ڈالنے کی بے سروپا گفتگو ،نام نہاد دانشوروں کے مشرف صاحب کے دور حکومت کے حوالے سے بے بنیاد تنقیدی تجزیئے ایک مسلسل دردِ سر کی صورت اختیار کر چکے ہیں ۔شاید مریم نواز صاحبہ اپنے والد کی محبت میں سر شار یہ بھول چکی ہیں کہ ان کے والد کے نا اہل ہونے اور مشرف صاحب کے ملک سے باہر ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔وہ مشرف صاحب کیلئے جیل میں ڈالنے اور گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے جوش خطابت میں یہ بھول جاتی ہیں کہ مشرف صاحب ان کے والد کی طرح اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ان کے دور حکومت میں ہونے والے فیصلے اور پایہ تکمیل تک پہنچنے والے منصوبوں پر کمیشن کے لین دین کی سیاہی نے اپنے کالے رنگ کے پر نہیں پھیلائے ہوئے۔مشرف صاحب اپنے دور حکومت میں اور اس کے بعد بھی آج تک ہر فورم پر اور مختلف میڈیا چینلز پر بھارت کو ہر حوالے سے کھرے جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ایک جبری سپہ سالار اور باوقار پاکستانی قیادت کے منصب کی لاج رکھتے ہوئے انہیں نے صرف کارگل ہی نہیں بلکہ ہر سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی انڈیا کے دانت کھٹے کئے۔ جبکہ ”مجھے کیوں نکالا“؟ کے کھوجی جناب نواز شریف صاحب باوجود وزارت عظمیٰ کے منصب پر ہوتے ہوئے کلبھوشن کے خلاف ایک جملہ ادا نہ کر سکے۔اپنی رگوں میں کشمیری خون دوڑنے کا دعویٰ کرنے والی مریم صاحبہ کو کون یہ بتائے گا کہ ان کی جماعت کے دورِ حکومت میں ہی لائن آف کنٹرول کی تاریخ کی بدترین خلاف ورزیاں ہوئیں اور دونوں طرف کے جتنے کشمیری شہید ہوئے وہ تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ حتیٰ کہ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے مظفر آباد میں ہونے والی تقریب میں ،اپنے درباری راجہ فاروق حیدر اور ن لیگ کی تمام قیادت ہونے کے باوجود نواز شریف نے بھارتی غاصبوں اور بھارتی چیرہ دستیوں کی مذمت میں ایک جملہ تک کہنا پسند نہ کیا۔ آج 1937ء سے اپنی تجارتی سرگرمیوں اور کامیابیوں کا دعویٰ کرنے کشمیر نژاد نواز شریف کاش کہ ان مظلوم کشمیریوں کے خون کا سودا نہ کرتے جو اللہ تعالیٰ کے بعد صرف پاکستان کو اپنا مدد گار سمجھتے ہیں ۔کاش کہ وہ بھارت اور بھارتی لیڈران سے راہ ورسم بڑھا کر اپنی تجارت کا باغ بے بس کشمیریوں کے لہو سے نہ سینچتے۔جبکہ پرویز مشرف نے کشمیری نہ ہوتے ہوئے بھی نا صرف یہ معرکہ کارگل سر انجام دیا بلکہ اس کے بعد بھی اس مسئلہ کے مستقل حل کیلئے اپنی توجہ مرکوز کئے رکھی اور بالاخر واجپائی کے ساتھ ملکر ایک ایسا فارمولا بھی تشکیل دیا کہ جسکی رو سے دونوں طرف کے کشمیری ایک مدت کیلئے اکھٹے رہنے کے بعد ، اقوام متحدہ کی افواج کی زیر نگرانی اپنا حق خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے مستقل طور پر اپنے مستقبل کا تعین بھی خود کر سکتے ہیں۔لیکن سابق چیف جسٹس کی مہم جوئی اور سیاسی ریشہ دوانیوں کے باعث مشرف صاحب نے اپنا عہدہ برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں یہ فارمولا عملی تشکیل نا پا سکا جس کی سزا آج بھی ہم کشمیری بھگت رہے ہیں۔مریم صاحبہ کو نواز شریف اور مشرف صاحب میں یہ فرق بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صدر مشرف کے دورِ حکومت میں ان کی بیٹی صدارتی ہاﺅس میں بیٹھ کے سرکاری خرچہ پر ذاتی میڈیا سیل نہیں چلا رہی تھی بلکہ مشرف صاحب کی تمام وزراءکو ہدایت تھی کہ وہ اپنی وزارت کے حوالے سے ہونے والے تمام اقدامات کا دفاع خود کریں اور وہ بذات خود اپنی حکومت کے حوالے سے ہر جوابدہی کے لئے ہمیشہ میڈیا کو میسر رہے۔آج پرویز مشرف پر لال مسجد کے آپریشن کے حوالے سے الزامات عاید کرنے والے میڈیا پرسنز یہ کیوں بھول گئے ہیں کہ جب لال مسجد کے ڈنڈے بردار طلباءمسجد کے ارد گرد میوزک شاپس اور سی ڈیز کی دکانوں کے شیشے توڑ رہے تھے ،بر قع کے بغیر خواتین ڈرائیورز کی گاڑیوں پر ڈنڈے برسا رہے تھے تو یہی اینکرز ان کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت دینے کا ملزم ٹھہراا رہے تھے اور اس بات پر حیرانگی کا اظہار فرما رہے تھے کہ پارلیمنٹ سے اس قدر قریب ہونے کے باوجود حکومت نے کس طرح لال مسجد کے کرتا دھرتاﺅں کو اس قدر چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ سیکورٹی رسک بن چکے ہیں ایک مسجد ، اللہ کے گھر سے اسلحہ بردار طلباء وطالبات کی گرفتاریاں کسی فاتر العقل پر بھی یہ واضح کر سکتی ہے کہ اس عبادت گاہ کو صرف عبادت ہی نہیں بلکہ دیگر مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا تھا اور اس پر حکومتی رٹ کا نفاذ پرویز مشرف کا گناہ نہیں بلکہ بحیثیت صدر ملک وقوم ان کی ذمہ داری تھی۔مریم نواز صاحبہ اپنی تقاریر میں مشرف صاحب کو گرفتار کر کے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ فراموش کر چکی ہیں کہ پرویز مشرف کوئی معافی نامہ پیش کر کے ، دس سال یا تمام عمر سیاست میں حصہ نہ لینے کا وعدہ کر کے اور سعودی عرب شہزادوں سے التجائیں کر کے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں بلکہ وہ علاج کی غرض سے ملک سے باہر مقیم ہیں اور اپنی ہر گفتگو میں وہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ جلد ہی اپنے عزیز وطن ”پاکستان “ واپس لوٹیں گے اپنے خلاف مقدمات کا عدالت میں سامنا کریں گے اور اپنے روز اول کے نعرہ ”سب سے پہلے پاکستان “ کے حوالے سے منظم کردہ اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کرتے ہوئے بھر پور طریقے سے سیاسی عمل میں حصہ لیں گے۔ اور اس حوالے سے پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں اے پی ایم ایل کے کارکنا ن ڈاکٹر امجد کی سیاسی بصیرت اور قیادت کے ہمراہ اپنے محبوب قائد پرویز مشرف کی وطن واپسی کے شدت سے منتظر ہیں۔آج نواز شریف کو نظریہ کا نام دینے والی مریم صاحبہ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میاں صاحب کا نظریہ صرف ”نظریہ ضرورت“ تھا کہ کہاں ،کب اور کس طریقے سے غریب عوام کا لہو چوس کے مال بنایا جائے جس پر ان کے رفقائے کار نے آنکھ بند کر کے پیروی کی جس کا اندازہ روزانہ نیب کے نئے کھلتے ہوئے کیسز سے کیا جا سکتا ہے جبکہ مشرف صاحب کا صرف ایک ہی نظریہ تھا جو کہ ہر محبت وطن پاکستانی کا ہونا چاہیے”یعنی سب سے پہلے پاکستان“آج پرویز مشرف کے خلاف بولنے والے در اصل ان کی وطن واپسی سے خائف ہیںکیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کا حافظہ اتنا کمزور نہیں انہیں یاد ہے کہ سید پرویز مشرف کی حکومت ہی میں جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے پہلی دفعہ نجی ٹی وی چینلز کو نشریات کی اجازت دی گئی ، صحافیوں اور اخباروں پر کبھی بھی کسی قسم کی قدغن نہیں نہیں لگائی گئی اور نہ ہی انہیں اشتہارات کی فراہمی کے حوالے سے بلیک میل کر کے اپنی مرضی کی خبر یں چلانے پہ مجبور کیا گیا۔سیاسی ایوانوں میں خواتین کیلئے نمائندگی مختص کی گئی۔دفاعی کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ، ٹیلی مواصلات کے شعبہ میں بے تحاشہ ترقی ہوئی۔مزدوروں اور کسانوں کیلئے آسان قرضے متعارف کرائے گئے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کو استحکام بخشا گیا آج پھر پاکستان کے عوام اپنے دلیر لیڈر اور محب وطن قائد کی وطن واپسی کے منتظر ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ کا خالق ہی پاکستان سے سب سے زیادہ مخلص ہے۔