بدھ 24 اکتوبر 2018ء
بدھ 24 اکتوبر 2018ء

کارکنوں کے خون سے قیادتوں کا کھلواڑ ....تحریر:حارث قدیر

ریاست جموں کشمیر میں پر امن، آزاد اور خوشحال زندگی کے حصول کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی ایک لمبی تاریخ ہے.  نوجوانوں، محنت کشوں اور سیاسی کارکنان کی ایک ان گنت تعداد جدوجہد کے اس سفر میں جانوں کے نذرانے پیش کر چکی ہے لیکن آزادی کی منزل قریب آنے کی بجائے مزید تفاوت اختیار کرتی جا رہی ہے. آزادی اور انقلاب کی تڑپ میں گزشتہ 70 سال کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوجوان اور محنت کش قربان ہو چکے ہیں لیکن اگر کوئی فائدہ ہوا تو محض نام نہاد قیادتوں کو جنہوں نے پر تعیش زندگیاں حاصل کیں اور دونوں قابض ریاستوں سے مراعات حاصل کی گئیں. دوسری جانب ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور نچلے درجے کے قائدین نے اپنی زندگیاں تیاگ دیں اور اب مایوسی اور بدگمانی کی اندھی گہری کھائیوں کے علاوہ انکی زندگیوں کا کوئی حاصل نظر نہیں آرہا ہے.  ریاست کے سینے پر کھینچی گئی خونی لکیر کے آر پار افواج کی فائرنگ سے ہونیوالے جانی و مالی نقصان کے ازالے اور قریبی آبادیوں کی پر امن زندگی کے حصول کے مطالبات لئے قوم پرست تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک گروپ)  کی جانب سے دی گئی کال پر لبیک کہتے ہوئے ناصرف جے کے ایل ایف اور ایس ایل ایف بلکہ دیگر تنظیموں اور لبریشن فرنٹ کے دیگر گروپس کے کارکنان نے بھی ایک بڑی تعداد میں کنٹرول لائن کی جانب  مارچ میں شرکت کی. شرکاء مارچ اور پولیس کے درمیان سہر ککوٹہ پل پر تصادم کے نتیجے میں متعدد کارکنان اور پولیس اہلکاران زخمی ہوئے. گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہونیوالے ایک کارکن کی واقع ہونیوالی موت بہت سارے سوالات چھوڑ گئی ہے.  نعیم بٹ راولاکوٹ کے قریبی گاؤں چھوٹا گلہ کا رہنے والا نوجوان محنت کش تھا جو حال ہی میں بیرون ملک سے روزگار کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد واپس آیا تھا. 16 مارچ 2018 کو منعقدہ لانگ مارچ میں شریک ہوا اور گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوگیا تھا.  پمز ہسپتال اسلام آباد میں اسکا علاج جاری تھا جہاں 21 مارچ کو اسکے پاس موجود جے کے ایل ایف کے ایک رہنما ایس ایم ابراہیم ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی کہ نعیم بٹ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور اسکی حالت تشویشناک ہے. اسی روز  شام گئے اطلاع دی گئی کہ نعیم بٹ جانبر نہ ہو سکا.  22 مارچ کو نعیم بٹ کا جسد خاکی راولاکوٹ لایا گیا جہاں گیارہ بجے دن نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان کیا گیا تھا. لیکن راولاکوٹ پہنچ کر قیادت نے پوسٹمارٹم کا مطالبہ کرتے ہوئے جسد خاکی کو سی ایم ایچ راولاکوٹ پہنچایا اور سی ایم ایچ کے گیٹ کے باہر دھرنا دیدیا گیا.  قیادت کی جانب سے موت کی وجوہات پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے فائرنگ کے ذمہ داران کے تعین،  ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی پونچھ کی معطلی سمیت جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبات کئے گئے. پوسٹمارٹم کے بعد نعش سڑک پر رکھ کر شام گئے تک احتجاج کیا گیا اور ڈی آئی جی پونچھ رینج کے ساتھ مذاکرات کے بعد محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا.  جسکے مطابق عدالت العالیہ کے جج جسٹس شیراز کیانی کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن بنایاگیا جو چار نکات جن میں 16 مارچ 2018 کو سہر ککوٹہ پل واقعہ کے اسباب اور واقعات کا تعین کرنا،  واقعہ کے دوران پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور پولیس ایکشن کے اسباب اور وجوہات کا تعین، واقعہ کے نتیجے میں مضروب نعیم بٹ کی ہلاکت کے اسباب اور وجوہات، مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے تجاویز مرتب کرنا شامل ہیں، پر انکوائری کرتے ہوئے اندر تیس ایام اپنی رپورٹ پیش کرنے کا پابندہوگا. نوٹیفکیشن کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں واضح طور پر تحریر کر دیا گیا ہے کہ فائرنگ دو طرفہ کی گئی تھی. نوجوان کارکنان کی جانب  سے مذکورہ بالا نوٹیفکیشن کے بعد احتجاج ختم کرنے پر قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور اس اقدام کو قیادت کی جانب سے ایک محنت کش نوجوان کارکن کے خون کا سودا قرار دیا.  اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو خطہ کشمیر کے دونوں اطراف ایسی ان گنت مثالیں ملتی ہیں جب معصوم نوجوانوں اور کارکنوں نے صادق جذبوں اے جانوں کے نذرانے پیش کئے لیکن انہیں قیادتوں کی نظریاتی، سیاسی غداریوں اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا. وادی کشمیر میں گزشتہ میں 70 سال سے جاری تحریک میں مقبول بٹ شہید سے اشفاق مجید وانی اور برہان الدین وانی تک ایک لاکھ سے زائد سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں نے جانیں قربان کیں لیکن 39 پارٹیوں پر مشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادتیں مشترکہ طور پر ان قربانیوں کے ثمر سے تو فیضیاب ہو رہی ہیں لیکن وادی میں بھارتی ریاستی جبر بدستور نوجوانوں اور محنت کشوں کی زندگیوں کو اجیرن کئے ہوئے ہے اور جس مقصد کے لئے قربانیاں دی گئیں وہ ہنوز دور ہے.  ریاست کی دوسری جانب پاکستانی کشمیر میں بھی آزادی اور انقلاب کے نام پر ان گنت جوانیاں قربان کی گئی ہیں لیکن نظریات سے عاری قیادتیں ایک طرف سامراجی ممالک کی آشیرباد میں ان قربانیوں کا سودا لگا کر عیاشیوں کا سامان کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب نوجوانوں کیلئے واضح مستقبل کا راستہ اور طریقہ کار متعین کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہیں.  نوجوانوں کو درست سائنسی نظریات سے لیس کئے بغیر،  واضح تناظر تخلیق کرتے ہوئے ٹھوس، جامع حکمت عملی کی حامل اجتماعی قیادت کو تراشے بنا کوئی بھی آزادی اور انقلاب کی لڑائی نہ تو ماضی میں کبھی جیتی گئی اور نہ ہی مستقبل میں کبھی فتح مند ہو سکتی ہے.  نظریات کی بنیاد پر تربیت کے فروغ کے بغیر سیاست محض چند شخصیات کے ذاتی اور گروہی مفادات کا تحفظ تو کر سکتی ہے لیکن انقلاب اور آزادی کی تحریک کی قیادت کسی صورت نہیں کر سکتی. یہی وجہ ہے کہ ہمیں ماضی قریب میں ریاست جموں کشمیر کے ہر دو اطراف ابھرنے والی تحریکیں مایوسیوں اور بدگمانی کی گہرائیوں میں گرتی ہوئی نظر آئی ہیں.   آج پھر ایک معصوم نوجوان نعیم بٹ نے سچے جذبوں سے امن،  آزادی اور انقلاب کی تحریک کو اپنے خون سے سینچا ہے لیکن اس کی نعش کو سڑک پر کئی گھنٹے محض اس لئے رکھ کر اس کی بے حرمتی کی گئی کہ "لاش" کے بغیر لوگ جمع نہیں کئے جا سکیں گے اور پھر جس مقصد کیلئے نعیم بٹ نے قربانی پیش کی اسے سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر احتجاج کو ختم کر دیا گیا. یہی وجہ ہے کہ کارکنان نے قیادت کے فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کیا. ایک بار پھر مایوسی اور بدگمانی پھیلی اور قیادتوں نے ایک بار پھر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی.   مایوس و بدگمان آزادی پسند کارکنان اور نوجوان قیادتوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں،  سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعے لعن طعن کی جا رہی ہے لیکن پھر کوئی خون، کوئی قربانی، کوئی قتل آزادی اور انقلاب کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کو انہی قیادتوں کے حصار میں لاکھڑا کردے گا. ماضی کی غداریوں نے جہاں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو مایوس کیا وہاں موجودہ عہد میں اس سلسلہ کا تدارک نہ کیا گیا تو مستقبل میں جدوجہد کو منظم کیا جانا مزید مشکل ہوجائے گا. اگر تواتر کے ساتھ چلنے والی فلم کو تبدیل کیا جانا مقصور ہے تو پھر یہ پرانی ریت دہرانے کی بجائے نئے راستے، نئے طریقہ کار کا انتخاب کیا جانا مقصود ہوگا.  نوجوانوں اور کارکنوں کو قیادت اپنے اجتماعی ہاتھوں میں منتقل کرنا ہوگی لیکن اس سب کیلئے آزادی اور انقلاب کے سائنسی نظریات کی جانب رجوع کرنا ہوگا تاکہ جدید سائنسی نظریات کے علم سے لیس ہوتے ہوئے اس علم کی بنیاد پر جدوجہد کو منظم کیا جائے اور سامراجی جبر کا شکار اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو اس اجتماعی قیادت میں پروتے ہوئے سامراجی ریاستوں کو انکے ظالم نظام سمیت اکھاڑ کر انسانیت کیلئے ایک حسین مستقبل کی بنیادیں رکھی جا سکتی ہیں.