جمعرات 21 جون 2018ء
جمعرات 21 جون 2018ء

ایمنسٹی اسکیم سے کچھ بڑھ کر ۔۔۔۔ڈاکٹر وقاص علی کوثر

موجودہ حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان ایسے وقت پہ ہوا جب پاکستان کی معیشت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ورلڈبینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے بقول پاکستانی معیشت کا بڑا چیلنج بیرونی اکاونٹ خسارہ اورسیاسی اتفاق رائے کی کمی ہے۔ عام فہم میں اگر کسی ملک کی برآمدات اس کی درآمدات سے زائد ہوں تو اسے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچھلی سہ ماہی کے دوران (جولائی سے دسمبر2017) تجارتی خسارہ 18 بلین ڈالرریکارڈ کیا کیا گیا جو پچھلے سال کی نسبت25فیصد زیادہ تھا جس کی ایک وجہ سی پیک کی بدولت بھاری مشینری کی درآمد ہے۔ پاکستان کی درآمدات میں مشینری،گاڑیاں،کیمیکل،پٹرولیم، مشروبات اور برآمدات کا بیشتر حصہ ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات پرمشتمل ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی برآمدات، جو گزشتہ سہ ما ہی میں تقریبا 29 بلین ڈالرتھی، کا بیشترحصہ چین (تقریبا 17ارب)، امریکہ (2 ارب )، انڈونیشیا جاپان اور بھارت کاہے اوربرآمدات کابیشترحصہ بھی چین، امریکہ برطانیہ، جرمنی اور افغانستان کا ہے۔  پاکستان کو درپیش مسائل میں اس کی معیشت کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ تجارتی خسارہ، گرتی ہوئی برآمدات، ناقص ٹیکس نظام، نقص امن، سیاسی غیر یقینی، مہنگی بجلی، بیرونی انوسٹمنٹ کا کم ہونا، گورننس کی ابتری، بیرونی قرضہ، صنعتی ترقی کا پہہیہ جام ایسے مسائل ہیں جن کا دور رس اور دیر پا حل ناگزیر ہے اور محض ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اس کا مداوا ہر گز نہیں۔ پاکستان کی قومی آمدنی میں کم از کم اتنا اضافہ درکار ہے کہ وہ آبادی کے بڑھتے ہوے بوجھ کو برداشت کرسکے اورفی کس آمدنی کو مضبوط کر سکے۔ اس وقت پاکستان فی کس آمدنی 1629 امریکن ڈالر ہے جو تقریبا دنیا کے130 ملکوں سے نیچے ہے۔  اعدادو شمار کے مطابق ہر سال51لاکھ لوگ پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں قدم رکھ رہے ہیں جن کے لیے روزگار مہیا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوسراہم جزملک کے ٹیکس کاقومی آمدنی میں حصہ ہے جو ناقص ٹیکس نظام کی بدولت انتہائی کم ہے جس کےاثرات ہرشعبہ زندگی پر پڑرہے ہیں۔  گزشتہ دہائی سے ذیادہ امن عامہ کی صورتحال اور بجلی کے بحران نے برآمدات سیکٹر کو بری طرح مفلوج کیا جس سے ان کے ہدف کا حصول ناممکن ہو کررہ گیا۔ کراچی میں لگ بھگ ایک ہزار صنعتی کارخانے اور خیبر پختونخوان میں سینکڑوں انڈسٹریل یونٹس ٹھپ ہو گئے۔ نتیجتاً مینوفیکچرنگ سیکٹر زوال کا شکار ہوگیا۔ لوگ بیروزگار ہوئے اور خام مال کی طلب بھی کم ہو گئی۔  ملک کی معیشت کا اہم ستون بیرون ملک سے سرمایہ کاری ہے جس کا براہِ راست تعلق امن عامہ اور انوسٹمنٹ پالیسیز پر ہے۔ گزشتہ چھ مہینوں میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ایک اعشاریہ  اڑتالیس بلین ڈالر تھی جو پچھلی سہ مائی سے دو اعشاریہ نو فیصد کم ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی قومی آمدنی کے ذرائع میں برآمدات بیرونی انوسٹمنٹ اور ٹیکس کے حصول میں کمی پاکستان کی سالانہ دو اعشاریہ دو فیصد رفتار سے بڑھتی ہوئی آبادی کی  ضرورت پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔  ٹیکس ایمنسٹی سکیم ملک کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو وقتی سہارا تو دے سکتی ہے لیکن پاکستان کی معیشت کے حقیقی مسائل زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہیں۔ معیشت کے جادوگر خواہ کتنی الفاظ کی ہیرا پھیری کر لیں، زمینی حقائق بدلنے کانام ہی نہیں لے رہے۔ عالمی معیشت کا زوال پاکستان کے لیے زیادہ خوش کن نہیں۔ تقریباً 65 فیصد زرمبادلہ گلف میں موجود پاکستانیوں سے منسوب ہے اور گلف ریاستوں کی اپنی معیشت ورلڈ بنک کے مطابق آنے والے عرصہ میں دوفیصد سے زیادہ گراوٹ کا شکار رہے گی۔ لاکھوں تارکینِ وطن کی پاکستان واپسی نے ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالا۔ بیرون ملک سے آنے والازرمبادلہ پاکستان کی بیرون ملک آمدن کا تقریباً 65 فیصد ہے جس سے درآمداتی بل اور زرمبادلہ ذخائر کو قدر سہارہ ملتا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ دنیا میں بڑھتا ہوا تجارتی مقابلہ جو اب علمی ترقی کےساتھ منسلک ہے اورگلف کے اندرونی حالات کے تناظر میں پاکستان کے پاس معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے آپشنز بہت محدود ہیں۔ ان حالات میں ٹیکس سسٹم کا مربوط ہونا ناگزیرہے۔ ایف بی آر کے مطابق پاکستان کی آبادی کا محض دو فیصد ٹیکس دہندہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب کے ترقی یافتہ ملکوں فرانس میں 58 اور کینیڈا میں یہ تناسب 80فیصدتک ہے۔ براہ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس ' فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے۔  ایف بی آر جو پاکستان کا تقریباً 90 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتا ہے کے بقول 4،245,875 رجسٹر شہری تھے جن میں سے صرف 30فیصدجو تقریباً 1،310،862 لوگوں نے اپنے ریٹرن فائل کئے یہی وجہ ہے ہماری قومی آمدنی کا ایک بہت محدود حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہے جو حکومتی اخراجات ایڈمنسٹریشن امن عامہ برقرار رکھنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اسی کمزور آمدنی کی بنیاد پر پاکستان کے اکثربڑے ترقیاتی منصوبوں کیلئے حکومت کو بین الاقوامی اداروں سے ادھار کی صورتِ رقم لینا پڑتی ہے۔ ملکی تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا منصوبہ ہو جو بین الاقوامی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک ایشیین ڈویلپمنٹ بنک وغیرہ کی مالی معاونت کے بغیرمکمل ہوا ہو۔ اسی مالی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے حکومت جو ملکی یا غیرملکی اداروں سے قرضہ لیتی ہے اس کے اپنے سنگین نتائج ہیں۔ حکومت اندرونی اخراجات کیلئے سٹیٹ بنک اور پرائیویٹ بینکوں سے قرضہ لیتی ہے اوربالخصوص نئے نوٹ چھاپنے سے مہنگائی میں اضافہ اور پرائیویٹ بینکوں سے ادھار کی بدولت چھوٹے تاجروں کو قرضوں کا حصول رک جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ چونکہ بینکوں سے پیسے حکومت کے پاس چلے جاتے ہیں جسکی وجہ سے ان کیے اپنے ذخائر میں کم ہو جاتے ہیں۔ پرائیویٹ بنکوں سے ادھار لینے سے پرائیویٹ سیکٹر کو قرضہ لینے کی سہولت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے اور ملکی معیشت کا پہیہ مزید سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی ٹیکس کی کمی کا ایک اور اثر حکومت اور ملکی ساکھ پر بھی پڑتا ہے۔ محصولات وصولی کے ناقص نظام کی وجہ سے ملک  کے اندر ہسپتال، سکول، سڑکیں اور باقی ضرورت پوری کرنے کے لئے بین الاقو امی اداروں سے قرضہ جات لئے گئے جو اپنے ساتھ کڑی شرائط بھی لائے۔ پاکستان نے اپنے مقررہکردہ کوٹے سے بڑھ کر قرضہ جات حاصل کیے جسکی بدولت بین الاقوامی اداروں نے قرضے کی یقینی واپسی کیلئے بجلی گیس اور علاج سے سبسڈی اٹھانا اور ٹیکسز کو بڑھانا جیسی شرائط لاگو کیں۔ جس سے افراط زر میں مزید اضافہ ہوا اور پیداواری شعبہ کا بحران کئی گنا تک بڑھ گیا۔   موجودہ حالات کے تناظر میں دور رس حکمت عملی کےساتھ اپنے ٹیکس نظام کو بہتر اور موثر بنانےکی اشد ضرورت ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس سروسز ٹیکس کے اخیتارات ہیں جن کو موثر بنانے کی ضرورت ہے ٹیکس کے اداروں کی استعداد کاری بڑھانے کی اشد ضرورت ہے پاکستان کی کل جی ڈ ی پی میں اس وقت زراعت 20فیصد انڈسٹری 20 مینوفکچرنگ 13 اور سروس سیکٹر 58 فیصد ہے۔ ان شعبہ جات کو ٹیکس کے مربوط دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک مربوط نظام وضح کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت ہماری ٹیکس پالیسی کا دائرہ بہت محدود اوراس کاانحصارانڈسٹریل اوربرآمدات کے سیکٹرپرہے۔ زراعت سمیت متعدد دیگر شعبہ جات میں ٹکیس سے غیر ضروری استثنیٰ کی وجہ سے ملکی لیبر فورس کا 43 فیصد حصہ ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر ہو جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیز سے صنعتکاری کو فروغ نہ ملنا، ٹیکنالوجی کا فقدان کی وجہ سے ٹیکس دائرہ کار سکڑتاجارہا ہے۔ مزید برآں ٹیکس حکام کی استعدادکی کمی، ایف بی آر کے کمزور آڈٹ اور انفور سمنٹ کی وجہ سے لوگوں کے اصل اثاثوں چھان بین ایک پیچیدہ عمل بن گیا ہے۔ ان کمزوریوں کی وجہ سےلوگ اپنی اصل دولت اور اثاثے چھپا کر بچ جاتے ہیں۔  اس وقت پورے پاکستان میں ایف بی آر کے تقریباً 1700 کے لگ بھگ لوگ کام کر رہے ہیں جو کام کی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی کم ہیں جس میں کسٹم کا شعبہ بھی شامل ہے۔ ان تمام چیلنجز کی روشنی میں آنے والی یا اس حکومت کو کچھ سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ ان میں ٹیکس کا نظام اور اس پالیسی کی سیاسی اونرشپ لینی ہو گی۔ بیرونی مالیاتی اداروں پر کم سے کم انحصار کرنا ہو گا۔ پر یشر گروپ، ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، ٹیکس چھوٹ کے کلچر کا خاتمہ اور اکانومی کا مکمل اندراج ہی ہمیں اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔