هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر وقاص علی کوثر

جنگ عظیم دوم نے نہ صرف جاپان کا جزیرہ کوریا پہ پینتیس سالہ تسلط تو ڑا ،بلکہ اس کا دھڑن تختہ اتحادی افواج کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی صورت نکلا۔قابض قوتوں کی نفسیات ، اہداف، اور مقاصد مشترک ہوتے ہیں۔ کوریاءباشندوں کی جاپانی سامراج سےشکایات مثلا، استحصال، کو ریائی تاریخ اور ثقافت کی تباہی، ماحولاےتی استحصال اور وسائل پہ قبضہ ، وہ مشترک شکایات ہیں جو آج کے مظلوم اور         محکوم کی بھی کتھا ہے۔ جاپان سے جان خلاصی ہوئی تو ادھر بھی کوئی سر پھرا جالب نما انسان گاتا پھرے تھا کہ ہم دیکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ۔۔۔۔۔جو لوح ازل پہ لکھا ہے  اسی اثنا ءمیں سرد جنگ کے دو دشمن، روس اور امریکہ نے برطانوی ریت کو برقرار رکھتے ہوئے شمالی اور جنوبی کوریا کو بالترتیب اشتراکیت اور سرمایہ داری کا چورن بیچ کر کالونی کی شکل دے دی اور پھر ان کا جالب بھی لگ بھگ ہمارے جا لب کی طرح مشیت ایزدی اور مشیت بالا دست اقوام کے آگے سرنگو ں ہوا۔  ہتھیاروں سے لیس ،خطرناک ، قریباستر سال سے تقسیم شدہ جزائر کے سنگم پہ ،روائتی کالے لباس میں ملبوس جنوبی کوریا کے چونتیس سالہ کم جونگ ان اور شمالی کوریا کے صدر مون جائی ان کا لگ بھگ پندرہ سیکنڈ کا مصافحہ ہوا۔یہ مصافحہ اسی سپر پاور کے سیاسی اور سفارتی دباو پہ ہوا جو ستر برس قبل اس وقت کے سویت یونین کے ساتھ اسی جگہ دست و باہم تھی۔ ستر سال بعد یہ کسی بھی جنوبی کوریا کے سربراہ کا شمالی حصے کا پہلا دورہ تھا۔ مصنوعی دیوار کے کھو کھلے پن کا اندازہ تب ہوا جب مون جائی نے بھی اس مصنوعی لائن کو روندڈالا اور ناممکن کو ممکن کر ڈالا۔ یہ ایک خاموش پیغام تھا کہ ترقی جڑنے میں ہے۔فصیلیں جتنی اونچی ہوں گی تلخیاں اور کدورتیں کو مہمیز ملے گا۔بقا ئے نسل آدم باہمی تعاون ، کشادہ دلی، اور مثبت روائیوں پہ منتج ہے۔ تاریخ گواہ ہے نفرت نے فساد اور ہیجان جنم دیا۔ رسول اللہ نے مدینہ کے پڑوسی قبائل بنودمرا، جہا نہ اور دیگر قبائل کے ساتھ باہمی بقا اور تعاون کی بنیا د پہ معاہدے کیے۔ مسلم دورے حکومت کے سنہرے دور بارے عرب تاریخ کے ماہر البرٹ حببا ہوورانی لکھتے ہیں ،کہ عباسی دور حکومت تک باوجود محلاتی سازشوں، اندرونی لڑائیوں، اور شکست و ریخت کے، اسلامی حکومت ریاست سے بڑھ کر اسلامی دنیا میں بدل گئی جس کا اساس اس وقت کے حکمرانوں کی سیاسی حکمت عملی تھی۔ مسلمانوں نے بحیرہ روم اور بحر ہند کی تہذیبوں کے ، تاجروں، مفکروں، سکا لرز، اور محققوں، کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اسی بدولت ایک اعلیٰ کلچر مسلم دنیا کی پہچان بنا۔ عیسا ئیوں اور یہودیوں نے طب اور انصاف کی انتظام میں خدمات سر انجام دیں۔مملوک اور فاطمی دور حکومت میں تجارت، سونے اور چاندی کے کاروبار میں غیر مسلم لوگوں کا سکہ چلتا تھا۔ مسلم دور حکومت کے کامیاب شہروں کی منظر کشی کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ، دنیا بھر کے تاجر اور خطاط ایک طرف ،تو دوسری طرف فنکار، اور فنون لطیفہ کا گہوارہ ، اعلیٰ علمی اور تحقیقی مجالس اور دنیا کے بہترین تاجروں اور کلچر ز اور مذاہب کا حسین امتزاج ، یہ وہ منظر تھا جس نے مسلمانوں کے دور حکومت کو ممتاز کیا۔  تاریخ شاہد ہے فرانس اور جرمنی جیسے ازلی دشمن ممالک کو باہمی تعاون نے ایک بہترین ترقی یافتہ دنیا بنا دیا۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین ، ا?ج سے لگ بھگ چالیس سال قبل دنیا سے جڑنے کی پالیسی پر گامزن ہوا ایک معروف برطانوی جریدے کے مطابق، ماضی کے بر عکس جب چائنہ برطانیہ تجارت کچھ ملین تھی آج اربوں ڈالر تک پہنچ گئی۔سال 2017 میں دونوں ممالک کے ہر دن لگ بھگ چار ہزار لوگوں نے ایک دوسرے ممالک کا سفر کیا۔ برطانیہ میں چین کے ایک لاکھ ستر ہزار طالب علم قیام پذیر ہیں۔ چین نے اپنی تقریباً ایک اعشاریہ سات ٹیریلین ڈالر کی مارکیٹ دنیا کے لیے کھول دی اور بیرونی دنیا میں ایک اعشاریہ دو ٹیریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو ایشیا سے امریکہ اور یورپ سے افریقہ تک پھیلی ہو ئی ہے۔ دنیا سے جڑنے کے عمل میں معیشت صرف ایک جزوہے ۔اور اس ہم آہنگی کے لیے معاشرے کی بنیادی اقدار اور نظام کو بین الاقو امی دنیا کے لیے قابل قبول بنانا لازمی ہے۔ معاشرے میں مستحکم سیاسی و سماجی نظام ،جس میں برداشت، مختلف اقوام، کلچر ، اور مذاہب کا احترام ہو، جدید دنیا میں ترقی کی لیے لازمی ہے۔چین کی ترقی کا راز راقم پہ ا?ج سے قریبا ا?ٹھ سال قبل دورہ چین کے دوارن کھلا۔ ایک مہینہ قیام کے دوران ہر سیاح کو یہ باور کروایا گیا کہ چاینیز کلچر میں دنیا سے تعاون ،مہمان نوازی، ان کے سماج اور تاریخ کا اساس ہے اور وہ دنیا کے لیے دیدہ دل فرش راہ کیے ہوئے ہیں۔ بھارت سے مخاصمت کی باوجود بے شمار بھارتی اور مغربی سیاح گلیوں، دکانوں، اور تفریحی مقامات پہ دیکھنے کو ملے۔ اسی پالیسی کی بدولت چائنہ معاشی ترقی کی منزلوں پہ فراٹے بھر رہا ہے ترقی جڑنے میں ہے حالیہ برطانوی دورے میں راقم نے ہر دوسرے برطانوی شہری کو بریکسٹ بارے سر پکڑے دیکھا۔ ایک تقریب میں اس پریشانی بابت پوچھا تو معلوم ہوا ،برطانوی ادارے اور عوام ایسے کسی نتیجے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ ان کے لیے ناقابل یقیں ہوا۔ بریکسٹ کا فیصلہ برطانیہ کے بزرگ شہریوں اور دور دراز علاقوں میں بسنے والوں کا تھا۔ کوریاءجزیرہ پہ تقسیم ، دنیا سے کٹنا، فرسودہ سیاسی اور عسکری خیالات نے شمالی کوریا کو دنیا سے تنہا کر دیا۔برعکس اس کے، جنوبی کوریا نے تعلیم، تحقیق، جدید دنیا سے بامقصد تعلقات کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے اپنے درو دیوار کھول دئیے۔دونوں ممالک کی ترقی کا تقابلی جائزہ مفاہمتی سیاست وسعت القلبی اور محدود نظر اور مطلق العنانیت کا ملغوبہ ہے شمالی کوریا نی شخصی آزادیوں کا سنگین مذاق اڑایا۔ کم جونگ نے2013میں اپنے شہریوں کے لیے مخصوص طرز کے28 ہیر سٹائل مخصوص کیے ۔دارالحکومت پیانگ یانگ میں سکونت اختیار کرنے کے لیے حکومت وقت کی اجازت درکار ہے.۔ بلعموم بادشاہ وقت سے وفاداری اور دارلحکومت معاشرے کے کامیاب ترین لوگ اس کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔تقریبا ہر پانچ سال بعد الیکشنز ہوتے ہیں اور ووٹ کم کو ہی جاتا ہے مشہور ہی کہ کم کچھ لوگوں کو مخالف امیدوار بنا کہ ہارنے کے پیسے بھی ادا کرتے ہیں۔?اپکو ریاستی چینل ہی دیکھنا ہو گا جس میں معلومات انتہاءکنٹرول اور مخصوص ہوتی ہیں۔ ا?پ کے پاس مقدس کتاب بائیبل کا موجود ہونا جرم اور گرفتاری کی سند ہے کیونکہہ بائبل کو مغربی سماج کا حصہ گردانتے ہیں ملزم کے جیل سے بھاگنے صورت تین نسلوں کو سزا دی جاتی ہے اور یہ وہ قانون ہے جس کو اقوام متحدہ انسانیت سوز قرار دے چکی۔ کم جونگ نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جو قرون اولی کے مطلق العنان کرتے تھے۔ کم کو خطرہ نہ کسی  انقلاب سے ہے نہ ہی عوامی بغاوت کا ، ڈر ہے تو جانشینوں سے۔ میزائلوں جنگی جہازوں اور مبینہ جوہری ہتھیاروں سے لیس حکومت کو اپنی غیر منطقی پالیسیوں جنکا محور عوام کو انجانے خوف، ڈر اور ریاستی بیانیے کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لیے طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ بڑھتی ہوی ترقی اور ملکوں کے باہمی تعاون اور اشتراک نے دنیا کے شہریوں کو نہ صرف موثر شہری بلکہ انھیں سماجی اور سیاسی طور پر مضبوط بنادیا جس سے آج تک شمالی کوریاءعوام نابلد رہے۔ انٹرنیٹ کی ذریعے معلومات کی فراہمی نے دنیا یکسر بدل ڈالی۔ تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی کا 53 فیصد انٹرنیٹ کا استعمال اور تقریبا 42 فیصد سماجی رابطے کے مختلف فورمز کے متحرک صارف        ہیں اور فیس بک کے صارف سب سے زیادہ ہیں جو سیاسی تبدیلی کا کسی حد تک محرک بھی ہے۔پیو ریسرچ کے سروے کے دوران تقریبا 20 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کی وجہ سے ان کے سیاسی خیالات میں تبدیلی آئی۔عرب سپرنگ کے دوران سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔تیونس کے صدر زین العابدین ہوں، مصر کی حسنی مبارک یاشام کے خون آلو د ہ حالات، سوشل میڈیا نے ہلچل مچا دی۔ کشمیر کے اندر پر امن تحریک کاایک محرک بھی سماجی رابطے کی ویب سایٹس تھیں۔مدعا یہ ہے کہ جمہوری دنیا کے شہری اب جڑنے کے لیے حکومتوں کی محتاج نہیں رہے سواے آمریت کے جو اقتدار کو دوام بخشنے باعث خوف ڈر اور شخصی پابندیوں کا سہارہ لیتے ہیں جس سے پسماندگی جنم لیتی ہے۔دنیا کے بیشر ممالک نے تعاون بابت ایک دوسرے سے ہر شعبے میں ترقی کی۔ مشہور میگزین فارن پالیسی کی2015کی آرٹیکل کے مطابق امریکہ میں اقوام عالم سے لگ بھگ ایک ملین طالب علم حصول علم میں مشغول ہیں جن میں ہر تیسرے باشندے کا تعلق عوامی جمہوری چین سی ہے۔ چائینہ کی طلبا نے امریکہ کی بہترین جامعات سے ٹیکنالوجی، تحقیق، زراعت، طب اور انجنیرنگ کا علم سیکھا اور اپنے ملک کو مستفید کیا۔ جنوبی کوریا نے اپنی پہلی ترجیح شرح تعلیم کو دی اور آج تعلیم میں اسکا ثانی نہیں۔ شمالی کوریا کی جنگی مخاصمت باوجود جنوبی کوریا نے اپنی معیشت اور معاشرے کو مختلف اقوام کے لوگوں کے لیے کھول دیا۔کمال مہارت سے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام امریکہ اور جاپان کے ساتھ تعلقات کو جدید خطوط پہ سنوارا۔دونوں ممالک کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے دروازے ان پہ کھل گئے۔ ایک طرف کم کا کوریا بائیبل پہ پابندی پہ گامزن تھا دوسری جانب مون کا کوریا مشہور کمپنیاں ایل جی، ہنڈائی،اور سام سانگ کی بنیاد رکھ رہا تھا جس نے شمالی کوریا کو دنیا کی گیارہویں بڑی معیشت بنا دیا۔، شمالی کوریا مشرقی ایشیا کا سب سی ترقی یافتہ ملک، سو فیصد لٹریسی، دنیا کا چوتھا بہترین صحت کا نظام، 92فیصد شہری آبادی پہ مشتمل،دنیا کا سب سی بہترین انٹرنیٹ کا نظام اور صرف فروری مارچ 2018 میں اعداد شمار کے مطابق23 لاکھ سیاحوں نے کوریا کا سفر کیا۔ برعکس اس کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس جنوبی کوریا کے حاکم کا وقت دنیا کو دھمکانے عوام کو دنیا سے دور اور مخصوص خول کی اندر قید رکھنے میں گزر گیا۔عالمی پابندیوں کا شکار، بدترین معیشت، خوراک کی قلت زرعی بحران اور سیاسی اور معاشی تنہای کا شکار جنوبی کوریا تباہی کے دہانے پہ آکھڑا ہوا۔ ملکی معیشت کی ترقی منفی اور فی کس سالانہ آمدن1700ڈالر یعنی دنیا کے ممالک میں 206 نمبرپر ہے۔ اس مخاصمانہ رویے کی بدولت صنعتی ترقی ایک فیصد سی بھی کم ہے۔ قارئین کے لیے باعث حیرت ہو گا کہ انٹرنیٹ کا مقامی طور پر محدود نظام امراءتک مخصوص ہے۔ بالآخر امریکی دباو کہیے یا کم جونگ کااندرونی حالات کے آگے بے بس ہونا ،بہر حال ایک خوشگوار صبح کا آغاز ہوچلاہے۔ شاید کم نے بھی بھانپ لیا کہ دنیا میں ترقی کے لیے اپنے شہریوں پہ اعتماد، دنیا کی مروجہ اصولوں کو سمجھنا اور مختلف کلچرز، اقوام، اور مذاہب کے لوگوں سے تعلق استوار کرنا پڑے گا ورنہ غربت اور مفلوک الحالی دونوں کا کوئی مذہب اور نسل نہیں ہوتی۔