جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

شجاعت بخاری کا جرم کیا تھا؟ ارشاد محمود

یقین نہیں آتا کہ سینئر صحافی شجاعت بخاری کو دن دھاڑے سری نگر میں شہید کردیا گیا۔ وہ کشمیر کے ہی نہیں بلکہ اس خطے کے ایک بڑے شہ دماغ قلمکار تھے۔ صحافی اور تجزیہ کار تو بہت ہوتے ہیں شجاعت بخاری کا دل اپنے لوگوں کے لیے دھڑکتاتھا۔ وہ کشمیر میں جاری تشدد اور قتل و غارت کی محض خبریں نہیں چھاپتے بلکہ حالات کو بدلنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ کشمیر پر ہونے والی ہر پیش رفت سے نہ صرف باخبر ہوتے بلکہ حالات کے سدھار کے لیے سرگرم بھی ۔ اسی درد دل نے انہیں تنازعات کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کا علمبردار بنایا۔ گزشتہ اٹھاربرس کی رفاقت کے دوران میں نے انہیں درجنوں نہیں سینکڑوں فورمز پر سنا ۔ وہ اعتدال اور استدلال کے ساتھ بات کرنے کئ عادی تھے۔ان کی گفتگو سامعین پر سحر طاری کردیتی۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نئی آراء تلاش کرنے اور خطے کی ترقی اور خوشحالی کی تجاویز دیتے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف سیاستدانوں، صحافیوں اور دانشوروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کی اہمیت اجاگر کرتے۔ ہر فورم پر بھارت کو یاددلاتے کہ کشمیریوں کو تشدد اور زور زبردستی سے جھکایا نہیں جاسکتا۔ اکثر کہتے کہ پاکستان کے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے سے ہی الجھی ہوئی گتھی سلجھ سکتی ہیں۔ وہ بھارت کے اندر دستیاب ہر فورم پر پوری قوت سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے جو عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ۔یادرہے کہ شجاعت بخاری نفرت اور جنگ وجدل کا سوداگر نہیں تھا۔ وہ دونوں ممالک کی قربت یا مذاکرات کی بحالی کو کشمیریوں کے لیے فائدہ مند تصور کرتے۔ موقع ملتا توپاکستان ضرور آتے ۔ درجنوں صحافیوں، دانشوروں اور پاکستانی سیاستدانوں سے ان کی گہری دوستیاں استوار ہوئیں لیکن وہ کبھی بھی کشمیر پر پاکستان کی ’’سرکاری‘‘ ٹیم کا حصہ بنے اور نہ کبھی اس کی خواہش ظاہر کی۔  شجاعت بخاری کو تحریر اور تقریر کے فن پر عبور حاصل تھا۔ چنانچہ رفتہ رفتہ ان کے حریفوں میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ کاروباری مسابقت بھی تھی لیکن آزادی کے علمبرداروں کا بھی ایک طبقہ انہیں ناپسند کرتا۔ وہ صرف یہ چاہتے کہ کشمیر کے حوالے سے جو بھی کونپل پھوٹے وہ ان کے گملے کی ہونی چاہیے۔ کوئی نیا خیال یا گفتگو کا نیا رنگ ڈھنگ انہیں بھاتانہیں۔ کشمیر چونکہ ایک تصادم زدہ علاقہ ہے لہذا وہاں ہونے والی ہر سرگرمی کو شک کی نظر سے دیکھاجاتاہے۔معاشرے کے فعال طبقات میں حریفانہ چشمک بہت ہے۔ خفیہ ایجنسیاں اپنا اپنا کھیل کھیلتی ہیں۔ لوگوں کو مہروں کے طور پر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ یہ تصور بھی محال ہے کہ اپنے بل بوتے پرکوئی شخص معاشرے میں ممتاز و معتبرمقام حاصل کر سکتا ہے۔  شجاعت بخاری بتدریج مطلع صحافت پر طلوع ہوئے اور پھر چھا گئے۔جلد ہی دشمنوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگے۔  دوبئی میں کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کے سیاستدانوں کی ایک کانفرنس گزشتہ برس کیاہوئی کہ ریاست جموں وکشمیر کے طول وعرض میں نکتہ چینی اور کردار کشی کی ایک مہم رواں ہوگئی۔ بغیر تحقیق کے سیّد صلاح الدین نے ایک بیان میں دوبئی کانفرنس کے شرکاءکو ”ہندوستانی تنخوا دار “قرار دیا۔ اگلے ہی دن لشکرطیبہ کے ترجمان نے بھی ”غدار“ کی تکرار کے ساتھ ایسے عناصر کو سبق سیکھانے کی دھمکی دی۔ حالانکہ میں گواہ ہوں کہ شجاعت بخاری نے اسٹیٹ ڈیپارمٹ سمیت ہر فورم پر زور دے کر کہا کہ صلاح الدین اورحریت کانفرنس کے لیڈروں کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنوائے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا۔ دوبئی کانفرنس سے کچھ عرصہ قبل ایک دن شجاعت بخاری نے سری نگر سے فون کیا کہ سرکاری ذرائع نے انہیں خبردار کیا ہے کہ آپ کو ”ٹھکانے “ لگانے کا حکم جاری ہو چکاہے۔ انہوں نے کہا ”پیرصاحب“ سے بات کرو۔ مختصر سی کوشش کے بعد انہیں تلاش کرلیا گیا۔ اتفاق سے اسد یزدانی بھی شریک محفل تھے۔ عرض کیا کہ شجاعت بخاری کی جان کو خطرہ لاحق ہے آپ مدد کریں۔ صلاح الدین نے کہا کہ آپ شجاعت بخاری سے کہیں کہ میں اتنا گرا نہیں کہ صحافیوں کے قتل کا حکم جاری کروں۔ وہ اطمینا ن رکھیں۔ یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ شجاعت بخاری کو بتایا تو خاصے مطمئن ہوگئے۔ گزشتہ تین چار ماہ سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک گمراہ کن مگر زور دارمہم چل رہی تھی کہ وہ بھارت کے اداروں کے لیے کام اور تحریک کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے لیکن کسی کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ ایک جگہ میں نے کہا کہ شجاعت بخاری کا دل چیر کر ہم نے نہیں دیکھا کہ اس کے اندر کیا ہے لیکن جس بھی محفل میں انہیں سنا انہوں نے کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی کی۔  شجاعت بخاری کے خلاف پروپیگنڈے کے معماروں اور پیادوں کا نام یا چہرہ کبھی سامنے نہ آسکا۔ وہ گمنام فیس بک اکاؤنٹ سے کردار کشی کی بھرپور مہم چلاتے رہے ہیں اور غالباً اب کسی دوسرے ہدف کے تعاقب میں ہوں گے۔ تحقیقات کرائی گئی تو پتہ پڑا کہ ان میں بعض اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ کافی دنوں سے شجاعت بخاری اصرارکر رہے تھے کہ آپ پاکستان میں سرکاری اداروں کو متوجہ کریں کہ کچھ لوگ میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ شہادت والے دن انہوں نے دوپہر پیغام بھیجا کہ ایک فیس بک آئی ڈی چیک کرانی ہے۔ بے غرضی سے جواب دیا کہ بھیج دینا۔ خیال تھا کہ عید کی چھٹیوں کے بعد دیکھ لیں گے۔  سری نگر میں ہی نہیں بلکہ بھارت کے طول و عرض میں لوگ ان کے ٹوئٹر پر بے لاگ تبصروں سے سخت شاکی تھے۔ انہوں نے سری نگر میں ایک فوجی جیپ کے نیچے کچلے گئے نوجوان کی تصویر ٹوئٹ کی تو بھارت میں کہرام مچ گیا۔ سینکڑوں لوگوں نے ان کے خلاف بھڑاس نکالی کہ وہ علیحدگی پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔  انشا اللہ‘ شجاعت بخاری کے قاتل ایک دن اپنے انجام کو ضرور پہنچ جائیں گے ۔سوچتاہوں کہ ایسے لوگوں کو پکڑنے اور سزادینے سے کیا حاصل جومحض پیادے ہیں۔ دوٹکے کی خاطر بے گناہ لوگوں کا خون بہاتے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ برسوں کی محنت اور ریاضت سے مقام حاصل کرنے والے افراد معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہیں بارود سے لت پت نہیں کرتے بلکہ ان کے گلے میں پھولوں کی مالا ڈالتے ہیں۔ ضرورت ان قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو تلاش کرنے اور سزادینے کی ہے جو اس نوع کے قتل کے لیے سازگار ماحول تیارکرتے ہیں۔ استدلال کے میدان میں مقابلہ آرائی کے بجائے چھپ کر وار کرتے ہیں۔ کردارکشی کی مہم چلاکر دوسروں کے سر قلم کرادیتے ہیں۔ شجاعت بخاری کا ذکر ہی کیا کشمیر میں درجنوں شہ دماغ شہید کیے گئے۔ ان کے قاتلوں کا سراغ ملا نہ سازشوں کا تانابانا بننے والوں کا محاسبہ کیا جاسکا۔ آج شجاعت کو شہید کیا گیا کل کسی اور کا نمبر نکل آئے گا۔ جو لوگ آج خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں کل کلاں وہ بھی اپنے کندھوں پرنعشیں اٹھائے قبرستان کی جانب رواں دواں ہوں گے۔  یہ وقت ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنے اپنے طور پر شجاعت بخاری کے قاتلوں اور اس قتل کی سازش کرنے والوں کی کھوج لگائیں۔ انہیں انصاف کے کہٹرے میں لائیں اور ان کے خاندان اور شہریوں کے ساتھ حقائق کا تبادلہ کریں۔ اگر ضرورت ہو تو دونوں ممالک معلومات کا باہم تبادلہ بھی کریں۔  افسوس! راولاکوٹ میں جہاں رہتاہوں وہاں سے سری نگر اب پانچ گھنٹوں سے زیادہ کا سفر نہیں لیکن کنٹرول لائن ایک ایسی دیوار برلن ہے جس سے صرف سر ٹکرا یاجاسکتاہے ۔اسے عبور نہیں کیاجاسکتا۔ ہماری بے بسی دیکھیں کہ ہم اپنے دوستوں اور رشتے داروں کا آخری دیدار بھی نہیں کرسکتے۔ اپنے پیاروں کے جنازے کو کندھا تک نہیں دے سکتے۔انہیں مالک دوجہاں کے سپرد بھی نہیں کرسکتے۔