جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

ہیپی ٹُو ٹُو کبیر خان

                  آ ج سویرے ہم نے پٹاخوں اور "شُرلیوں"سے مزیّن اشتہار دیکھا تو چونک گئے کہ خیر سے اپنانِکّا روزنامہ دھرتی آٹھ برس کا ہوگیا ہے۔چشمِ بد دور۔ اور حسبِ سابق اب کے بھی تزک و احتشام کے ساتھ اس کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔دیکھا جائے تو روزنامچوںکی دُنیا میں آٹھ دس کاسِن گھُٹنیوں چلنے کا دور ہوتا ہے۔توتلے قدم، ویسے ہی قلم۔لیکن روزناموں کی دُنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔گودی میں ہمکتے ہمکتے وہ ایسی جیبوں میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں کہ دودھ کے دانت نکلنے سے پہلے پہلے ہی کھاتی پیتی پارٹی یا حکومت کے آرگن بن کر مہینوں میں اپنا" خودمختار "میڈیا ہاﺅس قائم کر لیتے ہیں ۔ پھر بادشاہ گری کے پردے میں بادشاہی کرتے ہیں۔دن رات دھن برستا ہے،اتنا کہ ملک میں پیردھرنے کی تھاں نہیں رہتیباہر ملکوں میں شاخیں اور شاخسانے کھولنا پڑتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ جب عزیزی عابد صدیق نے راولاکوٹ سے ننھا مُنّا، تھُن متھنّاسا روزنامہ نکالنے کا قصد کیا تو ہم بھی رضاکارانہ بقلم خود اس کی "اخلاقی حمایت ©"کرنے پر آمادہ (جہاد/فساد)ہوگئے۔لیکن آٹھ برس کے بعد بھی بادشاہ گری کیا، ہمارا روزنامہ پھل پھول کر پورا اخبار بھی نہ بن سکا۔ ہمارے نِکّے کی گروتھ وہیںرُک گئی۔اس کے دست و بازو اتنے چھوٹے رہ گئے کہ ڈوہنگی جیبوں تک کُجا،کھُلے گریبانوں تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔چنانچہ وہ لمبے سے لمبا ہاتھ بھی مارے تو سہ ماہی چندے سے زیادہ نہیں نکال سکتا۔بھلے وقتوں میںصحافت کی زبان میں اسے شرافت کہا جاتا تھا۔لیکن یہ زمانہ گواہ ہے کہ شرافت سے گھربار توچل سکتاہے،اخبار نہیں ۔ (حالانکہ عابد صدیق بذاتِ خودباقاعدہ پڑھا لکھا اور مُستند صحافی ہے۔اور شاید یہی اس کی کمزوری بھی)۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آرہا ہے ،آپ بھی سن لیجئے:  ایک بہت ہی پینڈوُ سردار پہلی بار شہر گیا۔سڑک کے کنارے مجمع دیکھ کر رُک گیا۔ مجمع میں ایک شخص باتیں کرنے والا طوطا نیلام کر رہا تھا: "مہربان قدردان ! اب اِس بولنے والے طوطے کی بولی شروع کی جاتی ہے ، جس غیرت مند کی بولی سب سے زیادہ ہو گی، یہ نایاب طوطا اُس کا ہو جائے گا"بولی دس روپے سے شروع ہوئی ۔ ایک ماڑی سی آواز نے بیس کی پیشکش کی۔ اس پر سردار نے چالیس کی بولی لگائی ۔مجمعے سے آواز آئی،ایک سو ساٹھ ۔سردار نے دل ہی دل میں حساب لگایا اور بولا،چھ سو چالیس۔مجمع سے آواز آئی، دوہزارپانچ سو ساٹھ ۔سردار مخمصے میں پڑ گیا لیکن بات غیرت کی تھی اس لئے چوگنی بولی دے ڈالی ،دس ہزار دوسوچالیس۔ اب کے مجمع سے کوئی آواز نہ آئی۔ سردار نے بولی کی رقم ادا کردی۔ مبارک سلامت اور تالیوں کی گونج میں پنجرے سمیت طوطا وصول کرتے ہوئے کچھ خیال آیا تو اُس نے ہولے سے پوچھا "بھا جی ! یہ طوطا بولتا بھی ہے یا ایویں ہی؟"۔ " بولتا نہیں تو تمہارے مقابلہ میں بولی تیرا باپو دے رہا تھا؟" "اگر ایسا ہی ہے توطوطے نے بولی بڑھائی کیوں نہیں؟۔" اس لئے کہ میں نے اس سے زیادہ حساب کتاب اس کو سکھلایا ہی نہیں"۔"تم نے کیوں نہیں سکھلایا؟سکھلایا ہوتا تو آج چوگنی رقم کما چکے ہوتے"سردار نے کہا۔اس پر جواب آیا"بھا جی!اس سے زیادہ ضرب تقسیم مجھے خود بھی نہیں آتی"۔ہمیں لگتاہے کہ عابد صدیق کو صحافت تو آتی ہے لیکن حساب کتاب کے معاملہ میں نِرا مسلمان واقع ہوا ہے۔یعنی جمع تفریق،ضرب تقسیم کے قاعدوں میں ضرورت سے زیادہ کمزور ہے۔ وہ جب تک اپنی اس مسلمانی پر قابو نہیں پائے گا،روزنامہ کے ہاتھ پیر اور قد کاٹھ کما حقہ نکلنے والا نہیں۔    اس مسئلہ کی دوسری وجہ وہ مرض بھی ہے جوراولاکوٹ کے کم و بیش جملہ کبیر خانوں اور عابد صدیقوں کو بچپن میں لازماً لاحق ہوتا ہے۔یعنی "چوراہا"۔یہ وہ موذی مرض ہے جو ہمہ اقسام نونہالوں کو ٹھیک اُس وقت اُڑ کرلگتا ہے جب وہ جانے انجانے میں گھر سے باہر کسی ایسے مقام پر چلے جائیں جہاںسے ایک سے زیادہ راستے پھوٹتے ہوں یا آن ملتے ہوں ۔ سیانیاں اور دیالیاں فرماتی ہیں کہ ایسے مقامات پر جِنّ اور پریاں ہو تی ہیں ۔جب کوئی خوبصورت بچّی وہاں سے گذرتی ہے تو جِنّ اس پر عاشق ہو جاتے ہیں،اور حسین بچّے پر پریاں ۔ جس کی وجہ سے بچّوں کو تراہ نکلنے لگتے ہیں ۔ اس نامراد بیماری کا علاج دھاگے تعویذ اور جھاڑ پھونک سے ہی ممکن ہو تا ہے۔اور بس۔ ہمیں تو تراہ کے علاوہ کورس میںدیگر راگنیاں اور راگ بھی نکل نکل جاتے تھے ۔جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ایک سے زیادہ پریاں بلکہ پریوں کے پرے ہم پر عاشق تھے۔چنانچہ پہنچی ہوئی حاضرات دھاگے تعویذ سے ،اور پہنچے ہوئے حضرات "جھانوے "سے ہمارا علاج کرتے تھے۔ تراہ تو ہمیں اب بھی نکلتے ہیں لیکن اس عمر میں اپنے منہ میاں مٹھّو بنناکچھ اچھا نہیں لگتا۔نیز فی الوقت تراہ وغیرہ کا سبب ہماری "ببّ" ہے، پری پریت نہیں۔یوں بھی مرض راسخ ہو جائے تو تراہ کا سواد بھی آنے لگتا ہے۔ لیکن گھاٹا یہ ہے کہ تراہ سے نشانہ خطا ہو جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری طرح عابد صدیق کا نشانہ بھی "بُلّ"سے بہت دور بورڈ کے مضافات میں جا لگتا ہے۔ ہماری صلاح ہے کہ تراہ کا توڑ کرنے کی بجائے عابد صدیق اپنا کینوس اتنا وسیع کر لیں کہ پورا بورڈ ہی بُلّ بن جائے۔   روزنامہ دھرتی کے بارے میں سوچتے ہوئے خیال آیا کہ24اکتوبررونامہ دھرتی کا ہی نہیں ،حکومتِ آزادریاست جموں و کشمیر کے علاوہ اقوامِ متحدہ کا یومِ تاسیس بھی ہے۔ جنتِ ارضی جمّوں و کشمیر کو اقوام متحدہ ،آزادکشمیر کو آزاد حکومت، مقبوضہ کشمیر کو بھارت،کشمیریوں کو کشمیری اور روزنامہ دھرتی کو ہم جیسے قارئین لاحق ہیں ۔ہم اقوامِ متحدہ، بھارت،آزاد حکومت اور کشمیری بھائیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن اپنےروزنامہ دھرتی کو تو سنوار سکتے ہیں ؟۔کیوں نہ جھاڑ پھونک، دم درود، دھاگے تعویذ ،اور جھانووں کے ساتھ ساتھ دستِ تعاون دراز کر کے روزنامہ دھرتی کو خطّہ کا اپنامیڈیا ہاﺅس بناڈالیں وہ میڈیا ہاﺅس جو ہماری نسلوں کو چوراہاو¾ں اور تراہاو¾ں سے محفوظ رکھے۔آخر کب تلک ہم پرائی سیانیوں اور بیگانی دیالیوں سے لو لگائے بیٹھے رہیں گے؟   اور ہاں یاد آیا دوسری سالگرہ کے موقع پرایک غبارہ نجانے کیسے جلتی ہوئی موم بتّی پر گرا۔او ر ہمارے نورِ نظر لختِ جگر کے عین سامنے دھماکے سے پھٹ گیا، دونوں موم بتیاں بجھ گئیں۔ٹھیک اسی لمحے شرکاءنے ہیپی برتھ ڈے کا مروجّہ گیت چھیڑ دیا۔ سب کو دیکھ کر ڈرے اور روتے ہوئے بیٹے نے ماں کا چہرہ پکڑ کراپنی طرف موڑا اور سوالیہ انداز میں دوسروں کا ساتھ دیا©©”ممّا! ہیپی ٹوُ ٹوُ؟؟؟“۔اس کے بعد وہ جب تک سیانا ہوتا جہاں کہیں غبارا دیکھتا، ماں کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر روہانسی آواز میںپوچھتاممّا! ہیپی ٹوُ ٹوُ؟؟چنانچہ "شُرلیاں چھوُٹیں بھانویںغبارے پھوُٹیں، تراہ نکلیں چاہے تران چھوٹیں"ہماری طرف سے روزنامہ دھرتی کو ہیپی ٹوُ ٹُو۔