بدھ 11 دسمبر 2019ء
بدھ 11 دسمبر 2019ء

کافرستان“میں چند دن!۔۔۔۔۔عابد صدیق

” قسط نمبر ۱ ”کافر ستان“ کلاش وادی کو پیار سے کہتے ہیں یا ”طنز“ سے اس بات کا اندازہ تو نہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس فقرے پر توجہ نہیں دیتے بلکہ یہ وادی جوتین مختلف وادیوں کا مجموعہ ہے کو ”کلاش“ کے نام سے ہی جانتے ہیں۔ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہم چند دوستوں نے چترال جانے کا پروگرام بنایا اور یوں اس پر عمل بھی کیا۔کہتے ہیں کہ صبح کا آغاز اچھا ہو تو سفر اچھا رہتا ہے بس اسی بہتر صبح کی تلاش میں ہم نے رات کو ہی اس گھر ڈیرہ ڈال دیا جہاں سے صبح سفر کا آغاز کرنا تھا۔عمران عزیز ہمارے میزبان تھے جنہوں نے صبح انواع اقسام کے مشروبات اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء سے ہماری تواضع کی یوں ہم 6 بجے صبح رخت سفر ہوئے۔بحریہ ٹاون سے جب سفر کا آغاز ہوا تو موبائیل فون سروس تھی لیکن جوں ہی جی ٹی روڈ پر آئے تو یہ سروس بند تھی۔یہ کسی خاص وجہ سے بند کی گئی تھی لیکن ہمیں جو ذہنی کوفت اٹھانی پڑی وہ اپنے پانچویں ساتھی کی تلاش تھی جسے ہم نے صدر کے علاقے سے بتائی گئی جگہ سے اٹھانا تھا۔یوں دو گھنٹے کی تلاش کے بعد اسے گھر سے ہی برآمد کیا کیونکہ اس کے پاس بھی گھر میں ہی رہنے کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھا۔راولپنڈی سے چترال شہرکوئی چار سو آٹھ کلومیٹر دورہے اور اگر گوگل میپ کے”دھوکے“ میں آئیں تو یہ سفر دس گھنٹے کا بنتا ہے۔دھوکہ اس لیے کہتا ہوں کہ گوگل کو شایدہماری سڑکوں کی زیادہ واقفیت نہیں ہے۔ ہمیں چترال پہنچنے میں پندرہ گھنٹوں کے قریب لگے ہیں۔راستے میں بہت سارے شہر آتے ہیں۔ ہم نے تقریباًچوتھائی راستہ موٹر وے کے ذریعے طے کیا،پھر چکدرہ،لوئر دیر،اپر دیر آتے ہیں۔یہ سارا پہاڑی علاقہ ہے۔سڑک کوئی بہت اچھی نہیں لیکن قدرے بہتر ہے۔اس راستے میں اپنائیت کا بھی ایک احساس ہوتا ہے۔اس کی ایک وجہ تو علاقے کی مشاہبت بھی ہے لیکن بڑی وجہ راستے میں آنے والے شہروں بشمول  چترال ”کشمیر بیکرزاینڈ سویٹ“ کا ایک نٹ ورک ہے جن کے مالکان باغ آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے کئی بیکریاں ایسی ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں۔2017   سے پہلے چترال جانا ایک خواب تھا۔بیس گھنٹے سفر میں گزرتے تھے،سال کے قریباً چار ماہ راستہ مکمل بند ہوتا تھا۔ان چار ماہ کے دوران مقامی لوگ افغانستان کے راستے سفر کر کے پاکستان آتے و جاتے تھے۔حکومت ان چار مہینوں کے لیے خصوصی طور پر راہداری پرمٹ جاری کرتی تھی۔لیکن اب  2017   میں لواری ٹنل کے مکمل ہو جانے کے بعد یہ مشکلات ختم ہو گئیں۔تقریباً ساڑھے دس کلومیٹر لمبی اس ٹنل کو کوہ ہندو کش کے دامن سے گذارا گیا ہے۔یہ منصوبہ ذولفقار علی بھٹو نے شروع کروایا تھا،جنرل پرویز مشرف نے اسے دوبارہ شروع کروایا اور پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسے مکمل کروایا۔اس ٹنل کے باعث کئی گھنٹے سفر کم ہو گیا،دوسرا پورا سال راستہ بھی کھلا ملتا ہے۔ ہم لوگ دوپہر کا کھانا چکدرہ سے آگے ایک پرفضاء مقام پر کھا چکے تھے اور وہاں ہمارے میزبان باغ سے تعلق رکھتے تھے۔تیس سالوں سے وہاں ”کشمیر بیکرز اینڈ سویٹ“ کے نام سے کام کرتے ہیں۔وہ اس جگہ دوسری نسل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ان کے اباء واجداد نے اس کام کا آغاز کیا پھر آگے والی نسل نے اسے وسعت دی۔ ”کشمیر بیکرز اینڈ سویٹ“ پورے مالا کنڈ ڈویژن میں اعتماد کا نشان سمجھا جاتا ہے۔مقامی لوگ ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں۔اس کاروبار سے وابستہ لوگ انتہائی ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔کھانے کے دوران انہوں نے ہمیں اس علاقے کے جغرافیہ اور تاریغ سے اپنے تجربے و مشاہدے سے آگاہ کیا اور رہنمائی بھی کی۔دیر پہنچنے پر بھی اسی طرح کی مہمان نوازی دیکھنے کو ملی۔وہاں بھی اسی نام سے کاروبار کرنے والوں نے ہمیں گرما گرم چائے اور اپنے ہی کارخانے کے تیار کردہ کیک و بسکٹ ہمیں کھلائے۔دوبارہ سفر کا آغاز کیا تو بس لواری ٹنل کے آنے کا انتظار تھا۔یہ ایک قسم کا تفریح مقام بھی ہے۔ساڑھے دس کلومیٹر لمبی اس ٹنل میں داخل ہونے سے قبل چک پوسٹ پر اپنا نام اور مقام لکھوانا پڑتا ہے۔غیر ملکیوں کی جانج پڑتال زیادہ ہوتی ہے۔اس ٹنل کی تعمیر کا آغاز 1975میں ہوا۔ابتداء میں یہ ریلوے ٹنل کا منصوبہ تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماء اور سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے اس منصوبے کا آغاز کیا اور خود اس کا افتتاح بھی کیا تھا۔1977 میں حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی   بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسے ایک ”فضول“کام سمجھا۔2005 میں جنرل(ر)پرویز مشرف نے دوبارہ اس کام کا آغاز کیا اورتین سال میں اسے مکمل کرنے کی ہداہت کی لیکن اس ٹنل کو ریلوے کی بجائے روڈ کے منصوبے میں تبدیل کرنے اور حکومتوں کے عدم استحکام کے باعث تعمیراتی کام میں تاخیر ہوتی رہی یوں 2017 منصوبہ مکمل ہوا اورسابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس کا افتتاح کیا۔یہ ٹنل اب دو حصوں مٰن تعمیر کی گئی ہے۔پہلے حصے لی لمبائی ساڑھے آٹھ کلومیٹر ہے جبکہ دوسے حصے کی لمبائی قریباًدو کلو میٹر ہے۔اب اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمے ہے۔اس کی تکمیل سے چترال کی رونقیں بڑھ گئیں کاروبار میں اضافہ ہوا اور سیاحت کا شعبہ ہر سال ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ہم لوگ رات نو بجے چترال شہر پہنچے۔چودہ گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے باوجود تھکاوٹ کا کوئی احساس نہ تھا۔ایک سے ایک خوبصورت ویلی اور درے تھکاوٹ کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔جیسا کہ پہلے بتایا ہے کہ اس پورے روٹ پر ”کشمیر بیکرزانیڈ سویٹ“ کے نام سے نٹ ورک ہے اور کوئی بھی کشمیری جب اس نٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے تو وہ خود آگے اس کی اطلاع کر دیتے ہیں اور یوں چترال شہر میں بھی ہمارا میزبان یہی ”برانڈ“ تھا۔(جاری ہے)  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم