هفته 14 دسمبر 2019ء
هفته 14 دسمبر 2019ء

آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتیں۔۔۔ایک تجزیہ۔۔۔۔عابد صدیق

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں چوالیس سیاسی جماعتیں ہیں جو ان کے پاس نہ صرف رجسٹرڈ ہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کا یہ قانون خود اسی اسمبلی کا نافذ کردہ ہے۔ ان رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے کوائف کو شاید کئی سالوں بدلا نہیں گیا۔ویب سائٹ کے مطابق آج بھی آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد،جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم)اور جمعیت علماء جموں و کشمیر کے صدر عتیق الرحمان فیض پوری (مرحوم)  ظاہر کیے گئے ہیں۔اس طرح بہت ساری غیر معروف سیاسی جما عتوں کے بھی نام  رجسٹرڈہیں۔خود مختار نظریے  کی حامی سیاسی جماعتوں جن میں جے کے ایل ایف کے دو دھڑے اور متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (یو کے پی این پی) شامل ہیں بھی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔حالا نکہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کے قانون اور ان جماعتوں کے آئین میں بڑا تصاد پایا جاتا ہے لیکن شاید مانیٹرنگ کا کوئی فعال نظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتیں بروقت اپنے کوائف الیکشن کمیشن کو مہیا کرتی ہیں۔بعض سیاسی جماعتیں شاید رجسٹریشن کو ضروری بھی نہیں سمجھتی ہیں جس طرح آزاد کشمیر تحریک انصاف الیکشن میں لینے کے باوجود الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے یا پھر اس کا نام ویب سائٹ پرنہیں ہے۔  الیکشن کمیشن کے پاس تو رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد چوالیس ہے لیکن عملاً دیکھا جائے تو آزاد کشمیر میں ایک درجن کے قریب سیاسی جماعتیں ہی”میدان عمل“ میں کام کرتی ہیں یا پھر نظر آتی ہیں اور ان ایک درجن میں سے بھی نصف درجن وہ ہیں جن کے بارے میں بعض اداروں کا گمان ہے کہ یہ ریاست مخالف ہیں اور مزے کی بات کہ یہ الزام بھی ان جماعتوں پر ہے جو ریاست کو علیحدہ وطن بنانے کی جہدوجہد کر رہی ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں خود مختار نظریے کی حامی جماعتیں تصور کیا جاتا ہے۔ان خود مختار نظریے کی حامی جماعتوں کی اپنی انا پرستی اور کچھ غیر محسوس ”مہم“کے نتیجے میں زیادہ پھلنے پھولنے نہیں دیا حالا نکہ ان ہی جماعتوں میں سے ایک ایک جماعت نے چار چار جماعتیں جنم دیں۔نام بھی ملتے جلتے رکھے لیکن پھر بھی قائم دائم ہیں۔اس کے علاوہ بھی تین طرح کی سیاسی جماعتیں ریاست کے اندر اپنا وجود رکھتی ہیں۔ایک وہ ہیں جو پاکستان میں قائم سیاسی جماعتوں کی”فرنچائیز“ ہیں۔ان میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر،پاکستان مسلم لیگ ”ن“ آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر تحریک انصاف زیادہ متحرک سمجھی جاتی ہیں۔زیادہ متحرک سے مراد آزاد کشمیر میں اس جماعت سے متعلق لی جاتی ہے جو اقتدار میں آچکی ہو یا آنے کی کوشش میں مصروف عمل ہو۔یہی ”کوشش“ اس کا نظریہ بھی ہے اور حاصل بھی۔ان ’فرنچائیز“سیاسی جماعتوں کو بھی پاکستان سے اسی طرح چلایا جاتا ہے جس طرح دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چلایا جاتا ہی۔مثلاًسالانہ ٹارگٹ،مارکیٹ میں زیادہ گاہکوں کی تلاش،شارٹ نوٹس پر پے منٹ کے ڈیمانڈ،پے منٹ نہ کرنے والوں کو منافع کم دینا،اور متبادل کی تلاش جاری رکھنا اور پھر پیشگی اطلاع کے عہدوں سے ہٹا دیانا۔یہ سب کچھ ٹیلی نار کی  ملٹی نیشنل کمپنی ہو،کسی فوڈ آئیٹم کی ہو،پیپسی کی ہو یا پھر پی پی پی،ن لیگ یا پی ٹی آئی سب کی پالیسی قدرے مشترک ہے۔ ’’فرنچائیز“ کے مالک اپ مالکان کو جس قدر خوش رکھ سکیں گے اتنا زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔جس طرح پیپسی یا ٹیلی کام کمپنیاں اپنے ملازمین یا کمیشن ایجنٹس کو زیادہ منافعاور دیگر مراعات دے کر یا ان کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ رکھتی ہیں یہ سیاسی جماعتیں بھی نوکریوں،پانی و سڑکوں کی  اسکیموں اور وارڈ سطح کے عہدوں کا لالچ دے کر کارکنوں کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں اور وہ کارکن بہتر مستقبل کا خواب یا پھر پانی اور سڑک کی اسکیم ملنے کی امید میں ساری زندگی ساتھ بنھانے کا عہد کرتے ہیں۔انہیں کچھ ملتا ہے یا نہیں یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن زیادہ نقصان ان سیاسی کارکنوں کا ہوتا ہے جو جماعت کے اندر رہتے ہوئے اس ڈسپلین کی زد میں آجاتے ہیں جو جماعت کے منتظمین نے قائم تو کیا ہوتا ہے لیکن خود اس کی پابندی نہیں کرتے۔یوں یہ مخلص سیاسی کارکن ان سازشوں کی نذر ہو جاتے ہیں جو ”اسکیم خوروں“ اقتدار اور جماعتی عہدوں کے خواہشمندوں نے تیار کی ہوتی ہیں اور اس طرح کی بے مثال مثالیں موجود ہیں۔آزاد کشمیر میں دو تین سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو پاکستان سے وفاداری تو رکھتی ہیں ہیں لیکن پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے براہ راست فرنچائز نہیں لی ہے۔ان میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس،جموں کشمیر پیلز پارٹی اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر شامل ہیں۔ان جماعتوں کا ریاست کے اندر اپنا ایک تشخص ضرور ہے لیکن عوامی حمایت بہت محدود ہے۔اس کی ایک وجہ وہ نفسیاتی بیماری بھی ہے کہ شاید پاکستان کی کسی بڑی جماعت کے ساتھ الحاق نہ ہونے سے اقتدار کی منزل مل نہیں سکے گی۔جماعت اسلامی کے بارے میں تو شاید ووٹر اپنے طور پر فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ یہ اقتدات میں نہیں آسکتی لہذا ووٹ کسی اور کو دے دیتے ہیں لیکن سیاسی کارکن کی نظریاتی وابستگی دیکھی جائے تو وہ یا تو جماعت اسلامی میں یا پھر خود مختار نظریے کی حامی بعض سیاسی جماعتوں میں ہی پائی جاتی ہے۔آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس اقتدار حاصل کر کے بھی جماعت کو کو منظم نہ رکھ سکی جس کی وجہ شاید خاندانی ”راج“ کو رواج دینا ہے لگتا ہے لیکن اب بھی وہ کوشش ضرور کر رہی ہے۔ان سیاسی جماعتوں میں الیکشن کمیشن کے سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت جماعتی انتخابات کرواتی ہے تو وہ جماعت اسلامی کے بعد جموں کشمیر پیپلز پارٹی ہے۔جے کے پی پی ہر دو سالوں کے بعد 9 دسمبر کو پاکستان کے دارلحکومت میں جماعتی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے کیونکہ محدود کارکنان سردیوں میں زیادہ تر راولپنڈی اسلام آباد میں ہی چلے جاتے ہیں۔باقی سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے انتخابات یا کنونشنز سے جماعتوں کو توانائی دینے میں مدد ملتی ہو گئی لیکن جے کے پی پی کے جو تواتر سے الیکشن کرواتی ہے سوائے نقصان کے فائدہ کوئی نہیں ہوتا اور الیکشن سے قبل یا بعد میں ایسے کارکنوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور دیا جاتا ہے جو پارٹی انتخابات میں حصہ لیتا ہے یا حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔لیکن اس کے باوجود موجودہ حالات میں ضرورت  اس بات کی ہے کہ ریاستی سیاسی جماعتوں کو  نظریات سے بالا تر ہو کر مظبوط کیا جائے اور یہی بات ریاستی عوام کے مفاد میں ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم