اتوار 26 جنوری 2020ء
اتوار 26 جنوری 2020ء

سردار خورشید خان بھی چل بسے!۔۔۔عابد صدیق

پولیس آفیسران کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ ان کی دوستی اور دشمنی دنوں سے”پناہ“ کی دعا کرنی چائیے لیکن سابق ڈی آئی جی سردار خورشید خان(مرحوم )ان چند پولیس افیسران میں سے ایک تھے جن کی دوستی اور رواداری پر فخر کیا جا سکتا ہے۔کھلے دل اور دماغ کا حسین امتزاج رکھنے والے سردار خورشید خان پولیس آفیسر کم اور ”انسان دوست“ زیادہ تھے۔ انہوں نے اپنی سروس کا آغاز 1970ء میں پنجاب پولیس سے کیا اور بعد ازاں آزادکشمیر پولیس میں منتقل ہو گے، وہ بتدریج ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر پولیس (ڈی آئی جی) کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، انہوں نے بطور اے ایس آئی، سب انسپکٹر، انسپکٹر، ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ایس پی ریزرو، ایس پی رینجرز، ایس پی جنرل لائن آزادکشمیر کے مختلف اضلاع میں فرائض انجام دئیے۔ وہ اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک تھے، بھمبر میں بطور ایس پی تعیناتی  کے دوران بہترین کارکردگی اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نواز ا گیا تھا، انہوں نے 42سال محکمہ پولیس میں سروس کی اور 2012ء میں بطور ڈی آئی جی پونچھ عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ ایک پولیس آفیسر ہی نہیں تھے بلکہ آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ میں بھی ان کا بڑا کردار رہا۔گھومنے پھرنے کا شوق حد سے زیادہ تھا۔راولاکوٹ میں جس عرصے میں پرائیویٹ گیسٹ ہاوسز کاتصور بھی تھا انہوں نے کوئیاں جیسے دور آفتادہ گاؤں میں پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس تعمیر کر کے ایک نئی طرح ڈالی۔اس وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح کے گیسٹ ہاوس کا بھی کوئی فائدہ ہے یا اہمیت ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ثابت ہوا کہ ان کی سوچ بڑی وسیع تھی۔ وہ آنے والے وقت کی ضروریات کو سمجھتے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہی گیسٹ ہاوس اس علاقے کی شناخت بنا۔وہ محفل کے آدمی تھے اور ہر وقت محفل جمائے رکھنا ان کا شوق تھا۔مرحوم جب پونچھ میں بطور ڈی آئی جی تعینات ہوئے تو انہیں کئی مشکلات کا سامنا رہا لیکن بڑی خوش دلی سے ان کا مقابلہ کیا۔ان دنوں رات کو اکثر ان ہی کے گیسٹ ہاوس میں محفل جمتی تھی اور اس کا اختتام ”سوئیاں“ کھا کرہوا کرتا تھا۔ہر گھنٹے کے بعد ”سوئیاں“ اور قہواہ نہ ہو تو وہ یہ سمجھتے تھے کہ مہمانوں کی تواضع ٹھیک نہیں ہوئی۔خدمت گاروں کو بس”کوڈ“ میں ہی سمجھاتے تھے کہ ”وہ“ لے آو۔یہ کہنا تھا کہ بس منفرد طرز کی یہ سوئیاں آجاتی تھیں۔مہان نوازی میں ان کا ثانی کوئی نہیں تھا،کئی مرتبہ ان کے اصرار پر دوسری مرتبہ روٹی کھانی پڑتی کیونکہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ماتحت عملے اور خاص کر کم درجے کے ملازمیں سے وہ نہایت حسن سلوک سے پیش آتے۔ان کے مسائل حل کرتے اور ان کی غلطیوں پر بھی انہیں کچھ نہ کہتے بس انہیں اتنا اشارہ دے دیتے کہ”مجھے پتہ چل گیا اب آئندہ ایسا نہ کرنا“۔ان کی زندگی کے کئی ایسے واقعات ہیں جو قابل بیان ہیں۔ان واقعات سے ان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا پنشن کا اکوئنٹ بنک الفلاح کی راولاکوٹ برانچ میں کھلوایا اور اے ٹی ایم کارڈ اپنے ڈرائیور کو ہی دے دیا کہ جب پنشن آئے گی تو جو پیسے مجھے ضرورت ہوں گے وہ تم نکلوا کر لے آنا۔ایک دن ڈرائیور سے کہا کہ بیس ہزار روپے نکلوا کر لے آوں۔ڈرائیور واپس آیا تو تو اس نے کہا کہ اکوئنٹ میں رقم کم ہے شاید پانچ ہزار کم تھے۔تو وہ خود بنک منیجر کے پاس چلے گے کہ میرے اکوئنٹ میں تو اتنے پیسے تھے یہ پانچ ہزار کم کیسے ہو گے۔بنک منیجر نے بنک اسٹیٹمنٹ نکالی تو اسی روز چند گھنٹے پہلے اس اکوئنٹ سے پانچ ہزار نکلوائے گے تھے۔ اتفاق سے میں بھی اسی وقت بنک میں چلا گیا۔جب انہیں بتایا گیا کہ اس اکو ئنٹ سے آج صبح ہی اے ٹی ایم کے ذریعے پانچ ہزار روپے نکلوائے گے ہیں تو تھوڑی دیر خاموش رہے پھر ڈرائیور کو بلایا اور اسے کہا کہ چلو پندرہ ہزار ہی نکلوا دو۔جب ڈرائیور پیسے دے کر باہر گیا تو بنک منیجر سے کہنے لگے کہ ڈرائیور کے پاس ہی اے ٹی ایم تھا اسی نے لیے ہوں گے میں اس کے ساتھ ذکر نہیں کرتا کیونکہ شاید اسے ضرورت ہوئے ہوں گے لیکن آپ بعد میں اس کو سمجھائیں کہ اس طرح دوسروں کے پیسے نہیں لیتے یہ غلط بات ہے۔بظاہر تو یہ ایک واقعہ ہے لیکن اس سے ان کی رحمدلی،انسان دوستی اور شفقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پولیس کے محکمہ میں ان کے ساتھی یا ان کے ماتحت کام کرنے والے اہلکار ان کے کئی واقعات سناتے ہیں جنہیں سن کر یقین نہیں آتا کہ اس طرح کا بھی کوئی آفیسر ہو سکتا ہے۔ایک بات جو ان سے منسوب کی جاتی ہے کہ وہ جب ایس ایچ او تھے تو ساتھی افیسران سے اکثر کہتے تھے کہ آپ نے تو یہاں سے ہی ریٹائر ہونا ہے میں نے بہت آگے جانا ہے۔یہ ان کا عزم اور پختہ ارادہ تھا جسے انہیں نے پورا کیا۔وہ ڈی آئی جی رینک سے ریٹائر ہوئے اور ان کے کئی ساتھی ان تک نہ پہنچ سکے اور قبل از وقت ریٹائر ہو گے۔انہوں نے بھر پور زندگی گذاری،بھر پور سروس کی اور پھر اسی شان سے ان کی موت بھی ہوئی۔گذشتہ ایک سال سے انہیں دل کے عارضہ سمیت کچھ اور بیماریوں کا سا منا رہا لیکن انہوں نے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ بیمار ہیں۔بیمار پرسی کے لیے جانے والوں کو یہ احساس ہوتا کہ بیمار وہ نہیں ہم ہیں۔بیماریوں سے بھرپور مقابلہ کیا، دوسروں کی محتاجی نصیب نہیں ہوئی اور ہنستے مسکراتے اس دنیا سے چل بسے۔نماز جنازہ بھی شان و شوکت سے ہوئی اور زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے شخص نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم