هفته 15  اگست 2020ء
هفته 15  اگست 2020ء

لاک ڈاؤن اور سول سوسائٹی کی ذمہ داریاں

              کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومت آزادکشمیر نے تین ہفتوں جبکہ دیگر صوبائی حکومتوں نے دو دو ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جس کے بعد آزادکشمیر سمیت پاکستان بھر میں نظام زندگی منجمد ہو کر رہ گیا تاہم وہ تجارتی مراکز اور دکانات کھلے رہے جن کی اجازت دی گئی تھی، آزادکشمیر بھر میں انتظامیہ، پولیس اور فوج نے مشترکہ حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کردیا اور پاک فوج کے دستے شہروں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آزادکشمیرکا محل وقوع اور جغرافیائی ہیئت ایسی ہے کہ یہاں پر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے بہترین قدرتی مواقع موجود ہیں، ایک طرف تو کنٹرول لائن ہے، دوسری طرف دریائے جہلم کی صورت میں حدبندی موجود ہے اور آزادکشمیر میں داخل ہونے والوں کو ہر صورت داخلہ کیلئے انٹری پوائنٹس سے گزرنا پڑتا ہے اور وہاں ان کی سیکورٹی چیکنگ بھی ہوتی ہے، علاوہ ازیں آزادکشمیر کی اکثریتی آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور دیہاتوں میں پاکستان، بیرون ملک سے آنیوالوں کی فوری خبر ہو جاتی ہے اور تمام رشتہ دار، محلے دار یا دوست احباب ان کی آمد سے آگاہ بھی ہوتے ہیں، آزادکشمیر میں گزشتہ  ایک ماہ کے دوران چار ہزار کے لگ بھگ افراد بیرون ملک سے آئے اور وہ مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، ان کی اور ان کے متعلقین کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اداروں کو آمد سے مطلع کریں، اب چونکہ آزاد کشمیر میں تین ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن اور پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ بھی بند ہو چکا ہے،ایسے افراد کی آمد کا اب امکان نہیں تاہم لاک ڈاؤن کے دوران ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے کیونکہ یہ تمام اقدامات لوگوں کی صحت کو محفوظ بنانے کیلئے ہیں، دوسری جانب لاک ڈاؤن کے باعث دیہی علاقہ جات میں اشیائے خوردنی کی قلت کا خدشہ بھی موجود ہے، اس لئے حکومتی اور انتظامی اداروں کو اس پر بھی خصوصی نظر رکھنا ہو گی تاکہ ذخیرہ اندوزی و مصنوعی مہنگائی کا بھی تدارک ہو سکے۔     لاک ڈاؤن کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بری طرح متاثر ہوئے جن کے گھروں کے چولہے بجھنے کا خدشہ بھی ہے، ایسی صورت حال میں جہاں حکومت کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں وہاں سول سوسائٹی اور مخیر حضرات کیلئے بھی ایک امتحان ہے، ان حالات میں ہر کسی کو اپنے ارد گرد نظر رکھنے کی ضرورت ہے اورحاجت مند افراد کی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہو گا۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم