اتوار 12 جولائی 2020ء
اتوار 12 جولائی 2020ء

آزاد کشمیر میں جامعات کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکومتی منصوبہ۔۔۔۔۔۔ عابد صدیق

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی  کے کل ہو نے والے اجلاس میں حکومت آزاد کشمیر  میں قائم جامعات کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک مجوزہ  ایکٹ پیش کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد جامعات کا انتظامی کنٹرول اور وائس چانسلرز کی تعیناتی کا اختیار حاصل کرنے ہے۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی صوبوں کو آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے داخلی خود مختاری حاصل ہوگئی اور تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا۔ صوبائی حکومتوں نے(HED) ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کئے، اِن ڈیپارٹمٹس نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی پالیسیوں پر عمل پیرا  اور اشتراک جاری رکھتے ہوئے صوبائی پبلک سیکٹر جامعات کے ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ تعاون کیا اور طلباء کے لیے وظائف کا اجراء بھی کیا۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد HEC آرڈینس2002 ؁کے مطابق پاکستان اور آزادجموں و کشمیر کی تمام پبلک سیکڑز جامعات کے ریکرنگ بجٹ TTS اساتذہ  کی تنخوائیں اور تعمیراتی منصوباجات کی تکمیل کے علاوہ دیگر متعد دتعلیمی مقاصد کی ترقی کیلئے خطیر رقم فراہم کر رہی ہے۔ خصوصاََ آزادکشمیر کی جامعات کو HEC اسلام آباد (پاکستان) کی طرف سے گیارہ سے تیرہ ارب روپے ملنے والی سالانہ گرانٹ کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے۔ جس سے ان جامعات کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔خیبر پختون خواہ حکومت نے سال 2015 ؁میں صوبے کی جامعات میں رائج نظام کو ایک نئے ایکٹ سے بدل ڈالا۔ اس ایکٹ میں صوبائی وزیر تعلیم کو جامعات کو  Proچانسلر  کا درجہ دیا گیااور جامعات کی دیگر (Bodies) میں حکومتی  عہدیداروں کو شامل کیا گیا۔ صوبائی حکومت کو جامعات کنڑول کرنے کا اختیار تو مل گیا لیکن سیکرٹریٹ طرز پر جامعات کا نظام چلانے کے اقدامات نے وقت گزرنے ساتھ ساتھ جامعات کی تدریسی و انتظامی نظام اور داخلی خودامختاری کو بُری طرح متاثر کیا۔چنانچہ صوبائی حکومت نے 2017 اور2018 میں اس ایکٹ میں دوبارہ ترمیم کر کے اس کو ہائیر ایجوکیشن اسلام آباد (پاکستان) کے منظور کردہ ماڈل ایکٹ 2002؁ سے ہم آہنگ کرتے ہوئے سابقہ  نظام بحال کر دیا۔ ملک میں جامعات کے قیام اور ماڈل ایکٹ 2002 میں معمولی ردوبدل کے ساتھ ہم اہنگ ایکٹ مرتب کرنے میں HEC اسلام آباد  کاکلیدی کردار ہوتا ہے۔ HEC  اسلام آباد کی اس قانونی حثیت کو ہر جامعہ کے منظور شدہ ایکٹ میں اس طرح سمو دیاجاتا ہے۔(کمیشن سے مراد یہاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہے)۔علاوہ ازیں HEC اسلام آباد  اور پاکستان کے آرڈینس2002؁ میں جامعات کو دی گئی اکیڈمک، فنانشل اور ایڈمنسٹریٹو خودمختاری ہر جامعہ کے ایکٹ کا قانوناًً حصہ ہوتی ہے اور رہتی ہے۔ HEC  آرڈینس2002؁ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ سے  منظور ہوا ہے اور دیگر صوبائی بشمول آزادکشمیر قانون اسمبلی نے اس ماڈل ایکٹ کو اپنی تمام جامعات کے ایکٹس میں قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کیا ہو ا ہے۔اس طرح قانونی اور آئینی حیثیت پانے والے 13 نومبر2002 ؁کے صدارتی آرڈینس پر جنرل پرویز مشرف، صدر پاکستان کی زیر صدارت مئی2004؁ اور2006 ؁کے چانسلرز کمیٹی اجلاس  (جس میں میجر جنرل (ر) سردار محمد انور خان نے بحثیت صدر ریاست اور چانسلر AJK یونیورسٹی مظفرآبادشرکت کی تھی)  سختی سے من و عن عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متذکرہ صدارتی آرڈینس ہی ملک کی تمام جامعات کے ایکٹ کے صورت میں موجود ہے۔ مئی 2006؁ کے اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن پاکستان کو آزادکشمیر میں درج ذیل اہم رول دیا گیا ہے:  (The AJK Government will initiate the process to recognize the Higher Education Commission of Pakistan setup under Ordinance L-III of  2002, as the sole legal body in the Territory of AJK responsible for all aspects related to Higher Education.)                        درج بالا سطور اس بات کی وکالت کرتی ہیں کہ ہائیر ایجوکیشن اسلام آباد جو جامعات کے قیام۔ خطیر سالانہ گرانٹ کی فراہمی۔، نصاب کی منظوری۔پیشہ وارانہ تعلیمی شعبہ جات کی ایکریڈیشن۔ اعلیٰ تعلیمی اسناد کی تصدیق کا ایک با اختیار کمیشن ہے کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خیبر پختون خواہ حکومت نے اپنے یونیورسٹیز ایکٹ HEC اسلام آباد (پاکستان) کے ماڈل ایکٹ2002 ؁کے قریب تر لے آئی۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے HEC اسلام آباد (پاکستان) کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے تمام پبلک سیکٹرز جامعات کے ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ تعاون کیا،  جبکہ صوبہ سندھ میں HED کے قیام کے معراب تک تعلیمی نظام بے جا سیاسی مداخلت سے بُری طرح متاثر ہو ا ہے۔ صوبہ بلوچستان HEC  اسلام آباد کی پالیسیوں پر ہی عمل پیرا رہا ہے۔آزادکشمیر کا نظام حکومت آزادکشمیر کے عبوری ایکٹ (آئین) 1974 کے تحت کام کر رہا ہے۔ چنانچہ اس حیثیت میں قانونی اور آئینی طور پر پاکستان کی اٹھارویں آئینی ترمیم کا اطلاق ریاست اور ریاستی عبوری آئین کی اُن دفعات (Articles)  اور شیڈولز میں پہلے سے درج وفاق سے متعلق امور و معاملات پر نہیں ہوتا ہے اور نہ  ہی ان امور سے متعلق وفاق کی منظوری بغیر قانون یا آئین سازی کی جاسکتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بھی آزادکشمیر کے مختلف معاملات وفاقی ریگولیٹری باڈیز کے ماتحت ہیں اِن سے متعلق ریاستی قانون سازی کا اختیار نہیں صوبائی طرز پر آزادکشمیر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے بعد KPKحکومت کے 2015 یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ کے طرز پر جامعات کا انتظامی کنٹرول اور وائس چانسلرز کی تعیناتی کا اختیار حاصل کرنے کیلئے حکومت آزادکشمیر  8 مئی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی میں ایک ایکٹ پیش کرنے جارہی ہے۔ مجوزہ ایکٹ میں وزیر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو جامعات کےPro چانسلر کا درجہ دیا گیا ہے۔سینٹ کی تشکیل سیکرٹریزحکومت اور ممبران قانون ساز اسمبلی پر مشتمل تصور کی گئی ہے۔ وائس چانسلرز کی تعیناتی کیلئے سرچ کمیٹی کی تشکیل کا اختیار صدر ریاست / چانسلر کی چیئرمیں شپ میں نامور ماہرین اور اعلیٰ غیر سیاسی شخصیات پر مشتمل با اختیار سپریم باڈی سینٹ سے لیکر حکومت کو دیا جارہا ہے جو ماڈل آرڈینس2002؁  اور ایکٹ کی حرفاََ خلاف ورزی ہے۔ تقابلی جائزہ کیلئے موجودہ ایکٹ میں سینٹ کی تشکیل درج ہے۔ صدر ریاست /چانسلر ۔        چیئر پرسن،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن (AJK)   ڈیپارٹمنٹ بلحاظ عہدہ یا گریڈ 19 کا نامزد نمائندہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،سول سوسا ئٹی کے چار افراد  جو ایڈمنسڑیشن۔منیجمنٹ۔ایجوکیشن۔اکیڈمکس،قانون۔ اکونٹنسی۔ میڈیسن۔ فائن آرٹس۔ آرکیٹکچر۔ زراعت۔ سائنس وٹیکنالوجی اور انجنیئرنگ کے شعبہ میں منفرد  مقام اور  امتیازی حثیت اور بلند تجربات کے حامل ہوں۔قومی اکیڈمکس سطح کے (2 آزاد)جو مذکورہ یونیورسٹی کے ملازم نہ ہوں اور عہدہ پر پروفیسر یاکالج کے پرنسپل سے کم نہ ہو۔یونیورسٹی اساتذہ حلقہ انتخاب کے مطابق ہائیر ایجوکیشن آف پاکستان اسلام آباد کا نامزد نمائندہ ان اعلیٰ غیر سیاسی ماہرین  اور تعلیمی شخصیات کا انتحاب بطور ممبر سینٹ ایکٹ میں دیے گے شفاف طریقہ کار کے مطابق عمل میں لایا جاتا ہے اور اس سپریم فورم کو یونیورسٹی کا گلدستہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔چنانچہ تدریسی ماحول کو سول سرونٹس اور سیکرٹریٹ سروس کے طرز پر چلانے کی کو ششوں سے جامعات بہتری کے بجائے تنزلی کا شکار ہونگی۔وائس چانسلر انتہائی اہم منصب ہے اس عہدہ پر تعینات شخصیات اعلیٰ تعلیم یافتہ۔ ممتاز ماہرین تعلیم۔ بین الاقوامی سطح کے سکالرز۔ وسیع تدریسی۔انتطامی مالی امور  کے تجربات۔ریسرچPublications اور لیڈر شپ کوالٹی کے حامل ہوتے ہیں۔ TTSپروفیسربننے کے لیے بھی ریسرچ کا مطلوبہ معیار مکمل کرنے کے باوجود انتخاب کے عمل میں کامیابی سے مشروط ہے۔ وائس چانسلر اورTTS پروفیسر کاMP-IIسکیل اور بلحاظ عہدہ مساوی پے سکیل22 ہوتاہے۔جبکہ پروفیسرز،میریٹوریس پروفیسربنیادی پے سکیل 21 اور 22 میں تدریسی فرائض کے علاوہ بطور ڈین۔ ٹریژر۔ڈائریکٹر کے اضافی فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ اس طرح ایسوسیٹ پروفیسرز بنیادی سکیل 20 کو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ۔پرنسپل آفیسرز  اورDSAکے اضافی فرائض بھی تغویض کیے جاتے ہیں۔ اسسٹنٹ پروفیسربنیادی سکیل 19 اور لیکچرر بنیادی سکیل 18 کو بھی حسب ضرورت اضافی فرائض سونپے جاتے ہیں۔یونیورسٹی اساتذہ کی اگلے گریڈ میں ترقی سول سرونٹس کے مصداق سنیارٹی کے بجائے مطلوبہ پی ایچ ڈی۔پوسٹ پی ایچ ڈی تعلیمی قابلیت۔ ریسرچ اورPublicationکا معیار پورا کرنے کے باوجود (Selection Board)  میں کامیابی سے مشروط ہے۔ان سطور سے یونیورسٹی کی تدریسی سروس اور سول سروس کا طریقہ انتخاب + کارگردگی اور ماحول کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ جات میں جامعات کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا، چنانچہ سینئر ترین یونیورسٹی انتظامیہ اور پروفیسر صاحبان کو اُن سے جونیئر سکریڑی صاحبان کو جواب دہ بنانا  اُن کی تضحیک اور نانصافی کے مترادف ہو گا جس سے ادارے کی تدریسی اور تحقیقی سرگرمیاں  اور انتظامی ماحول بری طرح متاثر ہوگا۔ جامعات کو چارٹر کرنا۔ سلیبس اور نئے ٖ شعبہ جات (تعمیلی شعبہ جات) کے اجراء کی منظوری۔پیشہ وارانہ ڈیپارٹمنٹس کی ایکری ڈیشن۔ڈگریوں کی تصدیق اور ہم پلہ دینے کے علاوہ  متعدد دیگر اہم تعلیمی معاملات HEC اسلام آباد کے دائرہ اختیار  میں ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کو آرڈینس 2002؁  میں دیئے گئے آئینی اور قانونی اختیار رائے کے برعکس مجوزہ ایکٹ کے نفاز سے ریاستی جامعات میں گھمبیر مسائل پیدا ہونگے۔خصوصاّّریاستی جامعات کو سالانہ ملنے والی کم و بیش 13 ارب روپے کی گرانٹ خطرے میں پڑھ سکتی ہے جس سے جامعات۔ طلباء۔بشمول فارغ و تحصیل طلباء رواں ڈیپارٹمنٹس اور جامعات سے وابستہ ہزارون ملازمین کا مستقبل تاریک ہو جا جائے گا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد HEC آرڈینس اور ماڈل ایکٹ 2002؁ سے متصادم مجوزہ ایکٹ کے منفی مضمرات سے  تدلل  پید ا ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر حکومت کو ایسے تحفظات سے تحریری طور پر آگاہ کر چکی ہے اس کے باوجود مجوزہ ایکٹ کے نفاز کا مقصد ریاستی حکومت مرکز کے کاندھوں سے آزادکشمیر کا بھاری بھرکم بوجھ ایسے ناتواں کاندھوں پر ڈال رہی ہے  جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ ایچ ای سی  اسلام آباد کے کردار  کا آرڈینس 2002؁  کی روشنی میں احمابی خاکہ۔  جامعات کی کامیابی میں HEC کا خصوصی کردار۔سلیبس کی منظوری۔طلباء اور ریگولر پروفیسر ز کا تناسب مقرر کرتا۔ڈیپارٹمنٹس کے اجراء کی منظوری۔ملک بھر کی چارٹرڈ جامعات کی جاری کردہ ڈگریوں کی تصدیق۔TTS پروفیسر صاحبان کے بھرتی کے قوانین مرتب کرنا۔TTS اساتذہ کی بھاری تنخواہوں کو بجٹ فراہم کرنا اور ہر سال ایک پوری تنخواہ بطور گریجوٹی۔ملک بھر سے تازہ Ph.D اساتذہ کو IPFPسکیم کے تحت جامعات میں ابتدائی ایک سال کیلئے بھرتی کرنااور تنخواہوں کا بوجھ خود  اُٹھانا۔HEC  سکالر شپ پر اندرون اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اساتذہ کو ادائیگی۔ Need Basedسکالر شپ سکیم کے تحت آزادکشمیر سمیت ملک بھر کی جامعات کو اربوں روپے کی گرانٹ فراہم کرنا۔پیشہ وارانہ ڈیپارٹمنٹس کی لائبیریز۔اور لیب بنانے کیلئے اربوں کی گرانٹ۔جنرل لائبیریز کے قیام کیلئے بھاری رقوم۔تعمیراتی بجٹ برائے تعمیرات ہاسٹل وغیرہ۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح کی کانفرنسز۔ ورکشاپس سیمینارکے انعقاد پر رقوم۔ اساتذہ کو ریسرچ گرانٹ فراہم کرنا۔ ملکی جامعات مین اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے یونیورسٹی اساتذہ کو 6  ماہ کیلئے گرانٹ دے کر ریسرچ کرانا۔جامعات کی بیرون ملک نمائندگی کرنے کیلئے نامزد اساتذہ کے جملہ سفری اخراجات فراہم کرنا۔ا س کے علاوہ جامعات کی ہر ضرورت پوری کرنے کیلئے HEC اسلام آباد کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔HEC   اسلام آباد۔ہائیر ایجوکیشن کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی پہچان  ہے۔ آزادکشمیر میں موجودہ  جامعات کا قیام اور13 ارب روپے کی سالانہ گرانٹ HEC اسلام آباد پاکستان کا بڑا کارنامہ ہے۔ آزادکشمیر کے عبوری آئین/ایکٹ 74 ؁کے آرٹیکل 31شیڈو ل مین درج جن معاملات پر ریاستی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہیں اُ ن میں سے معاملات سے متعلق وفاقی ایکٹ (قوانین)کو Adapt کر کے دائرہ کار آزادکشمیر تک بڑھادیا گیا ہے۔: آزادکشمیر حکومت کی نیت پر تو شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ماڈل ایکٹ 2002 ؁ اور HEC اسلام آباد آرڈینس 2002 ؁  سے متصادم مجوزہ ایکٹ کا نفاذکسی بھی صورت ریاست و  ریاستی جامعات اور طلباء و طالبات کے مفاد میں نہیں۔ احسن طریقہ یہی ہے کہ ریاستی جامعات کو موجودہ  ایکٹ کے تحت کام جاری رکھنے دیا جائے بصورت دیگران اداروں کی تباہی محکمہ تعلیم کے سکولز اور کالجز سے بھی بدترین منظر پیش کریں گے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم