پیر 26 اکتوبر 2020ء
پیر 26 اکتوبر 2020ء

مکاں“ سے”لامکاں“۔۔۔۔۔از عابد صدیق

” اس دنیا میں آنے والا ہر انسان اپنی زندگی کا شعوری سفر شروع کرنے سے بہت پہلے لاشعوری طور پر ایک نام سے منسوب ہو جاتا ہے۔ قلمی سفر میں بھی یہی ہوتا ہے ابتداء ہی میں یہ جانے بغیر کے اسے کن راہوں سے گزرنا ہے اور کن منازل کو سر کرنا ہے ہر کوئی ایک نام تجویز کر لیتا ہے لیکن بعض دفعہ جب کو ئی فنکار،شاعر حتیٰ کی زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے پیشہ کے اعتبار سے پہلے سے تجویز کردہ نام پر ایسے ٹپکتے ہیں جیسے انہیں اوج ثریا کو چھونے سے پہلے ہی اپنی کامیابیوں و کامرانیوں کا پختہ یقین تھا یا جیسے دنیائے شاعری میں غلبہ و کامرانی جس کا مقدر ہو وہ اپنا تخلص غالب رکھ لے یا پھرعوام کو فیضیاب کرنے کی تڑپ رکھنے والے کواس کے والدین بچپن ہی سے فیض کہہ کر پکارنے لگیں اور بلندیوں پر پہنچنے والا پہلے ہی قدم فراز کہلائے۔ قیادت کرنے والے کیلئے سردار کا لقب اور مسحور نغمات کے خالق کو ساحر کے نام سے یاد کیا جائے۔ ایسا ہوتا ہے اور ایسا ہی کچھ غزالہ حبیب کے ساتھ ہوا کہ والدین نے نام”غزالہ“رکھ تو لیا لیکن اس وقت تو شاید انہیں بھی علم نہ تھا کہ آج کی یہ ننھی منھی بچی جسے ”ہرن کے بچے“سے تشبیہ تو دے دی کیایہ ساری خوبیاں اس بچی میں پائی جائیں گی؟ لیکن دور طالب علمی سے لیکر عملی زندگی کی دہلیز تک پہنچنے اور پھر اوج ثریا کو چھونے تک غزالہ حبیب نے ثابت کیا کہ شعوری سفرسے کئی برس پہلے والدین نے جس نام کا انتخاب کیا،ان کے اس خواب کی تعبیر کو پورا کیا اور آج وہی نام ان کی پہچان بن گیا۔      غزالہ حبیب کا تعلق وادی پرل کے ایک خوبصورت قصبے رہاڑہ (بہندار)سے ہے۔ یہ ایک متوسط گھرانا تھا۔ان کے والد محترم روزگار کے سلسلہ میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی گئے تو پھر وہاں کے ہی ہو کر رہ گے۔یوں غزالہ نے بھی ایک ایسے شہر میں آنکھ کھولی جو پاکستان کے ادبی شہروں میں ایک بڑا نام تھا اور اب بھی ہے۔اس ادبی ماحول کا اثر غزالہ پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوا کہ اس نے زمانہ طالب علمی میں ہی شعر و شاعری سے دلچسپی کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور کراچی میں منعقدہ عالمی مشاعرے سمیت کئی مشاعروں میں نوجوانوں کی نمائندگی کی  اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے لیکن پھر بوجوہ ثانوی طور پر مشاعروں میں جانے سے کنارہ کشی کر لی لیکن غیر محسوس طریقے سے دلچسپی کا اظہار جاری رکھا۔یہ ان کی ادبی دلچسپی کا نتیجہ ہی ہے کہ اب”لامکاں“ کی صورت میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ ہمارے سامنے ہے۔  غزالہ حبیب کا کا شعری مجموعہ”لامکاں“ عصرِ حاضر کا بالکل صاف و شفاف آئینہ ہے جس میں ہر عکس نہایت واضح اور اپنی اصل ہئیت میں نظر آتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس سے نکلنے والی عکسی شعاعیں کرداروں کے نفس و ذہن اتر کر ظاہر و باطن کی تصویر کشی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اس لئے بجا طور یہ حقیقت نگاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں آئے دن جو کچھ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں وہی سب کچھ اس شعری مجموعہ میں پایا جاتا ہے اضافی بات یہ ہی کہ غزالہ کی وطن سے محبت اور آزادی کی تڑپ بھی اس مجموعہ میں واضع نظر آتی ہیں۔        خالق کائنات نے ہر فردِِ بشر کوحواس خمسہ کے ساتھ ساتھ فہم و فراست کی بیش بہا دولت سے بھی نوازہ ہے لیکن کم لوگ ہیں جو اس کا کماحقہ استعمال کرتے ہیں۔ غزالہ نے جس خوبی کے ساتھ ان خدا دادا صلاحیتوں سے استفادہ کیا ہے یہ ان کا اپنا حصہ ہے۔ اپنے محدود مطالعہ کی بنیاد پر میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بہترین شعری مجموعہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔”لا مکاں“ کی حیثیت اور آفادیت اپنی  جگہ لیکن غزالہ حبیب کی پہچان صرف شعری مجموعہ ہی نہیں بلکہ ان کی غیر سرکاری تنظیم ”فرینڈزآف کشمیر“ان کا اصل مسکن ہے۔غزالہ نے اس تنظیم کی بنیاد غالباً1997 کے عشرے میں زمانہ طالب علمی میں رکھی۔خود مختلف نشیب و فراز سے تو گذری ہیں لیکن اس تنظیم کا پرچم تھامے رکھا۔اس تنظیم کا بنیادی مقصد وطن سے محبت کو اجاگر کرنا اور کشمیر کی آزادی،محکوم کشمیریوں کو غلامی کی زندگی سے نجات دلانا ہے۔جس کے لیے اس پلیٹ فارم سے اندرون و بیرون ملک ان کی جہدوجہد لازوال ہے۔وہ خود نمائی کی اتنی قائل نہیں یہی وجہ ہے کہ نظریہ الحاق پاکستان کی حامی ہونے کے باوجود مختلف نظریات کے حامل طبقات کو ساتھ لے کر چلتی ہیں اور شاید یہی طریقہ کار ان کی کامیابی کا سبب بھی ہے۔ ”لامکاں“ کی تقریب اجراء کا سلسلہ شہر قائد کراچی سے جو خود غزالہ حبیب کا مسکن بھی رہا شروع ہوا تھا۔اسی شہر میں غزالہ حبیب نے زمانہ طالب علمی میں عالمی مشاعرے میں نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مشاعرے میں اپنا کلا م پڑھا جسے بے حد سراہا گیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ کتاب کی پہلی تقریب کا اہتمام بھی اسی شہر میں کیا اور جائے تقریب بھی ایوان صحافت اور آرٹس کونسل ٹھرے جس سے ان کی علم دوستی عیاں تھی۔پھر یہ سلسلہ اسلام آباد ایوان صحافت سے ہوتا ہوا ایوان صحافت مظفرآباد، ایوان صحافت باغ اور  ایوان صحافت راولاکوٹ آکر رکا۔گویا آغاز بھی مسکن سے اور اختتام بھی مستقل مسکن آکر ہوا۔شاید کم لوگ راولاکوٹ میں منعقدہ  اس تقریب سے پہلے یہ جانتے تھے کہ غزالہ حبیب بھی اس راولاکوٹ  کے نواحی گاؤں کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی بیٹی ہیں۔ اور اس بات کا اعتراف کئی مقررین نے دوران تقاریر اور بعد ازاں اپنی تحریروں میں بھی کیا۔راولاکوٹ میں ”لامکاں“کی تقریب اجراء کی میزبانی غازی ملت پریس کلب کو حاصل ہوئی۔اس تقریب میں صحافتی حلقوں کے علاوہ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ہماری دعا ہے کہ مزید کامیابیاں و کامرانیاں ان کے نصیب میں آئیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم