پیر 12 اپریل 2021ء
پیر 12 اپریل 2021ء

عوامی ایکشن کمیٹیوں کا تقا بلی جائزہ۔۔۔۔عابد صدیق

قسط نمبر 1  ”ایکشن کمیٹی“کا نام تو بچپن سے ہی سنتے آرہے ہیں۔اس وقت اس کمیٹی کی اہمیت یا افادیت قدرے مختلف تھی پھر وقت گذرتے گذرتے اس کی شکل و صورت اور ہیت بدلتی گئی۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس وقت ایکشن کمیٹی تب بنائی جاتی تھی جب پہلے سے قائم کمیٹیوں کے فیصلوں پر عملدرامد نہیں ہوتا تھا اور کسی ایکشن کی ضرورت پڑتی تھی تب ایکشن کمیٹی بنائی جاتی تھی۔ 2012 میں آئی ایم ایف کے دباو پر حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو آٹے پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی تو گلگت میں پہلی بار”عوامی ایکشن کمیٹی“ کا قیام عمل میں آیا اور آٹے پر سبسڈی بحال کروانے کے لیے ایک تحریک چلائی گئی۔سبسڈی ختم کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ بنی کہ وفاقی حکومت نے سبسڈی کی مد میں گندم کی خرید و فروخت کرنے والے ادارے پاسکو کو 2001 سے2012 رقم کی ادائیگی نہ کی تھی جو اس وقت   13ارب روپے بنتی تھی۔ گلگت میں گندم پر سبسڈی 1970 کے بعد سے جاری ہے، جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذولفقار علی بھٹو نے، خطے کے محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے جی بی کے مقامی لوگوں کے لئے کچھ کھانے پینے کی اشیاء خصوصاگندم کی سبسڈی دینا ضروری سمجھا تھا۔آٹے پر جب سبسڈی ختم کی گئی تو سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے مل کر عوامی ایکشن کمیٹی عمل میں لائی اور ایک نکاتی ایجنڈے پر ”گندم پر سبسڈی بحال کرو“تحریک کا آغاز کیا۔30 دنوں تک دھرنا دئیے رکھا (سڑکوں کو بلاک کیے بغیر)،بالاخر وفاقی حکومت نے گندم پر سبسڈی بحال کر دی۔جی بی میں ایک عام آدمی کی رائے ہے کہ جب تک اس خطے کی آئینی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا، سبسڈی کو ختم کرنے کے مقصد سے کسی بھی اقدام کی مزاحمت کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ، خطے میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے، لہذا انتخابی سبسڈی کی کسی بھی بات کا کوئی مناسب حل معلوم نہیں ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں کو مراعات دے کر زراعت کے شعبے میں اصلاحات لائے۔عوامی رائے اپنی جگہ لیکن وہاں کی مقامی حکومتوں کا یہ خیال رہا ہے کہ سبسڈی ایک منشیات کی طرح ہے، جس سے مقامی زراعت کے شعبے کو تندرستی کی طرف راغب کرنے میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ اس خطے کے باشندے 1970 کی دہائی سے قبل خوراک کی پیداوار میں خود کفیل تھے۔ وہاں کی حکومتوں کا خیال ہے کہ مختلف آمدنی کے بجائے کم آمدنی والے طبقے کے لئے منتخب سبسڈی کا منصوبہ بنا یاجائے۔ ان کی تجویز کے مطابق سبسڈی سے ملنے والی رقم کے برابر رقم مستحق شہریوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے۔پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کے مطابق گندم کے ریزرو اسٹاک اور گندم کی کاروائیاں برقرار رکھنے کے لئے گلگت بلتستان کے لئے گندم کی سبسڈی کو کم کرنے کے باوجود سالانہ 6 ارب روپے دئیے جا رہے ہیں۔گلگت بلتستان کے بھی تین ڈویژن اور دس اضلاع ہیں اور کئی دشوار گذار راستے ہیں لیکن وفاق کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے وہاں آج بھی آٹا 650 روپے فی من ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین حافظ سلطان رائیس کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی آج بھی فعال ہے ہم نے اب وفاقی حکومت کے سامنے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ آبادی کے تناسب سے ہمارا کوٹہ بڑھایا جائے۔اور سبسڈی میں اضافہ کیا جائے۔ حافظ سلطان رائیس دو دفعہ اس ایکشن کمیٹی کے صدر رہے۔رواں انتخابات میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حلقہ ون گلگت سے حصہ لیا اور  8,356 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد حسین نے  11,178لے کر کامیابی حاصل کی۔حافظ سلطان رائیس سماجی اور سیاسی کارکن ہونے کے باعث واضع موقف رکھنے والے انسان ہیں اور یہ ان کی ہی حکمت عملی رہی کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی سمت درست تھی اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل 22 مطالبات میں سے 14 مطالبات پورے کر لیے گے۔وہ کہتے ہیں انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ حکومت میں کون آیا اور اپوزیشن میں کون ہے گلگت بلتستان کے وسائل کا دفاع ہم کریں گے۔ حکومت عوام دوست فیصلے کرے گی تو مکمل طور پر تعاون کریں گے عوام دشمن فیصلہ جات کی صورت میں عوامی اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔ حکومتی اور اپوزیشن میں بیٹھے ممبران کی ذمہ داری ہے کہ گلگت بلتستان کے اہم اور بنیادی مسائل حل کیلئے مل کر کردار ادا کرے اور پارٹی وفاداریوں سے بالاتر ہوکر تعمیر و ترقی کی فکر کریں۔ درحقیقت وہاں عوامی ایکشن کمیٹی ایک بااثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں سمیت سماجی تنظیمیں،ٹریڈ یونینز،بار ایسوسی ایشنز کے ممبران اس کے نمائندے ہیں۔ستررکنی ایگزیکٹو کونسل ہے جو پانچ سالوں کے لیے عہدیداران کا انتخاب کرتی ہے۔جنرل الیکشن سے قبل تنظیم کے عہدیداران عہدے چھوڑ دیتے ہیں تا کہ آزادانہ ماحول میں انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔اسمبلی کے انتخابات کے بعد یہی ستر رکنی کونسل دوبارہ عہدیداران کا چناو کرتی ہے۔یہ ایک جموری عمل ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ تبدیل نہیں ہوتا اور اگر کوئی اور مطالبہ جو عوامی مفاد میں ہو اس دستاویز کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام کو آزاد کشمیر سے کئی درجے بہتر اور زیادہ سہولتیں میسر ہیں۔گلگت میں سی ایم ایچ،ڈسٹرکٹ ہسپتال،تحصیل ہسپتال کے علاوہ اٹامک انرجی کینسر ہسپتال بھی ہے جس کے باعث وہاں صحت کی زیادہ بہتر سہولیات میسر ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں صرف دس روپے کی پرچی پر تمام علاج مفت ہوتا ہے۔گورنمنٹ کی بسوں پر رعایتی ٹکٹ دستیاب ہیں،تیل کی قیمتیں پورے پاکستان سے سستی ہیں جس پر باقاعدہ سبسڈی دی جاتی ہے۔لیکن یہ سب کچھ وہاں کے عوام کی مشترکہ جہدوجہد اور دوراندیشی سے کیے جانے والے فیصلوں کے باعث حاصل ہوا ہے نہ کہ سڑکیں بند کرنے سے،پاکستان کو گالیاں دینے سے یا دیگر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے۔(جاری ہے)          

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم