منگل 25 جنوری 2022ء
منگل 25 جنوری 2022ء

کیا وزیر اعظم ایسے ہوتے ہیں؟ تحریر۔۔عابد صدیق

یہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے2011 کے انتخابات تھے اور آزاد کشمیر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی حکومت تھی جس کی نگرانی میں یہ انتخابات ہو رہے تھے۔آزاد کشمیر حکومت کے موجودہ وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی ایل اے 17 پونچھ 1 عباسپور سے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار تھے۔پولنگ سے ایک رات پہلے جب الیکشن مہم ختم ہو چکی تھی کوٹلی میں تعینات اس وقت کے ڈسٹرکٹ سیشن جج جو کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر بھی تھے کچھ دیرلیے محکمہ سیاحت کے تتہ پانی گیسٹ ہاوس میں رکے۔یہ گیسٹ ہاؤس ضلع پونچھ کی حدود میں اور کوٹلی کی سرحد پر واقع ہے۔یہی سے ایل اے 17 پونچھ 1 عباسپور کی حدود بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ سیشن جج نے  تتہ پانی گیسٹ ہاوس  میں غیر معمولی سرگرمیاں کو محسوس کیا اور کچھ غیر ریاستی باشندوں کو وہاں گھومتے پایا تو انہوں نے اس وقت کی ضلعی انتظامیہ (پونچھ) کو ان مشکوک افراد  کے بارے میں اطلاع دی۔ ضلعی انتظامیہ نے مقامی پولیس اور مجسٹریٹ کے ذریعے پتہ چلایا تو انکشاف ہوا کہ امیدوار قانون ساز اسمبلی سردار عبدالقیوم نیازی نے ان انتخابات میں اثر انداز ہونے کے لیے یہ لوگ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بعض شہروں سے جہاں ان کے بھائی  کا کاروبار ہے کرایے پر لائے ہیں اور ان کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ وہ اسلحہ سے لیس ہو کردرہ شیر خان  اور اس سے ملحقہ پولنگ اسٹیشنز پر ڈیوٹیاں دیں گے،خوف و ہراس پھلائیں گے اور جہاں نتیجہ خواہشات کے برعکس آئے گا وہاں پولنگ باکس اٹھا لیے جائیں گے۔ڈیوٹی مجسٹریٹ نے پولیس نفری کے ہمراہ ان غیر ریاستی افراد کو پہلے حراست میں لیا اور پھر پولیس کی گاڑیوں میں بیٹھا کر رات کو ہی پنجاب کے شہر دینہ میں لے جا کر چھوڑ دیا۔سردار عبدالقیوم نیازی کو احتجاج کرنے کا موقع تو نہ ملا لیکن الیکشن والے دن اپنے فارمولے پر قائم رہے اور دو سے زائد پولنگ اسٹیشنز سے ان کے کارکنوں نے پولنگ باکس اٹھا لیے اور پھر وہ ساتھ لے کر ہجیرہ آگے اور وہاں سے متعلقہ احکام کو اطلاع دی کہ پولنگ باکس میرے پاس ہیں۔وہ ان انتخابات میں ہار  گے اور چوہدری یاسین گلشن کامیاب ہوئے تھے۔ان واقعات کا تذکرہ کرنا اس لیے مناسب سمجھا کہ چند دن قبل انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دورہ عباسپور کے دوران ایک متنازعہ تقریر کی جس میں صحافیوں کو”جوتیاں مارنے“ کا اعلان فخریہ انداز میں کیا۔آزاد کشمیر بھر کی صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں نے ان کی اس تقریر کو ان کے شایان شان قرار نہیں دیا۔یہ حقیقت ہے کہ ایک ریاست کے وزیر اعظم کو کسی عوامی اجتماع سے بات چیت کرنے سے پہلے گفتگو میں شائستگی لانی چائیے اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چائیے۔مضمون کے ابتدائیہ میں درج واقعات کے پس منظر میں وزیر اعظم عبدالقیوم نیازی کی شخصیت کو پرکھا جائے تو پھر تو ان کی یہ تقریر معمول کی تقریر لگتی ہے لیکن شاید وہ یہ بھول گے کہ اب وہ ایک ایسے منصب پر فائز ہیں کہ جہاں ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ایک معنی رکھتے ہیں۔وہ ایک سیاسی کارکن رہے ہیں اور لوکل کونسل سے انتخابی پراسیس کا حصہ بنتے آئے ہیں۔اگر کسی صحافی یا کسی اخبار کی انتظامیہ سے کوئی مسئلہ تھا یا ہے تو اس کے خلاف متعلقہ فورم کے ذریعے کارروائی کیا جاسکتی ہے۔عدالت میں جایا جا سکتا ہے لیکن سڑک کنارے کھڑے ہو کر گالیاں دینے سے وقتی طور پر ضمیر کا بوجھ تو ہلکا کیا جا سکتا ہے لیکن معاشرے میں کوئی مقام نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اس طرح کی دھمکیوں سے کسی کو ڈرایا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم کی اس تقریر سے کچھ دن پہلے اسی حکومت کے ایک سنیئر وزیر نیلم پریس کلب میں اس سے ملتی جلتی گفتگو کر چکے ہیں جس سے لگتا ہے کہ یہ یا تو حکومتی پالیسی ہے یا پھر پاکستان میں گزشتہ سالوں کے دوران پروان چڑھنے والے کلچر کی جھلک ہے۔میں اس غلط فہمی میں نہیں ہوں کہ ”صحافی“ ہمیشہ پاک صاف دامن رکھتے ہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ سیاستدانوں کی اکثریت ان ہی صحافیوں کے کندھوں پر سیڑھیاں لگا کر یہاں تک پہنچی ہے اس وقت صحافی بہت اچھے ہوتے ہیں جب وہ ان کی حمایت میں لکھتے ہیں خواہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو لیکن اس وقت برے ہو جاتے ہیں جب کوئی کڑوی بات لکھی جائے۔    جناب وزیر اعظم بات آپ تک محدود ہوتی تو قابل قبول ہوتی۔آپ کے فیملی ترجمان نے اپنے ویڈیوپیغام میں بظاہر آپ کی بات کی وضاحت کی لیکن دبے لفظوں ساتھ اسی طرح کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔کیا آپ کا سارا خاندان ”جنگ“ کا میدان سجانے اقتدار میں آیا ہے۔آپ تو وزیر اعظم کی حیثیت سے کچھ کہہ بھی دیں تو کہہ دیں کہ آپ”حاکم“ ہیں ریاست کے لیکن آپ کی فیملی کی طرف سے وضاحتیں دینا اور پھر آپ کے الفاظ دہرا کر انہیں مستند ماننا کسی صورت مناسب نہیں۔جناب وزیر اعظم آپ کے ماتحت ایسے ادارے ہیں جو وضاضتی بیان جاری کر سکتے ہیں۔آپ خاندان اور حلقے سے باہر نکلیں،آپ ”آزادریاست“ کے وزیر اعظم ہیں،یہ خاندان اور براردری ازم چلانے والے آپ کی کابینہ میں اور بہت سارے ہیں آپ کواس ”مشکل“ کام میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔اقتدار اور دولت کوئی سدا بہار چیزیں نہیں ہیں،یہ تو اللہ تعالیٰ بس دے کر آزماتا ہے۔آپ اور آپ کے کچھ ممبران کابینہ کو”دھمکیاں“ دینے کی بجائے ہر روز دو نوافل ادا کرنے چائیے۔کیونکہ آپ تو لاٹری نکلنے پر اس منصب پر پہنچے ہیں،اور کچھ ممبران ”دولت“ کو سیڑھی بنا کر،ورنہ سیاسی ریاضت تو اور لوگوں کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو یہ موقع دیا ہے تو اسے مت گنوائیے۔آپ کی”ٹیم“  شاید آپ کو منفی سائیڈ پر لے جا رہی ہے،خود،معاملات کا جائزہ لیں اور دوراندیشی سے فیصلے کریں اور اپنے قرب و جوار منڈلانے والوں پر نظر رکھیں۔ ٓٓپ کو   

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم