منگل 25 جنوری 2022ء
منگل 25 جنوری 2022ء

”رائٹ فاونڈیشن“ کا گردوں کے مریضوں کے لیے منصوبہ از۔۔عابد صدیق

 انسان کے جسم کے ہر عضو کے اندر ایک خاصیت رکھی گئی ہے۔ ان تمام اعضاء میں سے کسی ایک اعضاء کی کمی انسان کو معذور بنا دیتی ہے۔انسان کے ان ہی اعضاء میں سب سے اہم گردے ہیں۔گردے کے امراض کے ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ”عام طور پر لوگ اپنے گردوں کی جانب دیگر اعضاء کی طرح توجہ نہیں دیتے، اس کے باوجود گردے آخری دم تک انسانی جسم میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہتے ہیں۔ جب گردے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں تو ایک وقت پر وہ بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تب جا کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے سب سے اہم عضو گردے کو کس طرح سے نظر انداز کرتا رہا ہے۔ گردوں پر بیماری کا اثر جب تک ظاہر ہوتا ہے تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے حالانکہ اس سے قبل انسانی جسم میں ہونے والی بعض تبدیلیاں اشارہ بھی دے رہی ہوتی ہیں کہ گردوں میں کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے لیکن اکثریت اپنی بیماری پر تب تک توجہ نہیں دیتی جب تک کے بڑے مسئلے سے دوچار نہ ہو جائے“۔ایک رپورٹ کے مطابق گردوں کی بیماری کا مریض کو تب پتہ چلتا ہے جب گردے نوے فیصد تک اپنا کام کرنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں، اسی لئے گردوں کی اہمیت اور اس کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو گردوں کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز سن 2006 سے کیا گیا تھا۔ گردوں کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں کی توجہ جسم کے اس اہم عضو کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے جو لاپروائی اور غلط علاج کی وجہ سے ناکارہ ہو جاتا ہے اور پھر انسان کے زندہ رہنے کی امید کم ہو جاتی ہے۔  ایک دن پہلے ایسی ہی ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا جو ”رائٹ فاؤنڈیشن“ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے منعقد کی تھی۔اس تنظیم کی ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر عذرا لطیف ہیں جن کا تعلق راولاکوٹ سے ہی ہے۔یہ تنظیم ماحولیاتی آلودگی اور صحت و صفائی کے منصوبوں کے علاوہ غریب خاندانوں کی مدد کرتی ہے۔تنظیم نے راولاکوٹ میں ایک ڈائیلاسزسنٹر بنانے کا اعلان کیا ہے جہاں مستحق مریضوں کو ڈائیلاسیز کی مفت سہولت میسر ہو گی۔اس منصوبے سے متعلق بریفنگ کے دوران  ڈاکٹر عذرا لطیف کا کہنا تھا کہ اس مرکز کے ”قیام“سے زیادہ اس کو ”چلانا“مشکل کام ہے جس کے لیے مخیر حضرات کو آگے آنا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں اس مرکز کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہاں دیگر شہروں کی نسبت صحت کے حوالے سے سہولیات کم ہیں اور گردے کے مریضوں کو کئی کلومیٹر سفر طے کر کے راولپنڈی جانا پڑتا ہے جو ایک تکلیف دہ عمل ہے۔منصوبے پر عمل کے لیے انہوں نے جگہ کا انتخاب تو کر لیا لیکن ممکن ہے ابھی چند ماہ مزید اس منصوبے کو چلانے میں لگ جائیں۔    اس میں شک نہیں کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نہ صرف مستقل مالی مدد بلکہ ایک مضبوط اعصاب والی ٹیم بھی چائیے ہو گی لیکن جس طرح  ڈاکٹر عذرا لطیف کے عزائم ہیں امید کی جاتی ہے کہ وہ یہ منصوبہ پائیہ تکمیل تک پہنچائیں گئی دنیا بھر میں مقیم اس خطے کے لوگ جن کی مالی حیثیت مستحکم ہے وہ اپنا حصہ ڈالیں گے۔راولاکوٹ میں موجودہ وقت شیخ زید بن النیہان ہسپتال  (سی ایم ایچ)  راولاکوٹ میں یہ سہولت میسر ہے لیکن لیکن مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے اور عملے کی کمی کے باعث ضرورت کے مطابق ناکافی ہے یوں ان حالات میں متبادل جگہ پر یہ سہولت میسر ہونا ایک مثبت اقدام ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق انسان ایک گردے کے ساتھ بھی زندہ رہ سکتا ہے اسی لئے ایک صحت مند انسان اپنا ایک گردہ کسی ایسے مریض کو عطیہ بھی کر سکتا ہے جس کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہوں لیکن اس عمل میں صحت مند فرد کو عمل جراحی سے گزرنا پڑتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی  رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک فرد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے یوں دنیا میں اموات کی پانچویں بڑی وجہ گردوں کی بیماری ہے جس کی بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔پاکستان میں سالانہ ہر دس لاکھ افراد میں 100 یا 150 افراد گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ گردوں میں خرابی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور ذیابیطس، موٹاپا گردوں میں خرابی کی بنیادی وجوہات ہیں، اسی لئے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھ کر گردوں کی بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ گردے اگر خدانخواستہ خراب ہوجائیں تو ڈائیلیسس کرانا پڑتا ہے جو کہ مریض کے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہے۔گردوں کی خرابی میں مبتلا مریض کے لئے علاج کے تین طریقے ہوتے ہیں۔ 1۔ ”ہیمو ڈائیلیسس“  2۔ ”پیری ٹونیل ڈائیلیسس“  3۔ گردے کی تبدیلی۔ہیمو ڈائیلیسس میں ایک مشین کے ذریعے خون کو صاف کیا جاتا ہے اور نقصان دہ اجزاء، اضافی نمک اور پانی خون سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ ہیمو ڈائیلیسس ہفتے میں تین مرتبہ کیا جاتا ہے اور ہر بار تین سے چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اضافی مادوں کو صاف کرنے کا ایک اور طریقہ پیری ٹونیل ڈائیلیسس ہے۔ہیمو ڈائیلیسس اور پیری ٹونیل ڈائیلیسس عارضی اور مصنوعی طور پر گردوں کا فعل انجام دیتے ہیں۔ یہ دونوں طریقے بہت مہنگے ہیں، ان کی مدد سے مریض کی صحت بہتر اور زندگی طویل تو ہو سکتی ہے لیکن یہ گردوں کی خرابی کا علاج نہیں ہے۔ناکارہ گردوں کا تیسرا علاج گردوں کی پیوند کاری یا ٹرانسپلانٹ ہے، یہ علاج بھی بہت مہنگا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی دوسرا صحت مند شخص اپنا ایک گردہ مریض کو دینے کے لئے رضا مند ہو۔پاکستان میں گردہ فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہے تاہم مریض کا رشتہ دار (بلڈ ریلیشن) اگر اپنی مرضی سے اپنا ایک گردہ مریض کو عطیہ کرنا چاہے تو اسے قانونی اجازت کے بعد یہ حق دے دیا جاتا ہے۔ گردوں کی بیماری سے بچنے کے لئے جہاں بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کو کنٹرول کرنا ضروری ہے، وہیں صحت مند لائف سٹائل اپنانا بھی ضروری ہے تاکہ اس مہلک لیکن خاموش قاتل مرض سے بچا جا سکے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم