منگل 25 جنوری 2022ء
منگل 25 جنوری 2022ء

فورڈ ویگن کا ماضی،حال،مستقبل

”چلو چلو راولاکوٹ چلو“کی آواز 1975 کی دہائی میں پہلی بار سنی۔اس وقت لوکل شہروں میں آمدورفت کا واحد ذریعہ فورڈ ویگن ہی تھی وہ بھی بہت کم تعداد میں۔آزاد کشمیر کے لگ بھگ سارے ہی شہروں میں اکا،دکا فورڈ ویگن موجود ہوتی تھی۔پاکستان میں فورڈ ویگن کی آمد 1970 کی دہائی میں ہوئی۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے کئی شہروں میں ان گاڑیوں کو بطور پبلک سروس گاڑی روٹ پرمٹ دئیے گے۔11 سواریوں کی گنجائش والی اس گاڑی میں 18 سواریاں بٹھائی جاتی تھیں،سواریوں کو ایک خاص زاویے سے سیٹوں پر بٹھایا جاتا تھا تاکہ پانچ،پانچ کی تہہ لگ جائے۔فرنٹ سیٹ پرتین سواریوں کے علاوہ ڈرائیور کے کسی دوست یا رشتے دار کو ڈرائیور رانگ سائیڈ بھی بٹھادیتا تھا اور کنڈیکٹر بھی شہر کے قریب آکر مخالف سمت منہ کر کے سامنے بیٹھی سواری کی ٹانگوں میں ٹانگیں ڈال کر بیٹھتا تھا،یوں عملاًاس گاڑی میں 20 سواریاں بیٹھتی تھیں۔سکینڈ سیٹ کو عام طور پر خواتین کے لیے مختص کیا گیا تھا جو عام طور پر خالی رکھی جاتی تھی اور خواتین سواریاں نہ ملنے پر زیادہ واقفیت والوں کو بیٹھا دیا جاتا تھا۔جن شہروں میں یہ گاڑیاں چلتی تھیں ان میں زیادہ تر شہر شدید سردی کی لپیٹ میں آجاتے تھے اور برف باری بھی خاصی ہوتی تھی۔سردیوں کی صبح ان گاڑیوں کو اسٹارٹ کرنا بالکل علیحدہ ہنر ہوتا تھا۔گاڑی کا کنڈیکٹر صبح فجر کے وقت ان گاڑیوں کے انجن کو گرم کرنے کے لیے چیمبر کے نیچے آگ جلا دیتا تھا جو کئی گھنٹوں تک جلتی تھی تب جا کر چند لوگ گاڑی کو دھکا لگا کر اسٹارٹ کرتے تھے اور اس منظر کو کئی لوگ تماشے کے طور پر دیکھتے تھے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق فورڈ موٹر کمپنی امریکن کمپنی ہے اور ہنری فورڈ  اس کے بانی ہیں۔یہ کمپنی 1903 میں قائم کی گئی اب تک مختلف طرح کی گاڑیاں تیار کرنے کے ریکارڈ بنا چکی ہے اور دنیا بھر میں قائم اس کے پلانٹس پر 2020 میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ہنری فورڈ  1947میں انتقال کر گے لیکن کمپنی نے ان کی وفات کے بعد بھی کامیابی کے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ وہ گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ان کی ہیئت سازی کے جدید خطوط استوار کرنے کے بانی بھی ہیں۔ ان کی ماڈل T گاڑیوں نے نقل و حمل اور امریکی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔ وہ ایک زرخیز ذہن کے مالک موجد تھے اور انہیں 161 امریکی سندِ حقِ ایجاد سے نوازا گیا۔فورڈ کمپنی کے واحد مالک کی حیثیت سے آپ دنیا کے امیر اور مشہور ترین افراد میں سے ایک تھے۔ سستی گاڑیوں کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اعلیٰ تنخواہیں دینے کے باعث بھی آپ نے نیک نامی حاصل کی جو 1914ء میں 5 ڈالرز فی دن مقرر کی گئی تھی۔ فورڈ اپنی کثیر دولت کو فورڈ فاؤنڈیشن کے لیے چھوڑ گئے، تاہم فورڈ کمپنی کا نظم و ضبط مستقلاً اپنے خاندان کے حوالے کر گئے۔    پاکستان میں جیسا کہ پہلے بتایا فورڈ ویگن1970  کی دہائی میں آئی تھی جو آج تک پاکستان اور آزاد کشمیر کے کچھ شہروں میں پائی جاتی ہیں۔ان میں زیادہ تر ماڈل بھی 1970 سے1980تک کے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بطور پبلک سروس گاڑی سواریوں کے لیے یہ ایک رسک ہیں لیکن ان کے مالکان کا ان سے ایک دلی لگاؤ ہے اور مالی حالات بھی ایسے نہیں کہ وہ کوئی متبادل روزگار تلاش کر سکیں،آزاد کشمیر میں یہ گاڑیا اب زیادہ تر پونچھ ڈویژن کے بعض اضلاع میں پائی جاتی ہیں جن میں راولاکوٹ سر فہرست ہے۔پنجاب کے شہروں گجرانوالہ،گجرات اور جہلم وغیرہ میں بھی یہ چلتی ہیں لیکن وہ وہ  چھ ویلز(سکس ویلر) ہیں۔خیبر پختون خواہ کے کچھ شہروں میں بشمول پشاور یہ بڑی تعداد میں چلتی ہیں لیکن اب کے پی کے کی حکومت نے ایک منصوبے کے تحت پشاور شہر سے ان کو ختم کر دیا ہے۔پشاور کی سڑکوں پر رواں دواں ان رنگ برنگی فورڈ ویگن کو کون نہیں جانتا تھا۔ اکثر لوگ اسے ’ٹورس‘ کے نام سے بھی جانتے تھے۔فورڈ ویگنوں میں کئی گاڑیاں اب بھی اپنی اصل حالت اور رنگ میں موجود ہیں، جن میں سے ایک ویگن کو یادگار کے طور پر محکمہ آثار قدیمہ نے محفوظ کر لیا ہے۔ پشاور میں بس ریپیڈٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس آنے کے بعد لوگوں نے ان ویگنوں اور پرانی بسوں میں جانا چھوڑ دیا۔ٹرانس پشاور یعنی بی ار ٹی کے منتظمین کے مطابق ویگنوں اور بسوں کو پشاور کی سڑکوں سے ختم کرنا بی آر ٹی منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہ گاڑیاں کافی خستہ حالت میں تھیں، جن میں عوام سفر کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے اور بی آر ٹی کے بعد بعض لوگوں نے ان میں سفر کرنا چھوڑ دیا۔لہذا جب صوبائی حکومت نے ان عوامی ویگنوں کو خریدنے کی بات کی تاکہ ان کو سکریپ کیا جاسکے تو کئی مالکان نے ٹرانس پشاور سے تعاون کرتے ہوئے خود اپنی گاڑیاں پیش کیں۔ہم نے ان گاڑیوں کو سکریب کے طور پر خریدا جس سے ویگنوں کے مالکان کو کچھ فائدہ ہوا ساتھ ہم نے انہیں بی ار ٹی میں ملازمتیں بھی دیں۔کے پی کے حکومت نے محکمہ سیاحت کے تعاون سے کچھ ویگنیں جو اچھی حالت میں تھیں مزید تزہین  و آرائش کر کے سیاحتی مقامات کے لیے چلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بعض کو تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کر کے ٹکٹ لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔اس منصوبے پر ابتدائی کام ہو چکا ہے ممکن ہے کہ رواں سال کے پی کے میں فورڈ ویگن کو بطور پبلک سروس گاڑی (سوائے سیاحتی مراکز کے) پابندی عائد کی جا سکے۔آزاد کشمیر میں ان گا ڑیوں کا کوئی مکمل ڈیٹا تو نہیں لیکن خیال ہے کہ پچاس کے قریب یہ گاڑیاں آج بھی ٹرانسپورٹ ریجنل اتھارٹی کی لحاظی طبیعت کے طفیل بطور پبلک سروس گاڑی چل رہی ہیں جو کہ سفر کے لیے ہمیشہ رسک ہی ہیں۔حکومت آذاد کشمیر اگر کے پی کے کا ماڈل یہاں بھی اپنائے اور ان گاڑیوں کو خرید کر سیاحتی مقامات پر مختلف طرح کے استعمال میں لائے اور جن کی حالت زیادہ خراب ہے انہیں کباڑیے کے حوالے کر دیا جائے۔ساتھ ہی ان گاڑیوں کے مالکان کو اے جے کے بنک سے آسان شرائط پر نئے ماڈل کی گاڑیاں لے کر دے تو نہ صرف ان گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ متوسط طبقے کے یہ خاندان خوشحال ہو سکتے ہیں بلکہ مسافروں کو ہمہ وقت موت کے منہ میں جانے کے خطرے سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم