جمعرات 26 اپریل 2018ء
جمعرات 26 اپریل 2018ء

مقبول بٹ کا جسد خاکی ان کے اہل خانہ اور اہل وطن کے حوالے کیاجاءے

  برسلز(دھرتی نیوز ) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ نے ایک مرتبہ پھر بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ شہید کشمیر مقبول بٹ کا جسد خاکی ان کے اہل خانہ اور اہل وطن کے حوالے کیاجائے، مقبول بٹ شهید کی 34وں برسی کے موقع پر یورپ کے دارلحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاهرے میں کہاگیا ہے کہ کشمیری قوم مقبول بٹ شهید کی میت کی منتظر ہے، ان خیالات کا اظهار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ کے صدر تنویر احمد چوهدری نے کها کے پوری دنیا میں کشمیری عوام 11فروری کو اپنے حق خود اختیاری ،آزادی اور ایک متحده کشمیر کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ بھارت نے 11فروری 1984کو مقبول بٹ کے عدالتی قتل کے بعد بھارتی حکمرانوں نے ان کی میت ان کے ورثا اور اہل وطن کے حوالے کرنے کے بجائے تہاڑ جیل کے ایک کونے میں دفنادی ہے اور جموں وکشمیر کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں ٹال مٹول کے ساتھ ہی باربار کے مطالبات کے باوجود مقبول بٹ کی میت بھی ان کے ورثا کے حوالے کرنے سے گریزاں ہے۔مقررین نے کہا کہ ان کو پھانسی دئے جانے کے بعد سے ایک خالی قبر ان کے جسد خاکی کو دفنانے کیلئے منتظر ہےتاکہ ان کی میت کو دھرتی کے بہادر سپوت کے شایان شان طریقے سے دفنایاجاسکے۔ کشمیر کے دونوں اطراف کے عوام مقبول بٹ کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں وہ ایک قومی ہیرو ہیں اور ان کی شہادت کشمیری عوام کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ ایک متحدہ کشمیر میں اپنی قسمت کے خود مالک بننااور اپنی منزل کا خود تعین کرنا چاہتے ہیں۔وہ ایک ایسا کشمیر چاہتے ہیں جو اس خطے میں امن وسکون کاگہوارہ ہوگا اور پڑوسیوں کے ساتھ امن وآشتی کے ساتھ رہے گا۔انهوں نے کها کہ مقبول بٹ ایک خود مختار کشمیر کے پرزور حامی تھے اور وہ کشمیر پر بھارت یا پاکستان کسی کی بھی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ مقررین نے مزید کها که مقبول بٹ کے جسد خاکی کے حصول تک اس کامطالبہ اور اس کیلئے جدوجہد جاری رہے گی ،بھارتی حکومت نے افضل گرو کی میت بھی ورثا کے حوالے کرنے سے انکار کردیاہے جن کوبھارتی حکومت نے فروری 2013میں پھانسی دیدی تھی۔بھارتی حکومت کے اس رویئے سے کشمیریوں کے شہری اورسیاسی حقوق کی پامالی کی عکاسی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کیلئےانتقامی، ظالمانہ اور نوآبادیاتی حربے اختیار کر رہا ہے ۔مقبول بٹ اور افضل گرو کو طویل عرصے تک زیر حراست رکھ کر جس طرح شہید کیا گیا اس سے بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیاہے۔مقبول بٹ کی 34ویں برسی کے موقع پر سری نگر سے مظفرآباد اور لندن سے برسلز تک اور شمالی امریکہ سمیت دنیا کے تمام دیگر ممالک میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور مقبول بٹ کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کے اعادے کیلئے ریلیاں ، جلسے اور سیمینار ز کرکے پوری دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جا رها هے . مظاهرے سے تنویر احمد چوهدری، شبیر جرال، مسعود میر، نسیم اقبال ایڈووکیٹ، مشتاق دیوان، سردار الطاف، ظهیر ذاهد، حافظ مظهر اقبال نهیمی، امجد مجید ،اشفاق قمر، نقاش مشتاق، سردار محمود، ڈاکٹر اشتیاق، ظفر اقبال، علی راجه، عدنان، مزامل حق عادل، خان حبیب، امجد خان، مقصود ، یوسف بهٹی, علی رضا، خالد جوشی، ذاهد اقبال، اور دیگر نے خطاب کیا، 

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم