جمعرات 21 جون 2018ء
جمعرات 21 جون 2018ء

امریکی اتحادیوں کا شام پر میزائلوں سے حملہ

ہ دمشق/واشنگٹن/لندن/ماسکو(اے این این ) امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے میں ناکامی کے باوجود برطانیہ اور فرانس کی مدد سے شام پر حملہ کردیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے اپنے خطاب میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی شامی دارالحکومت دمشق میں کئی دھماکے سنے گئے۔حملوں کے لیے صدر ٹرمپ نے نہتے شہریوں پر شام کی فوج کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بنایا۔مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کا کیمیائی حملہ انسان نہیں شیطان کا کام ہے جبکہ امریکا کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلا کو سختی سے روکے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں شام پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مسلح افواج کو شامی آمر بشارالاسد کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر حملے کا حکم دیا ہے، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر یہ مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے، اس کارروائی کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، پھیلا و¿اور استعمال کو سختی سے روکنا ہے، ہم شامی حکومت کے خلاف اس طرح کی کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند نہیں کردیتی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے صدر بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے بارے میں کہا کہ اس بدترین اور شیطانی حملے میں بچوں اور بڑوں کے دم گھونٹ دیے گئے اور شدید اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ شیطان کے جرائم ہیں، میں روس اور ایران سے پوچھتا ہوں کہ کون سا ملک معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام میں ملوث ہونا چاہے گا، یہ دونوں ممالک مجرم بشارالاسد کی سب سے زیادہ مدد کررہے ہیں، اسے اسلحہ دے رہے ہیں اور مالی معاونت کررہے ہیں۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکا کے ٹام کروز اور برطانیہ کے اسٹروم شیڈو میزائلز نے دمشق اور حمص کے قریب مختلف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔امریکا کے دفاعی حکام کے مطابق حملے میں شام کے سائنسی تحقیقی ادارے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔امریکی میرین کور کے جنرل ڈینفورڈ نے واضح کیا کہ حملوں میں جیٹ طیاروں نے حصہ لیا، روس کو ان حملوں اور اہداف کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور امریکا نے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جہاں روسی افواج موجود نہیں تھیں۔