بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی 65برس بعد تاریخی ملاقات

سیﺅل(اے این این) شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہوں نے 65 برس بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر تاریخ رقم کردی۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے پیدل جنوبی کوریا کی سرحد عبور کی اور امن کیلئے ہاتھ بڑھایا۔کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے سربراہ مون جے ان کی ملاقات سرحدی علاقے پنمن جم میں ہوئی۔اس تاریخی موقع پر والہانہ استقبال نے شمالی کوریائی وفد کا دل جیت لیا۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم شمالی کوریا کم جونگ ان جنوبی کوریا کی سرحد عبور کر کے جنوبی کوریا کے سرحدی شہر پہنچ گئے جہاں صدر مون جے ان نے پر تپاک استقبال کیا۔ ایک دوسرے کے خلاف جنگ مسلط کرنے کے دعوی کرنے والے دونوں رہنماوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ کم جانگ ان کو شاندار روایتی انداز میں سلامی دی گئی جب کہ دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے ۔ ملاقات کا پہلا دور مکمل ہو گیا، خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر، سرحدی معاملات اور دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی ملاقات کے دوسرے دور میں معاہدے پر دستخط ہوں گے اور مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔اس سے قبل کم جانگ ان نے پیس ہاﺅس میں کتاب پر تاثرات درج کرتے ہوئے تحریر کیا کہ نئی تاریخ کا آغاز ہو گیا اور امن کا دور آ گیا ہے۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان ڈی ملیٹرائزڈ زون تک گاڑی میں گئے جہاں سے اجلاس والی جگہ پر پیدل آئے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے جس میں خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر، سرحدی معاملات اور دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔۔دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں جرات مندانہ امن سمجھوتہ طے پا جائے گا، جو خطے کے لوگوں اور امن کے خواہشمندوں کیلئے تحفہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملاقات میں اہم معاہدوں کی امید ہے۔شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ملاقات میں جنگ بندی کو امن معاہدے میں بدلنے اور ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملات پر بات ہوگی۔امریکا نے شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات مستقبل میں امن کے لیے معاون ثابت ہوگی۔وائٹ ہاﺅس سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے درمیان باہمی تعاون کو سراہتا ہے۔شمالی اور جنوبی کوریا سربراہان کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ہفتے 21 اپریل کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے اور میزائل ٹیسٹ سائٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی یا میزائل تجربات کی اب ضرورت نہیں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تجربات کے لیے قائم تنصیبات کو بند کیا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب شمالی کوریا دنیا بھر میں ایٹمی تجربات ختم کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ بنے گا۔