هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

اسرائیل ،جاپانی وزیر اعظم کو جوتے میں میٹھا پیش کرنے پر تنازعہ

تل ایبیب (بی بی سی )جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے کو اسرائیل میں پیش کیا جانے والا میٹھا تنازعے کا شکار بن گیاہے۔گذشتہ دنوں دو مئی کو وزیر اعظم آبے اور ان کی اہلیہ کو جب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نتن یاہو نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر عشائیے پر مدعو کیا تو انھیں ڈیزرٹ 'جوتے' میں پیش کیے گئے۔اسرائیل کے معروف شیف (باورچی) موشے سیویگ جو وزیر اعظم نتن یاہو کے ذاتی شیف بھی ہیں انھوں نے عشائیے کے اخیر میں دھات سے بنے جوتوں میں شیریں خوان پیش کیا جس میں منتخب چاکلیٹ رکھے گئے تھے۔جاپانی تہذیب و ثقافت میں جوتے کو انتہائی ہتک آمیز تصور کیا جاتا ہے۔شنزو آبے نے جوتے میں پیش کیے جانے والے ڈیزرٹ کو بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کھا لیا لیکن جاپان کے سفیروں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔جاپان پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار بھی ڈیزرٹ کے جوتے میں پیش کیے جانے پر دنگ رہ گئے۔جاپان میں لمبے عرصے تک رہنے والے ایک سینیئر سفارت کار نے اسرائیلی اخبار یدیوٹ اخرانوٹ کو بتایا کہ 'یہ انتہائی غیر حساس اور احمقانہ فیصلہ تھا۔‘انھوں نے کہا: 'جاپانی ثقافت میں جوتے سے کم مایہ کوئی چیز تصور نہیں کی جاتی ہے۔ جاپانی نہ صرف اپنے گھروں میں بلکہ دفاتر میں بھی جوتے اتار کر داخل ہوتے ہیں۔'انھوں نے مزید کہا؛ 'یہاں تک کہ وزیر اعظم اور دیگر وزرا اور رکن پارلیمان بھی اپنے دفاتر میں جوتے پہن کر نہیں جاتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی یہودی مہمان کو خنزیر کی شکل کے برتن میں کھانا پیش کیا جائے۔'ایک جاپانی سفارتکار نے یدیوٹ اخرانوٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: 'کسی بھی ثقافت میں جوتے کو میز پر نہیں رکھا جاتا۔ آخر اس شیف کے ذہن و دل میں کیا تھا۔ اگر یہ مذاق تھا تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا۔ ہم اپنے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی پر ناراض ہیں۔'شیف سیویگ نے اپنے سوشل میڈیا پروفائل پر رات کے کھانے سے متعلق تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ جن میں جوتوں میں پیش کیے گئے ڈیزرٹ بھی شامل تھے۔ایک ٹوئٹر صارف نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 'آپ نے اپنی سب سے بڑی غلطی کر دی ہے۔'ایک دوسرے صارف نے لکھا: 'یہ ملک اس بات کو کبھی نہیں بھول سکے گا۔ سیویگ، میں تم سے بہت پیار کرتا تھا لیکن تم نے مجھے شرمندہ کر دیا۔'کئی اعزاز سے سرفراز شیف سیویگ اسرائیل کے اہم ریستوراں کے مالک ہیں۔ انھوں نے فن طباخی پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں اور ٹی وی سیلبریٹی ہیں۔شنزو آبے جب سنہ 2015 میں پہلی بار اسرائیل گئے تھے تو یہ کسی جاپانی وزیر اعظم کا پہلا اسرائیلی دورہ تھا۔شنزو آبے اور نتن یاہو کی حالیہ ملاقات کے دوران شمالی کوریا، ایران کے جوہری معاہدے اور اسرائیل-فلسطین امن مذاکرات پر باتیں ہوئیں۔