اتوار 22  ستمبر 2019ء
اتوار 22  ستمبر 2019ء

بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات،آر پار تجارت طویل عرصے کے لیے بند

چناری (اعجاز احمد میر،خصوصی رپورٹر) لائن آف کنٹرول (ایل او سی )کے آر پار ہونے والی سرینگر ،مظفرآباد،راولاکوٹ ،پونچھ تجارت بھارت نے مبینہ طور پر ان الزامات کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی کہ ایل او سی کے اس پار (پاکستان سائیڈ)سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اسلحہ،کرنسی اور منشیات پاکستانی سائیڈ سے بھیجی جاتی ہے۔جب تک دو طرفہ تجارت کے حوالہ سے کوئی ضابطہ اخلاق طے نہیں کیا جاتا اور حکومت پاکستان کی طرف سے یہ ذمہ داری نہیں اٹھائی جاتی کے وہ ایل او سی تجارت کے زریعے غیر قانونی اشیاء کی روک تھام کریں گے اس وقت تک سرینگر مظفرآباد اور راولاکوٹ پونچھ تجارت بند رہے گی۔بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جمعرات کو جاری نوٹیفیکشن نمبر 13026/04/2018-k.lllکے تحت دو طرفہ اس تجارت کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 21اکتوبر2008ء کو منقسم کشمیر کے آرپار سرینگر مظفرآباد اور راولاکوٹ پونچھ تجارت شروع کی گئی تھی جو اب بھارت نے اٹھارہ اپریل کو بے بنیاد الزام لگا کر بند کر دی یاد رہے کہ جمعرات کے روز بھی راولاکوٹ پونچھ تجارت معمول کے مطابق ہوئی آزاد کشمیر سے 35ٹرک مقبوضہ کشمیر گئے اور مقبوضہ وادی سے بھی35ٹرک آزاد کشمیر آئے ۔جمعرات کے روز ہونے والی تجارت کا جمعرات آخری روز ثابت ہوا دو طرفہ تجارت کی بھارت کی جانب سے بندش پر ایل او سی کے آر پار تجارت کرنے والے تاجروں میں سخت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تاجروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے من گھڑٹ الزام لگا کر تجارت کو بند کیا ہے جو ناقابل قبول ہے بین الاقوامی برادری کی کوششوں سے شروع ہونے والی تجارت کی بندش پر بین الاقوامی برادی کو اسکا فوری نوٹس لینا چاہیے دونوں اطراف تاجروں کے اس وقت اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں بھارت کے اس اقدام سے دونوں اطراف کے تاجروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے ۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم