پیر 23 جولائی 2018ء
پیر 23 جولائی 2018ء

وفاق کشمیر کونسل کو ختم کرنے پر رضامند

  اسلام آباد ، مظفرآباد ( دھرتی نیوز ) آزاد جموں و کشمیر کونسل کے” مستقبل “کے فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے فوری اقدامات کی یقین دہانی اور متعلقہ احکام کو پیپر ورک مکمل کرنے کی ہدایت کے بعد آزاد جموں و کشمیر کونسل کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ، آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین جو کہ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں نے بھی اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ، وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ مظفرآباد کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر نے آزاد جموں کشمیر کونسل سے متعلق سفارشات پیش کی تھیں ، وزیراعظم پاکستان کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کونسل کے موجودہ سیٹ اپ میں متعدد خامیاں ہیں جس کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو رہے ، کشمیر کونسل کا چیئرمین چونکہ وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے اس لیے یہ آزادکشمیر حکومت اور عدلیہ کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں آتا اور نہ ہی کوئی ادارہ اس کی جانچ پڑتال کر سکتا ہے ، حتیٰ کہ پاکستان کی کسی عدالت میں معاملہ زیر بحث آئے تو اسے آزاد کشمیر کا مسلہ سمجھ کر زیر بحث نہیں لایا جاتا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔ سفارشات کے مطابق اس کے ممکنہ حل دو بتائے گے ہیں پہلا تو یہ ہے کہ کشمیر کونسل کو ختم کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے سیکرٹریٹ میں ” کشمیر سیل “ بنایا جائے اور وہ براہ راست وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ماتحت ہو جبکہ بعض اختیارات حکومت آزادکشمیر کو سونپ دیئے جائیں ،اس طریقہ کار سے کونسل کے ملازمین بھی کسی ضابطہ کار میں آئیں گے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ کونسل کو ختم کر کے ملازمین اور کونسل کے ماتحت اداروں کو آزاد حکومت کے ماتحت کر دیا جائے اور کشمیری عوام کے ٹیکسز بھی حکومت آزادکشمیر کو 18ویں ترمیم میں جو تقسیم کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے اس کے مطابق دیئے جائیں ، وزیراعظم پاکستان نے ان سفارشات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ احکام کو ہدایت کی کہ اس پر پیپر ورک مکمل کیا جائے اور یہ اسی دور حکومت میں ہی ہر حال میں کیا جائے ، وزیراعظم کے ان احکامات کے بعد کشمیر کونسل کے ملازمین نے احتجاج کیا اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ، اس احتجاجی مظاہرے میں اپوزیشن رہنماءچوہدری یاسین کی شمولیت پر پیپلزپارٹی آزادکشمیر بھی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے کیونکہ پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر ماضی میں مختلف اداروں کی جانب سے منعقدہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے بارے میں مشاورتی اجلاس کا حصہ رہے ہیں اور ان کے بھی تحفظات تھے کہ کشمیر کونسل کے اختیارات محدود کیے جائیں ، ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور خیال ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک آزاد جموں و کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کر لیا جائیگا جس کے بعد کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کونسل کا مستقبل طے کیا جائیگا ۔  لیڈ وفاق کشمیر کونسل کو ختم کرنے پر رضامند کونسل کے مستقبل کے بارے میں مرتب کردہ سفارشات وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہ مظفراباد کے دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ان کے حوالے کی تھیں ،سفارشات میں دو تجاویز رکھی گئی ہیں پہلی تجویز کے مطابق کشمیر کونسل کو ختم کر کے وزیر اعظم پاکستان سیکرٹریٹ میں ”کشمیر سیل “قائم کر کے ملازمین کو سیکرٹریٹ کے ماتحت کرنا اور اٹھارویں ترمیم کے فارمولہ کے تحت ٹیکسیز کا حصہ آزاد کشمیر حکومت کو دینا ہے دوسری تجویز میں کونسل کو ختم کر کے ملازمیں آزاد کشمیر حکومت کے ماتحت کیے جائیں جبکہ ٹیکسز کا طریقہ کار اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہو،وزیر عظم پاکستان کاسفارشات سے اتفاق،کونسل کے ملازمین کا احتجاج اسلام آباد ، مظفرآباد ( دھرتی نیوز ) آزاد جموں و کشمیر کونسل کے” مستقبل “کے فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے فوری اقدامات کی یقین دہانی اور متعلقہ احکام کو پیپر ورک مکمل کرنے کی ہدایت کے بعد آزاد جموں و کشمیر کونسل کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ، آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین جو کہ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں نے بھی اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ، وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ مظفرآباد کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر نے آزاد جموں کشمیر کونسل سے متعلق سفارشات پیش کی تھیں ، وزیراعظم پاکستان کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کونسل کے موجودہ سیٹ اپ میں متعدد خامیاں ہیں جس کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو رہے ، کشمیر کونسل کا چیئرمین چونکہ وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے اس لیے یہ آزادکشمیر حکومت اور عدلیہ کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں آتا اور نہ ہی کوئی ادارہ اس کی جانچ پڑتال کر سکتا ہے ، حتیٰ کہ پاکستان کی کسی عدالت میں معاملہ زیر بحث آئے تو اسے آزاد کشمیر کا مسلہ سمجھ کر زیر بحث نہیں لایا جاتا کہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔ سفارشات کے مطابق اس کے ممکنہ حل دو بتائے گے ہیں پہلا تو یہ ہے کہ کشمیر کونسل کو ختم کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے سیکرٹریٹ میں ” کشمیر سیل “ بنایا جائے اور وہ براہ راست وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ماتحت ہو جبکہ بعض اختیارات حکومت آزادکشمیر کو سونپ دیئے جائیں ،اس طریقہ کار سے کونسل کے ملازمین بھی کسی ضابطہ کار میں آئیں گے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ کونسل کو ختم کر کے ملازمین اور کونسل کے ماتحت اداروں کو آزاد حکومت کے ماتحت کر دیا جائے اور کشمیری عوام کے ٹیکسز بھی حکومت آزادکشمیر کو 18ویں ترمیم میں جو تقسیم کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے اس کے مطابق دیئے جائیں ، وزیراعظم پاکستان نے ان سفارشات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ احکام کو ہدایت کی کہ اس پر پیپر ورک مکمل کیا جائے اور یہ اسی دور حکومت میں ہی ہر حال میں کیا جائے ، وزیراعظم کے ان احکامات کے بعد کشمیر کونسل کے ملازمین نے احتجاج کیا اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ، اس احتجاجی مظاہرے میں اپوزیشن رہنماءچوہدری یاسین کی شمولیت پر پیپلزپارٹی آزادکشمیر بھی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے کیونکہ پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر ماضی میں مختلف اداروں کی جانب سے منعقدہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے بارے میں مشاورتی اجلاس کا حصہ رہے ہیں اور ان کے بھی تحفظات تھے کہ کشمیر کونسل کے اختیارات محدود کیے جائیں ، ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور خیال ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک آزاد جموں و کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کر لیا جائیگا جس کے بعد کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کونسل کا مستقبل طے کیا جائیگا ۔ 

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم