اتوار 21 اکتوبر 2018ء
اتوار 21 اکتوبر 2018ء

کشمیرکونسل کوئی سفارتخانہ نہیں کہ بند ہوگیا تو مسئلہ ہو گا، کشمیری وکلاء

اسلام آباد(دھرتی نیوز )آزادکشمیر بھر کی تمام وکلاءتنظیموں کے نمائندہ اجلاس میں عبوری ایکٹ 74 میں مجوزہ ترامیم کا خیر مقدم اور وزیراعظم آزادکشمیر کی کاوشوں کی مکمل تائید و حمایت کر تے ہوے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مجوزہ ترامیم کی فوری طور پر منظوری دیکر ریاست پاکستان اور آزادجموں وکشمیر کے عوام کے درمیان دیرینہ رشتوں کومضبوط بنائے، اس کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کے وفاق سے متعلقہ طویل عرصہ سے زیر التواءامور جن میں واٹر یوزیج چارجز 15پیسے سے بڑھا کر صوبوں کے برابر ایک روپیہ دس پیسے کرنے ،نیلم جہلم پراجیکٹ کے معائدہ پر ٹھوس پیش رفت کرنے،آزادکشمیر کے اندر سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے ،ترقیاتی بجٹ میں تقریبا دوگنا اضافے ،قومی اقتصادی کونسل ،این ایف سی ایوارڈ کے اجلاسوں میں آزادکشمیر کی بھرپور نمائندگی کرنے پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے ان اہم قومی معاملات کے حل کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہیںہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ اس جدوجہد میں وزیراعظم کے شانہ بشانہ صف اول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے ،کشمیر ہاوس اسلام آباد میں اس حوالے سے منعقدہ اجلاس میںآزادکشمیربارکونسل ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن،ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،آزادکشمیر کے مختلف اضلاع و تحصیل ہا کی بار ایسوسی ایشنزکے منتخب نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ طورپر دو قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مندرجہ بالا امور پر بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا ۔جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ معاہدہ کراچی کا ایکٹ 74 کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حکومت کے پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں گڈ گورننس قائم کرے ،کونسل کوئی سفارتخانہ نہیں کہ بند ہوگیا تو مسلہ ہو گا،پاکستان کے ساتھ براہ راست رشتوں کو مظبوط اور کونسل کا بطور آڑھتی کا کردار ختم کر نا چاہتے ہیں ،جو مراعات کشمیر کونسل کے ملازمین کو حاصل ہیں وزیراعظم آفس اسلام آباد کے ملازمین کو بھی حاصل نہیں ،کونسل نے آزادکشمیر کی عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے انکار کیا ،آزادکشمیر کے لوگوں کو ایک ذمہ دار اور بااختیار دیکھنا چاہتا ہوں ،وکلاءکا انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے حوالے سے بنیادی کردار ادا کرتی ہے ایکٹ 74 آزادکشمیر کے عوام کی امیدیں اور خواہشات کی تکمیل نہیں کرتا یہ فر سودہ ہو چکا ہے پاکستان میں اٹھارویں ترمیم ہو سکتی ہے تو پھر یہاں بھی ہوگی ،کونسل کی وجہ سے آزادکشمیر کے اہم منصوبہ جات التوا کا شکار ہوے،میرپور ڈرائی پورٹ کشمیر کونسل کی وجہ سے نہیں بن سکا ،ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے کسی چھوٹی موٹی ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرونگا،اقتدار اگر اس مقصد کے لیے چھوڑنا پڑے تو بھی سودا مہنگا نہیں سیاسی مخالفین اس آڑ میں سازشیں کرنا چاہتے ہیں تو کرتے رہیں