جمعرات 26 اپریل 2018ء
جمعرات 26 اپریل 2018ء

وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خلاف عدم اعتماد کی سازش کا منصوبہ

 راولاکوٹ (دھرتی نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن ) آزادکشمیر کے ایک مرکزی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے خلاف بعض وزراءعدم اعتماد کی قرار داد لانا چاہتے تھے اور مجھے یہ ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ باقی وزراءسے رابطہ سازی کروائی جائے تا کہ ہدف پورا کیا جا سکے لیکن میںنے جماعت کے وسیع تر مفاد میں ایسا نہیں کیا اور اس ساری صورت حال سے جماعت کے صدر موجودہ وزیر اعظم کو آگاہ بھی کیا لیکن اس وفاداری کا صلہ یہ ملا کہ پی ڈی اے راولاکوٹ میں ایک ایسے شخص کو چیئرمین بنا یاگیا ہے جو کسی طور پر میرٹ پر پورا نہیں اترتے ۔ ان کی مسلم لیگ( ن) کیلئے کوئی خدمات نہیں ہیں اور نہ ہی آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر وہ ملک میں موجود تھے ، ان کی سیاسی حیثیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ2006 قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ا نہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور محض 216ووٹ حاصل کیے۔مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سردار ارشد نیازی نے احتجاجاً جماعت کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اورسیاسی ایڈ جسٹمنٹ پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اصلاح احوال کیلئے فوری اقدامات نہ ہوئے تو جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔سردار ارشد نیازی دیگرعہدیدران و کارکنان کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے جس کے دوران انہوں نے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ انہوںنے کہاکہ کہ میاں محمد نوازشریف نے پاکستان میں ووٹ کو عزت دینے کی بات کی ہے لیکن آزادکشمیر میں سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے اور ووٹ کے بجائے نوٹ کو عزت دی جارہی ہے ۔آزادکشمیر میں اس و قت ممبر کشمیر کونسل عبدالخالق وصی اور ملک ذوالفقا ر کے ہاتھوں وزیر اعظم بھی یر غمال ہیں اور مرضی سے فیصلے کروائے جارہے ہیں ۔ نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔سردار ارشد نیازی نے کہا کہ نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کے حقوق پر کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔جماعت کے اندر رہتے ہوئے کارکنوں کے حقوق پر کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جماعت کے اند رہتے ہوئے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے ۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں ملاقات کا شرف بخشیں تاکہ آزادکشمیر کے نظریاتی و دیرینہ کارکنوں کے تحفظات سے انہیں براہ را ست آگاہ کیاجاسکے ۔سردار ارشد نیازی نے کہا کہ عبدالخالق وصی اور ملک ذوالفقار حکومت آزادکشمیر کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ دن کو مفادات کے حصول کیلئے وہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے پاس ہوتے ہیں جبکہ رات کو ان کا ٹھکانا کوئی اور ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ نادان دوستوں کی حماقتوں کی وجہ سے آزادکشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے ٹوٹنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں ۔ اگر اصلاح احوال کیلئے فوری اور سنجیدہ نوعیت کے اقدامات نہ کیے گئے تو پھر پاکستان کی خالق جماعت کو آزادکشمیر میں جو نقصان پہنچے گا اس کی ذ مہ د اری عبدالخالق وصی ، ملک ذوالفقار اور دیگر حاشیہ بردار وں پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کی دعوے دار حکومت کے دور میں خلاف میرٹ اقدامات سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ محض دعوے ہی کیے جارہے ہیں عملاًکچھ اور ہورہا ہے ۔ سردار ارشد نیاز ی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر نے کیلئے مجھے وزراءحکومت نے بلایا اور مجھے ٹاسک دیاگیا کہ باقی وزراءاور ممبران اسمبلی سے رابطے کروائے جائیں تاکہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کیاجائے لیکن میں نے پارٹی کے وسیع تر مفاد میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور وزیر اعظم اور صدر جماعت کو اس ساری صورت حال سے آگاہ بھی کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منشور کے مطابق آزادکشمیر میں بھی ووٹ کو عزت دی جانی چاہیے لیکن یہاں ایسا نہیں ہورہا ہے ایسے لوگوں کو سیاسی طور پر ایڈ جسٹ کیاجارہاہے جن کی جماعت کیلئے کوئی خدمت نہیں ہے ۔ سردار ارشد نیازی نے اعلان کیا کہ اگر صدر جماعت میاں شہباز شریف اور مرکزی قیادت نے انہیں ملاقات کا موقع نہ دیا اور تحفظات دور نہ کیے گئے تو آئندہ چند روز میں اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کر کے حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ٹولے کو بے نقاب کیاجائے گا اور اہم انکشافات سامنے آئیں گے انہوں نے کہاکہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو عہدوں سے کوئی غرض نہیں ہے لیکن کارکنوں کی عزت نفس عزیز ہے اگر کسی نے بھی کارکنوںکی عزت نفس کومجرو ح کیا اور میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کیے گئے تو ہم پارٹی کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ سردار ارشید خان نیازی نے ایک مرتبہ پھر پارٹی کے صدر میاں شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ انہیں ملاقات کا وقت دیاجائے تاکہ وہ پارٹی صدر کوآزادکشمیر کے نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کر سکیں اور پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان سے بچایا جاسکے   

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم