جمعرات 09 جولائی 2020ء
جمعرات 09 جولائی 2020ء

عباسپور سے راولاکوٹ بس سروس،روٹ کے تنازعہ پر دھمکیاں

عباسپور ( دھرتی نیوز) عباسپور میں پبلک ٹرانسپورٹ کے روٹ اور ٹائم پر تنازع شدت اختیار کر گیا ، گزشتہ روز پیر کو عباسپور میں ہونیوالا ایک جرگہ اس وقت ناکام ہو گیا جب ایک گروپ نے تھانہ میں دوسرے گروپ پر حملہ کی کوشش کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، پولیس نے اس گروپ کو تحفظ فراہم کیا جس نے غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کیلئے درخواست دی تھی ، یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب گزشتہ بیس سال سے عباسپور تاراولاکوٹ براستہ علی سوجل چلنے والی ایک مسافر بس کو بعض ٹرانسپورٹرز نے روکنے اور اسے بند کرنے کی کوشش کی ، جس پر تھانہ عباسپور میں اس بس کے مالک قاضی عبدالسلام نے تھانہ عباسپور میں درخواست دائر کی کہ میرے پاس روٹ پرمٹ اور گزشتہ بیس سال سے بس چلا رہا ہوں لیکن عباسپور میں ایک اڈے کا مالک لالہ نیاز اور اس کے ساتھی مجھے تنگ کرتے ہیں اور گاڑی کو جگہ جگہ روکتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مجھے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ میرے ساتھ سوار مسافروں کو بھی سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مخالف گروپ بغیر روٹ پرمٹ کے غیر قانونی گاڑیاں چلانے پر بضد ہے ، اس لئے ان کے خلا ف کارروائی کی جائے ، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بغیر روٹ پرمٹ کے چلنے والی دو مسافر گاڑیوں کو ضبط کر لیا جس کے بعد گزشتہ روز یکے بعد دو جرگے ہوئے لیکن اس میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ۔ معروف ٹرانسپورٹر قاضی عبدالسلام نے بتایا کہ لالہ نیاز ، چوہدری عبدالمجید ، جاوید خان ، نورحسین نامی افراد نے مجھے تنگ کر رکھا ہے اور وہ غیر قانونی گاڑیاں چلانے پر بضد ہیں ،پہلا جرگہ اڈہ میں ہوا جو نتیجہ خیز نہ ہوا ، دوسرا جرگہ تھانہ میں ہوا جس میں اس گروپ کے ساٹھ ، ستر آدمیوں نے ہم پر حملہ کردیا پولیس نے ہمیں تحفظ دیا ورنہ وہ ہمیں جان سے مار دیتے ، اس حوالہ سے ایڈیشنل ایس ایچ او محمد خورشید نے دھرتی کو بتایا کہ لالہ نیاز اور اس کا حامی گروپ مذکورہ روٹ پر بغیر روٹ پرمٹ کے گاڑیاں چلانے پر بضد ہے اور پولیس نے دو گاڑیاں ضبط بھی کر رکھی ہیں ، تاہم پولیس درخواست پر تحت ضابطہ کارروائی کر رہی ہے اور کسی کو غیر قانونی کام کرنے کی اجازت نہیں دیںگے ۔ ادھر قاضی عبدالسلام نے ڈی آئی جی ، ایس پی پونچھ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے عناصر جو غیر قانونی گاڑیاں چلانا چاہتے ہیں ان کے خلاف مزید مقدمات قائم کرکے قرار واقعی سزاد ی جائے ۔ 

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم