بدھ 24 اکتوبر 2018ء
بدھ 24 اکتوبر 2018ء

سا نحہ سولہ مارچ،سات اپریل کو امن کانفرنس کا اعلان

  راولاکوٹ ( پ ر)سیز فائر لائن (ایل او سی )پر ہونے والی فائرنگ گولہ باری ،شہادتوں،املاک کی تباہی کے نتجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں جے کے ایل ایف نے قومی مؤقف سامنے لانے کے لیے 7 اپریل کو امن کانفرنس کا علان کر دیا ۔اس کانفرنس میں تمام سیاسی آزادی پسند جماعتوں ،طلبہ تنظیموں ،انجمن تاجران،ایل او سی پر ہونے والی فائرنگ کے حوالہ سے بننے والی ایکشن کمیٹیز،سول سوسائٹی ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافی برادری کو مدعو کیا جائے گا ۔ کانفرنس میں آزاد کشمیر کے نامنہاد وزیر اعظم فاروق حیدر کی جانب سے اپنے ذاتی اقتدار اور مظفرآباد کی لولی لنگڑی کرسی کو بچانے کے لیے اپنائے گۓ مؤقف، پالیسی جس کے نتیجے میں نعیم بٹ شہید کی شہادت واقعی ہوئی جیسے اقدامات کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا ۔ نعیم بٹ کی شہادت کی وجہ سے 22 مارچ کو ہجیرہ سے ایل او سی کی طرف کیا جانے والے امن مارچ کو نعیم بٹ کی شہادت کے اسباب جاننے کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے بعد نئی تاریخ کا علان کیا جائے گا ۔ہجیرہ سے ایل او سی کی طرف کیا جانے والا مارچ مناسب اور موزوں وقت پر ہر حال میں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار جے کو ایل ایف کے سپریم ہیڈ سردار رؤف کشمیری ،چیئر مین صابر کشمیری ایڈوکیٹ،سینئر وائس چیئرمین ذولفقار شاہین،سیاسی شعبہ کے سر براہ ناصر سرور ،کے ایس ایل ایف کے سینئر وائس چیئرمین قمر الیاس،سیکرٹری مالیات جے کے ایل ایف اعظم انقلابی،سیکرٹری اطلاعات ندیم خان،ممبر سنٹرل کمیٹی و سینئر رہنما منظور میر،سینئر رہنما منصور طاہر،گلفراز صدیق،امجد حسین،سردار حنیف اور دیگر نے رولاکوٹ میں منعقد اجلاس میں خطاب کرتے ہوے کیا۔ مقررین نے کنٹرول لائن پہ ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی المیہ پر عالمی برادری ،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی کی بھرپور مزمت کرتے ہوئے کہا کے جے کے ایل ایف نے ایل او سی کی صورت حال کے تناظر میں آر پار فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے خلاف 22 مارچ کو ہجیرہ تا تیتری نوٹ ایل او سی تک امن مارچ کا اعلان کیا تھا تا کہ غاصب قوتوں کے علاوہ عالمی برادری تک پیغام پہنچایا جائے کے کشمیری آزادی اور امن کی فضاؤں میں رہنے کا حق مانگتے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر سے غیر ملکی افواج کے انخلا تک ریاست اور خطہ میں امن کا قیام شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس مارچ کے اعلان کے بعد دونوں طرف کی غیر مرائی طاقتیں حرکت میں آئیں اور مارچ کو سبوتاز کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے۔اس حوالہ سے نامنہاد آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کی نکیال میں کی جانے والی تقریر اور دیگر قوتوں کی جانب سے کی جانے والی حرکات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کے نامنہاد آزاد کشمیر میں پراکسی وار کی ابتدا ہو گئی ہے۔نعیم بٹ کی شہادت اس کی ایک کڑی ہے ۔چونکہ نعیم بٹ کی شہادت ایک قومی سانحہ تھی لہٰذا جے کے ایل ایف نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے 22 مارچ کو ہونے والے امن مارچ کو موخر کیا اور آج اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ نعیم بٹ کی شہادت کے حوالہ سے قائم کیے جانے والے کمیشن معینہ مدت میں رپورٹ آنے تک امن مارچ کی نئی تاریخوں کا اعلان موخر رکھا جائے۔اسی دوران قومی مؤقف سامنے لانے کے لیے امن کانفرنس کا انعقاد کر کے ریاست جموں و کشمیر کی جملہ سیاسی آزادی پسند،طلبہ تنظیموں،انجمن تاجران،سول سوسائٹی کو مدعو کر کے ایل او سی اور ریاست جموں و کشمیر کی مجموعی صورت حال سامنے رکھی جائے اور صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور اجتمائی جدوجہد کو منظم کیا جاے ۔ مقررین نے کہا کے جے کے ایل ایف 84471 مربہ میل پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی بحالی ،مکمل آزادی اور منصفانہ سماج کے قیام کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ریاست جموں و کشمیر کی کسی اکائی میں کی جانے والی پراکسی وار،عوام مخالف اقدامات کے خلاف ہر محاذ پر لڑائی لڑے گا ۔مقررین نے کہا کے اس وقت ریاست جموں و کشمیر ایک کڑے وقت اور آزمائش سے گزر رہی ہے ۔ جہاں پر اجتماعی دانش اور جدوجہد کے ذریعے صورت حال سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے جس کے لیے بے لاگ اور نا قابل مصالحت جدوجہد وقت کا تقاضہ ہے ۔ راولاکوٹ ( )سیز فائر لائن (ایل او سی )پر ہونے والی فائرنگ گولہ باری ،شہادتوں،املاک کی تباہی کے نتجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں جے کے ایل ایف نے قومی مؤقف سامنے لانے کے لیے 7 اپریل کو امن کانفرنس کا علان کر دیا ۔اس کانفرنس میں تمام سیاسی آزادی پسند جماعتوں ،طلبہ تنظیموں ،انجمن تاجران،ایل او سی پر ہونے والی فائرنگ کے حوالہ سے بننے والی ایکشن کمیٹیز،سول سوسائٹی ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافی برادری کو مدعو کیا جائے گا ۔ کانفرنس میں آزاد کشمیر کے نامنہاد وزیر اعظم فاروق حیدر کی جانب سے اپنے ذاتی اقتدار اور مظفرآباد کی لولی لنگڑی کرسی کو بچانے کے لیے اپنائے گۓ مؤقف، پالیسی جس کے نتیجے میں نعیم بٹ شہید کی شہادت واقعی ہوئی جیسے اقدامات کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا ۔ نعیم بٹ کی شہادت کی وجہ سے 22 مارچ کو ہجیرہ سے ایل او سی کی طرف کیا جانے والے امن مارچ کو نعیم بٹ کی شہادت کے اسباب جاننے کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے بعد نئی تاریخ کا علان کیا جائے گا ۔ہجیرہ سے ایل او سی کی طرف کیا جانے والا مارچ مناسب اور موزوں وقت پر ہر حال میں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار جے کو ایل ایف کے سپریم ہیڈ سردار رؤف کشمیری ،چیئر مین صابر کشمیری ایڈوکیٹ،سینئر وائس چیئرمین ذولفقار شاہین،سیاسی شعبہ کے سر براہ ناصر سرور ،کے ایس ایل ایف کے سینئر وائس چیئرمین قمر الیاس،سیکرٹری مالیات جے کے ایل ایف اعظم انقلابی،سیکرٹری اطلاعات ندیم خان،ممبر سنٹرل کمیٹی و سینئر رہنما منظور میر،سینئر رہنما منصور طاہر،گلفراز صدیق،امجد حسین،سردار حنیف اور دیگر نے رولاکوٹ میں منعقد اجلاس میں خطاب کرتے ہوے کیا۔ مقررین نے کنٹرول لائن پہ ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی المیہ پر عالمی برادری ،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی کی بھرپور مزمت کرتے ہوئے کہا کے جے کے ایل ایف نے ایل او سی کی صورت حال کے تناظر میں آر پار فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے خلاف 22 مارچ کو ہجیرہ تا تیتری نوٹ ایل او سی تک امن مارچ کا اعلان کیا تھا تا کہ غاصب قوتوں کے علاوہ عالمی برادری تک پیغام پہنچایا جائے کے کشمیری آزادی اور امن کی فضاؤں میں رہنے کا حق مانگتے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر سے غیر ملکی افواج کے انخلا تک ریاست اور خطہ میں امن کا قیام شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس مارچ کے اعلان کے بعد دونوں طرف کی غیر مرائی طاقتیں حرکت میں آئیں اور مارچ کو سبوتاز کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے۔اس حوالہ سے نامنہاد آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کی نکیال میں کی جانے والی تقریر اور دیگر قوتوں کی جانب سے کی جانے والی حرکات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کے نامنہاد آزاد کشمیر میں پراکسی وار کی ابتدا ہو گئی ہے۔نعیم بٹ کی شہادت اس کی ایک کڑی ہے ۔چونکہ نعیم بٹ کی شہادت ایک قومی سانحہ تھی لہٰذا جے کے ایل ایف نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے 22 مارچ کو ہونے والے امن مارچ کو موخر کیا اور آج اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ نعیم بٹ کی شہادت کے حوالہ سے قائم کیے جانے والے کمیشن معینہ مدت میں رپورٹ آنے تک امن مارچ کی نئی تاریخوں کا اعلان موخر رکھا جائے۔اسی دوران قومی مؤقف سامنے لانے کے لیے امن کانفرنس کا انعقاد کر کے ریاست جموں و کشمیر کی جملہ سیاسی آزادی پسند،طلبہ تنظیموں،انجمن تاجران،سول سوسائٹی کو مدعو کر کے ایل او سی اور ریاست جموں و کشمیر کی مجموعی صورت حال سامنے رکھی جائے اور صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور اجتمائی جدوجہد کو منظم کیا جاے ۔ مقررین نے کہا کے جے کے ایل ایف 84471 مربہ میل پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی بحالی ،مکمل آزادی اور منصفانہ سماج کے قیام کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ریاست جموں و کشمیر کی کسی اکائی میں کی جانے والی پراکسی وار،عوام مخالف اقدامات کے خلاف ہر محاذ پر لڑائی لڑے گا ۔مقررین نے کہا کے اس وقت ریاست جموں و کشمیر ایک کڑے وقت اور آزمائش سے گزر رہی ہے ۔ جہاں پر اجتماعی دانش اور جدوجہد کے ذریعے صورت حال سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے جس کے لیے بے لاگ اور نا قابل مصالحت جدوجہد وقت کا تقاضہ ہے ۔