بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان شہید

  سرینگر(دھرتی نیوز ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک اور زخمی نوجوان چل بسا ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد23ہو گئی ہے جبکہ تین روز میں 6زخمی دم توڑ گئے ہیں وادی میں گھمسان مزید30زخمی ،مزاحمتی قیادت کی ” شوپیاں چلو“ کال کو ناکام بنانے کےلئے بھارتی فورسز نے پوری مشینری لگا دی، حریت قیادت بدستور پابند سلاسل ،جگہ جگہ ہنگامے ،مار پیٹ اور تشدد،بھارتی سورماو¿ں نے انسانیت کو شرما دیا،تمام تر رکاوٹوں ،مظالم اور تشدد کے باوجود ،لبریشن فرنٹ اور فریڈم پارٹی وفود شوپیان پہنچنے میں کامیاب،سوگوار کنبوں سے اظہار یکجہتی،کپواڑہ سے کشتواڑہ تک ہو کا عالم،وادی میں سوگ اور ہڑتال،کاروباری مراکز ،تجارتی ادارے ،دکانیں،بازار اور سکول کالج بند،امتحانات ملتوی،انٹر نیٹ موبائل اور ریل سروس معطل ،شہری ہلاکتوں کی عدالتی انکوائری اور پولیس کی محکمانہ تحقیقات کے احکامات صادر۔تفصیلات کے مطابق پیر کو کنگن میں بھارتی فوج کی جانب سے نزدیک سے پیلٹ چلانے کے باعث زخمی نوجوان صورہ ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔اس طرح احتجاجی مظاہروں کے دوران تین روز میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 6تک پہنچ گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 23افراد شہید ہوئے ہیں ۔ریاستی حکومت نے کنگن واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔اس دوران قصبہ میں تشدد بھڑک اٹھنے سے پولیس کے ایک افسر سمیت 10افراد زخمی ہوئے۔کنگن کا نوجوان گاندربل میں ایک دکان پر بطور سیلز مین کام کرتا تھا۔واضح رہے کہ پولیس نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ مذکورہ نوجوان ڈرین میں گرنے کے دوران زخمی ہوا تھا تاہم اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اسے سر میں نزدیک سے پیلٹ چلائے گئے تھے۔سوموار کو فورسز پر معمولی پتھراﺅ ہوا تھا اور فورسز نے نوجوانوں کا تعاقب کیا جس کے دوران 22سالہ گوہر احمد راتھر ولد عبدالرحمان ساکن وانی محلہ کنگن زخمی ہوا جسے ٹراما ہسپتال کنگن پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروںنے اس کی حالت نازک قرار دے کر مزید علاج و معالجہ کیلئے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا جہاں 24گھنٹے تک انتہائی نگہداشت وارڈ میں رہنے کے بعد وہ زندگی کی جنگ ہار گیا