پیر 23 جولائی 2018ء
پیر 23 جولائی 2018ء

دن میں خواب دیکھنے والے اپنا علاج کروائیں ، وزیر اعظم آزادکشمیر

ڈڈیال ( دھرتی نیوز)وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموںوکشمیرراجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہاہے کہ اقتدارکے پونے دوسالوں میں ریاستی نظام کی درستگی کے لیے تلخ اور غیرمقبول فیصلے کیے، اگرہم نظام درست نہ کرسکے توپھرقوم کے پڑھے لکھے باصلاحیت نواجوان کہاں جائیں گے۔ محکمہ تعلیم میں اڑھائی ہزار پوسٹوں کے لیے 56 ہزاردرخواستیں موصول ہوچکیں۔حقدار تک اس کاحق پہنچائیں گے۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی کاروبارنہیں نہ ہی عیاشی کامرکز، یہ اپنی خواہشات ،پیٹ کاٹ کرلوگوں کی خدمت کرنے کانام ہے۔اگرہم نے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا وسائل کولوٹاتو پیپلز پارٹی سے براحشرہمارے ساتھ ہوگا۔کچھ لوگوں کودن میں خواب آنے کی بیماری ہے ، وہ اپنا علاج کروائیں حاسد کبھی سکون کی نیند نہیں سوسکتا۔ہماری پارلیمانی پارٹی مٹھی کی طرح یکجان ہے مگر اظہاررائے کی آزادی بھی سب کوحاصل ہے۔ ہم نے پونے دوسالوں میں دعوے نہیں کیے زمین پرتبدیلی لاکردکھائی ہے۔یوکے سے لوگوں کویہاں بلاکرنہیںلوٹانہ ہی پیسے لے کرصوابدیدی عہدے تقسیم کیے۔آزادکشمیر کے ترقیاتی بجٹ کی تیسری سہ ماہی تک کے اخراجات پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ ہیں۔آئندہ سال اس میں مزید اضافے کی تحریک کی ہے۔ پبلک سروس کمیشن کاچیئرمین ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل کولگایا، اس رینک کاسابق آفیسرپہلے کبھی آزاد کشمیر میں کسی ذمہ داری پرنہیں آیا۔ این ٹی ایس ،پبلک سروس کمیشن ،ایمرجنسی سروسز،ترقیاتی بجٹ کاعوامی ضرورت کے مطابق استعمال اورمالیاتی نظم وضبط کے حوالے سے حکومت پرکوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔مودی کی لندن آمد کے موقع پرتمام تارکین وطن جویورپ میں ہیں سے گزارش ہے کہ وہ 18 اپریل کے مظاہرے میں شرکت کریں میں خود بھی اس میں شرکت کے لیے جارہاہوں۔ان خیالات کااظہارانھوں نے ڈڈیال کے علاقے ڈگار رجوعہ میں مسلم لیگی راہنما راجہ رفاقت کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پروزیرحکومت چوہدری محمدعزیز،ممبراسمبلی راجہ نصیراحمدخان، ممبراسمبلی چوہدری مسعود خالد ،شعیب عابد نے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم آزادکشمیرنے کہاکہ مقبوضہ کشمیرکے اندرگزشتہ کچھ عرصے سے جوحالات برپاءہیں آزادکشمیرکے اندراس حوالے سے سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ہندوستان اپنے جابرانہ قبضے کوبرقراررکھنے کے لیے انتہائی بہیمانہ انداز میں کشمیریوں پرانسانیت سوزمظالم ڈھارہاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کے ہم اپنے بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی ،سفارتی مدد کرسکیں۔ہم تحریک آزادی کشمیرکے حوالے سے اپنے کردار سے آگاہ ہیں اور بخوبی اپناکام کررہے ہیںجس کے جلد نتائج برآمد ہونگے۔ اس علاقے سے تارکین وطن کی بڑی تعداد لندن اوردیگرعلاقوں میںمقیم ہے ان سے اپیل ہے کہ 18 تاریخ کوہونے والے احتجاج میں بھرپورشرکت کریں۔کشمیری اپنے پیدائشی حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم