جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

آزادکابینہ میں توسیع ، 8نئے وزراءنے حلف اٹھالیا

مظفرآباد(دھرتی نیوز) وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا شور دم توڑ گےاآزادجموں وکشمیر کابینہ میں توسیع،8 وزراءشامل۔دومشیران کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا،کابینہ اراکین کی تعداد 20ہوگئی۔نوتعینات وزراءنے ایوان صدر میں حلف اٹھالیا۔نئے وزراءمیں مظفرآباد سے راجہ عبدالقیوم خان،کوٹلی سے راجہ نصیر احمد خان، مہاجرین مقیم پاکستان سے چوہدری محمد اسحاق،اوورسیز کشمیریوں کی سیٹ پر خصوصی نشست سے منتخب ہونے والے چوہدری جاوید اختر، بھمبر سے چوہدری مسعود خالد، مہاجرین جموں وکشمیر سے محمد احمد رضا قادری، پونچھ سے چوہدری یاسین گلشن اور برنالہ سے کرنل(ر) وقار احمد نورنے حلف اٹھا لیا۔ تقریب حلف برداری ہفتہ کے روز ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے وزراءسے حلف لیا جبکہ تقریب میں وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان،سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر،سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق،وزیر خزانہ وصحت عامہ ڈاکٹر نجیب نقی خان،وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز،وزیر صنعت وسماجی بہبود محترمہ نورین عارف،وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان،وزیر سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر چوہدری محمد سعید،وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی،مشیر حکومت خان بہادر خان،چیف سیکرٹری آزادکشمیر ڈاکٹر اعجاز منیر،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر شعیب دستگیر، سیکرٹریز حکومت،سربراہان محکمہ جات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر سینٹر ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن عامر محمود مرزا نے نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا جس کے بعد صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے وزراءسے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب کے بعد وزراءکو کارکنوں نے مبارکباد دی،پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ہار پہنائے۔نوتعینات وزراءکو قلمدان وزیراعظم کے دورہ لندن کے بعد سونپے جائیں گے۔یاد رہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ کابینہ 12اراکین سے زاید نہیں ہوگی اور اگر کابینہ میں اضافہ کیا گیا تو میں مستعفی ہوجاﺅں گا تاہم گزشتہ دو ہفتوں سے پارلیمانی پارٹی میں تناﺅ شدت اختیار کرگیا تھا مبےنہ طور پر وزیراعظم فاروق حیدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی تیاریاں مکمل تھیں جس کے بعد وزیراعظم نے اپنا فیصلہ بدل کر کابینہ میں توسیع کردی ہے تاہم اب بھی پارلیمانی پارٹی کے 17اراکین وزارت لینے کے لیے بے تاب ہیں جبکہ جمعہ کی شب ایک ممبر ڈاکٹر مصطفی بشیر نے حتمی طورپر وزراءکی لسٹ تیار ہونے کے بعد انہیں وزیر نہ بنائے جانے پر احتجاجاً پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ممبر شپ سے استعفی دیدیا ہے جبکہ میرپور ڈویژن کے ممبر اسمبلی چوہدری رخسار احمد نے بھی شدید تحفظا ت کا اظہار کیا ہے امکان ہے کہ پارلیمانی پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے مزید اراکین کو بھی وزارتیں دی جائیں گی۔دوسری جانب مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی خواتین ممبران اور علماءومشائخ کی سیٹ پر آنے والے ممبر پیر علی رضا بھی وزارت کے لیے سرگرم ہیں جبکہ رات گئے محرک ختم نبوت اور مہاجر ممبر اسمبلی راجہ محمد صدیق خان وزراءکی لسٹ سے خارج ہو گئے جس کے بعد پارلیمانی پارٹی کے علاوہ آزادکشمیر بھر میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔