هفته 18  اگست 2018ء
هفته 18  اگست 2018ء

راولاکوٹ،”جسٹس فار نعیم بٹ“ کمیٹی کی اپیل پراحتجاجی ریلی،کمشنر آفس کے سامنے دھرنا

راولاکوٹ ( دھرتی نیوز )”جسٹس فار نعیم بٹ“ کمیٹی کی اپیل پر جمعرات کو راولاکوٹ میںاپنے مطالبات کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس نے شہر بھر کا چکر لگانے کے بعدکمشنر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا کی شکل اختیار کر لی ۔ احتجاجی ریلی کا آغاز حسین شہید پوسٹ گریجویٹ راولاکوٹ کے گیٹ سے ہوا ۔ریلی میںجے کے ایل ایف( یسین ملک گروپ) ، جے کے ایل ایف( رﺅف کشمیر ی گروپ) اور نیشنل عوامی پارٹی ، این ایس ایف ، راولاکوٹ انجمن تاجران اور دیگر سیاسی وسماجی جماعتوں اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ۔شرکاءریلی کا مطالبہ ہے کہ نعیم بٹ شہید کے قتل کے ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا ۔شرکاءریلی جب احتجاجی دھرنا دینے کیلئے کمشنر آفس کی طرف جانے والی سڑک پر د اخل ہوئی تو وہاں موجود پولیس کی بھاری مسلح نفری نے ریلی کو اندر جانے کیلئے راستہ چھوڑ دیا جس باعث کوئی تصادم نہیں ہوا ۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرنے والوں میں سردار لیاقت حیات (صدرنیشنل عوامی پارٹی)، سردار عبدالقدیر خان (جے کے ایل ایف یسین ملک گروپ)، سردار محمد انور خان ایڈووکیٹ ،سردار صابر کشمیر ی ایڈووکیٹ (جے کے ایل ایف رﺅف کشمیر ی گروپ) ، عمر نذیر کشمیری اور شاہد خورشید راولاکوٹ انجمن تاجران ، سردار سجاد افضل، سردار نعیم ناز ، سردار امتیاز اکبر ایڈووکیٹ(اسٹینڈنگ کونسل حکومت آزادکشمیر)،سردار محمد بشیر خان، سردار شبیر خان، سردار سعود افتخار ،خواجہ عمران ، محمد الطاف ، محمد فیاض ، محمد زاہد حسین ، محمد جاوید حنیف قابل ذکر ہیں ۔ان تمام مقررین نے کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم کے خلاف احتجاج کیلئے وزیر اعظم ہندوستان ، مودی کے دورہ لندن کے دوران گئے ہوئے ہیں جب کہ ان کے اپنے گھر آزادکشمیر میں نوجوان کو شہید کیا گیا۔اس کے خلاف احتجاج کیاجارہا ہے مگر وزیر اعظم آزادکشمیر کو ئی نوٹس نہیں لے رہے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ انہو ں نے حکومت آزادکشمیر کو متعدد مواقع دیئے کہ وہ ان دو آفیسران کو فوری طورپر عہدوں سے ہٹائیں مگر حکومت آزادکشمیر نہیں چاہتی کہ پونچھ میں امن و امان ہو ۔حکومت آزادکشمیر چاہتی ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس سے کہیں اور نعیم بٹ شہید جان کی بازی ہار جائیں ۔شرکاءنے واضح اور دوٹوک اعلان کیا کہ جب تک نعیم بٹ شہید کے قتل کے کو معطل نہیں کیاجاتا اس وقت تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا اور ان آفیسران کو راولاکوٹ دفاتر میں نہیں بیٹھنے دیاجائے گا ۔دریں اثناءرات گئے تک بیس کے قریب مظاہرین نے دھرنا دے رکھا تھا جن سے مختلف طریقوں سے مذاکرات کی بھی کوشش کی جاتی رہی لیکن وہ بضد رہے کہ مطالبات پورے ہونے تک وہ واپس نہیں جائیں گے۔ادھر انتظامیہ نے بھی سیکورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کیے رکھے ہیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم