هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

پاکستان کے انتخابات سے قبل ریاستی انتخابات دوبارہ کروائے جائیں، خالد ابراہیم

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر)جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے مرکزی صدر و ممبر قانون سازاسمبلی سردار خالد ابراہیم نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان اور آزادکشمیرمیں ایک ساتھ انتخابات کروانے کے لےے ریاستی اسمبلی تحلیل کر کے پاکستان کے انتخابات سے 10روز قبل آزاد کشمیر میں انتخابات کروائے جائیں تاکہ ریاستی کار حکومت میں بہتری لائی جا سکے ،آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کو نہیں بلکہ وہاں کی حکومتوں کو دیکھ کر اپنا ووٹ دیتے ہیں جس سے بہتری نہیں آرہی ، عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ اور رویہ باقی سیاستدانوں سے مختلف ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ تبدیلی لا سکیں ، ایکٹ 74میں ترامیم مارشل لاءحکومتوں نے کی ایک آرڈر کے ذریعے ٹیکس کولیکشن کا اختیار حکومت آزاد کشمیر واپس لے سکتی ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت گزشتہ حکومت سے بہتر ہے ،البتہ گڈ گورننس کی مثال قائم نہیں کر سکی ، منتخب نمائندوں کے بجائے مختلف حلقوں میں ناکام ہونے والے امیدواروں کو بھی سکیمیں دی جا رہی ہیں ،مختصر کابینہ کا نعرہ لگایا لیکن اب 8وزراءکا اضافہ کر دیا ، ہمیشہ سنجیدگی سے اعلانات کرنے چاہےے ، تاکہ اس پر عمل بھی کیا جا سکے ، لائن آف کنٹرول پر متاثرین مشکلات کا شکار ہیں ، انکے مسائل کے حل کے لےے فوری اقدامات کےے جائیں ، کشمیر کونسل ختم کرنے کے قطعاََ حامی نہیں البتہ مالی امور کونسل سے واپس لےکر ریاستی حکومت کو دیئے جائیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر پریس کلب باغ راجہ عبد الحفیظ کی دعوت پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر انکے ہمراہ محترمہ نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ ، سابق چیئر مین JKPSOسردار ثاقب نعیم اور دیگر بھی موجود تھے ، سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ پاکستان میں احتسابی عمل کی حمایت کرتے ہیں ، وہ مستقل جاری رہنی چاہےے ،اقامہ ورک پرمٹ ہے جن ممبران پارلیمنٹ کے پاس اقامہ ہے انہیں گھر چلے جانا چاہےے ، جس سیاستدان کے پاس کسی دوسرے ملک کا ورک پرمٹ اسے عوامی نمائندگی کا حق نہیں احتساب سب کا یکساں ہونا چاہےے کسی ایک جماعت ،شخص کے گرد یہ عمل گھومنے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر سمیت کوئی بھی سیاستدان جب وہ اپوزیشن میں ہو تو اسے سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے تاکہ جب انہیں کار حکومت ملے تو اس پر وہ اپنے ماضی کے اعلانات کے مطابق اس پر عمل کر سکیں ایکٹ 74جن لوگوں نے بنایا بڑی سوچ سمجھ کر بنایا ہے ، 74کی بنیاد ٹھیک ہے البتہ اس میں ترامیم مارشل لاءحکومتوں نے کیں اور ٹیکس کولیکشن اور مالی امور کے اختیارات مارشل لاءحکمرانوں کے دور میں واپس لےے گئے ، جسے ایک حکم نامے کے ذرےعے واپس لیا جا سکتا ہے ، سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سراج الحق آج یہ بات نہ کریں کہ اوپر سے حکم کسی اور کو ملا جب یہی حکم انہیں ملتا تھا تو ٹھیک تھا کیا ،انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ہماری خواہش ہے کہ حکومت مدت پوری کرے البتہ ہمارے ہاں یہ مزاج بن گیا ہے کہ پاکستا ن میں جس کی بھی حکومت ہوتی ہے اسے عوام انتخابات میں ووٹ دیکر آزاد کشمیر میں بھی لے آتے ہیں ، تمام بنیادی مسائل کے حل اور نظام میں اصلاح کے لےے ہماری تجویز ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں انتخابات ایک ساتھ ہوں تاکہ مداخلت کا تاثر بھی ختم ہو اس لےے موجودہ حکومت اسمبلی تحلیل کر کے پاکستان کے عام انتخابات سے 10دن قبل یہاں الیکشن کروائے جس سے بہتری ممکن ہو سکتی ہے ۔