هفته 20 اکتوبر 2018ء
هفته 20 اکتوبر 2018ء

شٹر ڈاون و پہیہ جام کی کال پر تاجر تنظیمیں آمنے سامنے

  ” راولاکوٹ(سٹی رپورٹر،دھرتی نیوز)راولاکوٹ میں آج پیر کو ”جسٹس فار نعیم بٹ “ کمیٹی نے اپنے مطالبات میں شدت پیدا کرنے اور حکومت پر دباﺅ بڑھانے کے لیے شہر میں پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاون رکھنے کی کال دے رکھی ہے لیکن دوسری طرف انجمن تاجران راولاکوٹ اور ٹرانسپورٹروں کی سب سے بڑی تنظیم آزاد کشمیر ٹرانسپورٹر ورکرز یونین نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ وہ حسب معمول دکانیں کھلی رکھیں گے اور گاڑیاں چلتی رہیں گی۔پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاون کی نوبت اس لیے آئی کہ گزشتہ ماہ کے تیسرے ہفتے میں جموں کشمیرلبریشن فرنٹ (JKLF)یاسین ملک گروپ کے آزادکشمیرگلگت بلتستان زون کی اپیل پرتتہ پانی سے ایل اوسی کی طرف ایک احتجاجی مارچ کے دوران فائرنگ کے واقعہ میں جے کے ایل ایف کے ایک کارکن نعیم بٹ زخمی ہوگئے تھے جنہیں پہلے سی ایم ایچ راولاکوٹ اوربعدازاں پمزہسپتال اسلام آبادمنتقل کیاگیاتقریباًچارروززیرعلاج رہنے کے بعدنعیم بٹ جاں بحق ہوگئے ۔نعیم بٹ کے زخمی ہونے کے واقعہ کی رپورٹ چونکہ راولاکوٹ میں درج ہوئی تھی لہذانعیم بٹ کی میت کوراولاکوٹ لایاگیاجہاں نعش کاپوسٹ مارٹم کیاگیا،اس دوران جے کے ایل ایف سمیت دیگرسیاسی جماعتوں اورشہریوں نے نعیم بٹ کی میت کوسڑک پررکھ کراحتجاج کیااورمطالبہ کیاکہ اس واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور مقدمہ درج کیا جائے۔اس دوران احتجاج کرنے والوں نے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جس نے انتظامیہ سے مذاکرات کیے اور مطالبہ رکھا کہ اس واقعہ کے ذمہ داران کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔وزیراعظم کی ہدایت پرایک جوڈیشل کمیشن آزادکشمیرہائی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس شیرازکیانی پرمشتمل تشکیل دیاگیاجسے تیس دنوں میں حالات واقعات کاتعین کرکے رپورٹ حکومت کوارسال کرنے کاہدف دیاگیا۔23اپریل کوتیس دن پورے ہونے پرکمیشن نے رپورٹ پیش کرنی تھی اس دوران” جسٹس فار نعیم بٹ “کمیٹی قائم کردی گئی جس میں جے کے ایل ایف( یاسین ملک گروپ )کی جزوی شرکت رہی جبکہ نیپ اورتاجران کی ایک تنظیم (راولاکوٹ انجمن تاجران ) اورجماعت اسلامی آزادکشمیر بعض کاکنان شریک رہے۔” جسٹس فار نعیم بٹ “کمیٹی کی اپیل پرایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اورکمشنرآفس کے سامنے دھرنادیاگیاجسے اب دس روزہوچکے ہیں ۔کمیٹی کامطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنراورایس پی کوفی الفورمعطل کیاجائے ۔جبکہ حکومت کاخیال ہے کہ جب تک جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پرنہیں آتی کوئی فیصلہ نہیںکیاجاسکتا،ا ب کمیٹی نے اپنادباﺅبڑھانے کیلئے آج پیرکوپہیہ جام اورشٹرڈاﺅن ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ لیکن تاجران کی ایک تنظیم انجمن تاجران راولاکوٹ اورٹرانسپورٹرزکی تنظیم ٹرانسپورٹ ورکرزیونین نے ہڑتال سے لاتعلقی کااعلان کررکھاہے اورپرائیویٹ سکولوں کی تنظیم نے بھی اسکول بندنہ کرنے کافیصلہ کیاہے۔ہڑتال سے لاتعلقی اختیارکرنے والوں کاموقف ہے کہ ہڑتال کامقصدنعیم بٹ کیس نہیں بلکہ ذاتی مقاصدہیں جنہیں کسی صورت پورانہیں ہونے دیاجائے گا۔دریں اثناءضلعی انتظامیہ اورپولیس نے ہڑتال کی کال کے پیش نظرسکیورٹی کے سخت انتظامات کررکھے ہیں۔انتظامیہ کاکہناہے کہ ہڑتال کی کال کاکوئی جوازنہیں کسی بھی شخص یاتنظیم کوامن وامان خراب نہیں کرنے دیاجائے گا۔اوراگرزبردستی کوئی دکان بندکروانے یاگاڑی روکنے کی کوشش کی گئی توسخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔