هفته 18  اگست 2018ء
هفته 18  اگست 2018ء

جسٹس فار نعیم بٹ“ کمیٹی کا مذاکرات سے انکار، جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ حکومت کو پیش کر دی

” راولاکوٹ(دھرتی نیوز)”جسٹس فار نعیم بٹ“ کمیٹی نے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ،جبکہ اس واقعہ سے متعلق تشکیل دئیے گے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی۔کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے اپنے دورہ باغ کے دوران دی تھی اور پیر کو کشمیر ہاو س اسلام باد میں مذاکرات ہونے تھے کہ کمیٹی کی اراکین نے مشاورت کے بعد مذاکرات سے انکار کر دیا تھا جبکہ کمیٹی کی طرف سے دی گئی دوسری ڈیڈ لائن پانچ مئی کو ختم ہو رہی ہے۔حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ(یاسین ملک گروپ) کی جانب سے16مارچ کوکنٹرول لائن تتہ پانی سے مدارپور کے لیے کیے جانے والے لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے زخمی ہوکربعدازاں جاں بحق ہونے والے جے کے ایل ایف کے نوجوان کارکن محمدنعیم بٹ کے حوالے سے کی گئی تھی۔ عدالت العالیہ کے جج جسٹس راجہ محمدشیرازکیانی پرمشتمل کمیشن آف انکوائری نے اپنی رپورٹ یکم مئی کوحکومت آزادکشمیرکے حوالے کردی ہے ۔کمیشن نے چوبیس مارچ سے راولاکوٹ آکرباضابطہ انکوائری شروع کی تھی۔ انکوائری کمیشن اس دوران جائے وقوعہ پربھی گیااور بعض وکلاءاورصحافیوں کے بیانات بھی ریکارڈکیے گے۔کمیشن نے تفصیلی رپورٹ تیارکرکے حکومت کوپیش کردی ہے ۔ادھرجسٹس فارنعیم بٹ شہیدکمیٹی نے 19اپریل سے کمشنراورڈپٹی کمشنرپونچھ کے دفترکے باہراحتجاجی دھرنادے رکھاہے۔دھرنادینے والوں کامطالبہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرپونچھ ،ایس پی پونچھ سمیت دیگر ذمہ داران کوفوری طورپرمعطل کیاجائے ۔اس دوران حکومت کی طرف سے وزیرحکومت ڈاکٹرنجیب نقی اوردیگرذمہ داران نے جن کاتعلق مسلم لیگ ن سے ہے کمیٹی کے ذمہ داران سے مذاکرات کیے تھے اوران سے کمیشن کی رپورٹ آنے تک احتجاجی دھرناموخرکرنے کاکہاتھامگراحتجاجی دھرناکے شرکاءنے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی دھرناختم نہ کرنے کااعلان کررکھاتھا۔تیس اپریل کواسی کمیٹی کی اپیل پرراولاکوٹ میں شٹرڈاﺅن،پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔کمیٹی نے اعلان کررکھاہے کہ اگرپانچ مئی کی شام تک ان کے مطالبات کوتسلیم کرتے ہوئے پونچھ کے ڈپٹی کمشنر،ایس پی پونچھ اوردیگرذمہ داران کومعطل کرکے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی توسات مئی بروزپیرسے پورے پونچھ ڈویژن بالعموم اورراولاکوٹ میں بالخصوص ایک مرتبہ پھرمکمل شٹرڈاﺅن پہیہ جام ہڑتال کروائی جائے گی۔اس روزنہ ہی کوئی دفترکھولنے دیاجائے گااورنہ ہی کسی سرکاری گاڑی کوسڑک پرآنے دیاجائے گا۔اس دن اگرحالات خراب ہوئے تواس کی تمام ترذمہ داری حکومت آزادکشمیراورپونچھ انتظامیہ پرعائدہوگی۔ان حلقوں نے وزیراعظم آزادکشمیرپرزوردیاہے کہ وہ اس معاملے کوطول نہ دیں بلکہ فوری طورپرکمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کومنظرعام پرلاکر پیش کی گئی سفارشات اورتجاویزپرعملدرآمدکرکے اس خطہ کوکسی بڑے سانحہ سے بچالیں۔ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی اہم فیصلہ کرے گی۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم