منگل 20 نومبر 2018ء
منگل 20 نومبر 2018ء

باغ ، رشوت لینے کے الزام میں تین پولیس اہلکاران گرفتار

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر)باغ ، پولیس کے 3کانسٹیبل شہری سے زبردستی 70ہزار لینے پر گرفتار ، اعتراف جرم ،اہلکاروں سے رقم برآمد کر لی گئی، تینوں معطل ، محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا،اہلکاروں کےخلاف زیر دفعہ 20HAمقدمہ درج کر لیا گیا ہے ،گرفتار اہلکاروں کے بارے میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر لیا گیا ، انکے ماضی پر بھی تحقیق شروع کر دی گئی ، پولیس اہلکاروں کو سروس سے فوری فارغ کیا جائے قانون کے محافظ ہی اگر شہریوں کو لوٹناشروع کر دیں گے تو عام آدمی کی کیسے شنوائی ہو گی ،عوام کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق باغ پولیس کے تین کانسٹیبلان ،کانسٹیبل شفاعت خادم سکنہ کوٹیڑہ مست خان ،کانسٹیبل ساجدسکنہ حویلی ،کانسٹیبل اظہر سکنہ غربی باغ نے ملتان سے آنے والے عطاءمحمد شاہ کو روکا اور اس سے زبردستی 70ہزار لے لےے ،عطاءمحمد شاہ جو روحانی و حکمت کا علاج کرتا ہے اور کسی کے علاج کی غرض سے انہیں بلوایا گیا تھا،جس پر عطاءمحمد شاہ نے SSPباغ کو درخواست دی کہ اس سے پولیس کے اہلکاروں نے زبردستی ڈرا دھمکا کر 70ہزار لےے ہیں انکے خلاف کارروائی کی جائے ،جس پر SSPباغ نے فوری طور پر SHOسٹی تھانہ باغ اور DSPکو تحقیقات ، کارروائی کا حکم دیا ،جس پرSHOنے اہلکاروں کےخلاف بالا اتھارٹیز کے احکامات پر FIRدرج کر لی ، دوران تحقیق اہلکاروں نے عطاءمحمد شاہ سے پیسے لینے کا اعتراف کر لیا ، معلوم ہوا ہے کہ پولیس کانسٹیبلان میں ایک اہلکاران مظفر آباد بدوں ڈیوٹی یہاں آیا اور اس ساری کارروائی اپنے دیگر اہلکاروں کےساتھ رہا ،پولیس کانسٹیبلان کے علاوہ ایک گاڑی کا ڈرائیور بھی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ، عوامی خدشات ہیں کہ ایک عرصہ سے اس طرح کی کارروائیاں ہوتی تھیں لیکن اس پر کارروائی نہ کی جاتی تھی ،SSPباغ اور SHOکو تاجروں اور شہریوں نے مبارکباد دی ہے کہ انہوں نے عوامی شکایت پر اپنے اہلکاروں کو گرفتار کیا اور انکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جسے سول سوسائٹی نے سراہا ہے ،رابطہ کرنے پر SSPباغ جمیل احمد جمیل نے میڈیا کو بتایا کہ قانون سے بالا کوئی نہیں ہے ، ہمیں تحریری شکایت ملی تھی جس پر ہم نے کارروائی کی ۔عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کا فرض ہے کسی کےساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی ۔