بدھ 26  ستمبر 2018ء
بدھ 26  ستمبر 2018ء

نعیم بٹ قتل کیس میں چار سرکاری افسران کے خلاف ایف آئی آر درج،ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال دے دی

مظفرآباد،اولاکوٹ ،ہجیرہ( دھرتی نیوز) رواں سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف ) یٰسین ملک گروپ کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کے علاقے تتہ پانی سے مدار پور کی جانب کیے جانے والے لانگ مارچ کے دوران، سہر ککوٹہ کے مقام پر فائرنگ سے زخمی اور بعد ازاں جاں بحق ہونے والے جے کے ایل ایف کے کارکن نعیم بٹ کے قتل کے الزام میں چار افراد کے خلاف تھانہ ہجیرہ میں ایف آئی ار درج کر لی گئی۔جن سرکاری ملازمین کے خلاف ایف آئی ار درج کی گئی ان میں ڈپٹی کمشنر پونچھ راجہ طاہر ممتاز،ایس پی پونچھ یٰسین بیگ،اسسٹنٹ کمشنر راولاکوٹ ممتاز کاظمی،تحصلیدار ہجیرہ محمد مشتاق شامل ہیں۔ حکومت نے ایف آئی ار درج کرنے کا فیصلہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد کیا ہے،ادھرریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن ، انجمن قانونگوئیاں ،پٹواریاں نے پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس میں آزادکشمیر بھر میں کام چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ کیا جائیگا، ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ جن افسران کے خلاف من گھڑت ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ بے قصور ہیں اور حکومت نے کسی پریشر میں آکر یہ فیصلہ کیا جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، حکومت کے اس فیصلے سے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے لہذا آزادکشمیر بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے کام چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ کیا جائیگا ۔یہ ایک رکنی کمیشن جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر جسٹس شیراز کیانی کی سربرائی میں حکومت نے نامزد کیا تھا۔ تھانہ ہجیرہ میں ایف آئی ار کے لیے مقتول کے حقیقی بھائی محمد نثار نے درخواست ہفتے کی صبح دی تھی۔ایف آئی ار میںدفعہ 302شامل کیا گیا ہے۔ایف آئی ار کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو محکمہ سروسز کے ساتھ منسلک کر دیا گیا جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ انصر یعقوب کو ڈپٹی کمشنر پونچھ جبکہ چوہدری محمد امین ایس پی نیلم کو تبدیل کر کے ایس پی پونچھ تعینات کر دیا گیا۔ایف آئی ار درج کیے جانے اور ملازمین کی معطلی کے بعد گذشتہ سترہ دنوں سے ”جسٹس فار نعیم بٹ شہید “کمیٹی کی طرف سے دیا جانے والا دھرنا بھی ختم ہو گیا ہے ۔ہفتے کو کمیٹی کے زیر اہتمام ایک ریلی بھی نکالی گئی جس نے شہر کا چکر لگایا ،شرکاءریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسے حق و سچ کی فتح قرار دیا اور اس بات کا عہد کیا کہ وہ نعیم بٹ کے ورثاءکو انصاف ملنے تک ان کے ساتھ رہیں گے۔واضح رہے کہ ایف آئی ار میں شامل دیگر دو افسران اسسٹنٹ کمشنر راولاکوٹ اور تحصلیدار ہجیرہ کی منسلکی سے متعلق حکمنامہ بورڈ آف ریوینیو نے جاری کرنا تھا جو ہفتے کو نہ ہو سکا ۔اب یہ پیر کو جاری ہو گا۔قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی ار میں شامل افسران ایف آئی ار کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں اور اسی عدالت سے ضمانت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔واضع رہے کہ حکومت نے ایف آئی ار درج ہونے کے باوجود ان افسران کو معطل نہیں کیا ہے اور انہیں محض تبادلہ کر کے مزید کسی آسامی پر تعیناتی تک محکمہ سروسز سے منسلک کر دیا گیا ہے۔