هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

پاکستان کو غیر اعلانیہ جنگوں سے خطرات لاحق ہیں ، صدر آزادکشمیر

لاہور (دھرتی نیوز) صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آج کی دنیا کو بہت سے ابھرتے ہوئے چیلنجز پیچیدہ مسائل اور غیر روائتی خطرات کا سامنا ہے جو دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے کسی وباءسے کم نہیں ہے ۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام لاہور میں دوروزہ سیمینار بعنوان©”اکیسویں صدی میں سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کا بین الاقوامی حل“کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سیمینار کا انعقاد یونیورسٹی آف لاہور کے شوشل سائنسز کے شعبہ نے کیا تھا۔ صدر نے کہا کہ ورلڈ آرڈر کو انسانی حقوق کے علم کو بلند رکھنے پر محیط ہونا چاہیے نہ کہ مفاد پرستی کی سیاست پر جس میں انجانے خوف اور جنگی جنون کے بادل منڈلارہے ہوں ۔ صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قانون کا صحیح نفاذ نہ کیا گیا تو دنیا ایک اور خوفناک بین الاقوامی جنگ میں لپیٹ میں آجائے گی۔ صدر نے کہا کہ آج بے شمار خطرات دنیا کو اپنی آغوش میں لئے بیٹھے ہیں جن میں دہشت گردی امن و امان کا مسئلہ جنگی ماحول اور سول نافرمانی کی تحریکیں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں ، جغرافیائی تغیرات ، فائبر جرائم ، پانی ، توانائی کا بحران ، خوراک کی کمی جیسے مسائل اور خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ صدر نے کہا کہ آج روائتی جنگ کے طریقہ کار تبدیل ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ ڈراﺅن نے لے لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوتھی اور پانچویں نسل کے جنگی طریقہ کار نے دنیا کے ہیت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے ۔ صدر نے کہا کہ آج یورپ یہودیت اور اسلام سے خوف کھانے والے عناصر کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ صدر نے کہا کہ آج بد قسمتی سے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پس پشت چلے گے ہیں اور ان کی جگہ سٹرٹیجک ، معاشی اور سیاسی مفادات نے لے لی ہے ۔ صدر نے کہا کہ آج پاکستان کو ہندوستان سے افغانستان کی صورتحال سے دہشت گردی سے اور غیر اعلانیہ جنگوں سے خاطر خواہ خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خطرات کا دلجمعی اور استقامت سے حل ڈھونڈنے کی اہم ضرورت ہے ۔ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ جنوبی ایشیاءکو ہندوستان کی ہمیشہ دشمنی کا سامنا رہا ہے جو اپنے قریبی ممالک کے معاملات میں مسلسل دراندازی کرتا آیا ہے ۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کو آج غربت ، انسانی ترقی ، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کا رجحان ، معاشرتی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام جیسے چیلنجزبھی درپیش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اولین فرصت میں اور ترجیحی بنیادوں پر اپنی دانشمندانہ کاوشوں سے ان مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت میں بڑی بنیادی مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور ہمیں اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی اہداف حاصل کرنے ہونگے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادری راہداری کوئی نعم البدل تو نہیں لیکن یہ ہمارے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے اور ملکوں کے درمیان رابطوں کو تیز تر کرنے کے لئے بے پناہ ممد ومعاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے پاکستان کے لئے بے پناہ مواقع میسر آرہے ہیں پاکستان اور چین کامیابی سے سلامتی اور سیاسی اتفاق رائے اپنے اپنے ملکوں میں پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔