اتوار 21 اکتوبر 2018ء
اتوار 21 اکتوبر 2018ء

پولیس کنسٹیبل شہباز احمد کی پر اسرار ہلاکت کی ایف آئی ار درج کرنے کا حکم

   راولاکوٹ ( کرائم رپورٹر ) سیشن کورٹ پونچھ نے جولائی 2015ءمیں پولیس کنسٹیبل شہباز احمد کی پر اسرار ہلاکت کی ایف آئی آر تین ملزمان محمد نذیر ولد میر زمان ، محمد زاہد ولد محمد نذیر اور عبدالحمید ولد نور عالم کےخلاف درج کرنے کا حکم دیا ہے ، شہباز احمد کا تعلق سنگولہ سے تھا اور وہ مقامی پولیس میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ غیر حاضر پائے جانے پر پولیس نے اس کے ورثاءکو اطلاع دی کہ وہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں اور رہائش پر تالا لگا ہوا ہے بعد ازاں جب اس کی رہائش واقع سپلائی بازار کا دروازہ توڑا گیا تو اسے مردہ پایا گیا ، پولیس نے اسے خود کشی کا واقعہ قرار دیا جبکہ شہباز کے بھائی نے پولیس کو مذکورہ بالا تین افراد جن میں سے دو عبدالحمید اور محمد زاہد نذیر پولیس ملزم ہی ہیں کےخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی اور کہا کہ ان کے ساتھ اراضی کا تنازعہ تھا اور انہیں شک ہے کہ انہوں نے ہی شہباز کو قتل کیا ، پوسٹمارٹم رپورٹ میں شہباز کی موت کو طبی قرار دیاگیا اور کہا کہ وہ ڈپریشن کا شکار تھا ، ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر شہباز کے بھائی نے سیشن کورٹ میں مقدمہ دائر کیا اور موقف اپنایا کہ شہباز احمد کو قتل کیا گیا اور اس کی درخواست پر ایف آئی آر نہیں کی گئی ، عدالت میں پولیس کا موقف تھا کہ اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران تمام حالات ، واقعات کا جائزہ لیا ہے اور جن افراد کے خلاف درخواست دی گئی ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے لیکن کئی سے بھی قتل کیے جانے کا الزام سچ ثابت نہیں ہوا ہے جبکہ پوسٹمارٹم رپورٹ میں بھی طبی موت کا ذکر ہے ، عدالت نے کیس کا جائزہ لیتے ہوئے اور بحث سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ پولیس کو ہر حال میں سائل کی طرف سے دی جانے والی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنی چاہیے تھی اور اس کے بعد تفتیش کرتی لہٰذا مذکورہ تینوں ملزمان جن میں دو پولیس اہلکار بھی ہیں کےخلاف ایف آئی آر درج کی جائے ، واضح رہے کہ شہباز احمد کا تعلق بھی سنگولہ سے تھا ۔