هفته 26 مئی 2018ء
هفته 26 مئی 2018ء

کشمیری دہشت گرد نہیں ، آزادی کے متوالے ہیں ،صدر آزاد کشمیر

  اسلام آباد(اے این این ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری دہشت گرد نہیں بلکہ آزادی کے متوالے ہیں اور وہ ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں ،کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ یہ سہ فریقی ہے اور ہمیں دوطرفہ مذاکرات کے فریب سے نکل کر بین الاقوامی برادری کے پاس جانا چاہیے اور دنیا کا ہر وہ دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے جو کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ ان خیالات کا اظہار صدر مسعود خان نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن کے زیر اہتمام دو روزہ سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ 1947ءمیں مہاراجہ کشمیر کی طرف سے کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویزات آج تک حقیقی ثابت نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1948کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ہندوستان اور پاکستان دونوں کو کشمیر سے اپنی افواج کو کم کرنا تھا لیکن ہندوستان اس پر کوتا اندیشی سے کام کرتا رہا ۔ صدر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ یہ سہ فریقی ہے اور ہمیں دوطرفہ مذاکرات کے فریب سے نکل کر بین الاقوامی برادری کے پاس جانا چاہیے اور دنیا کا ہر وہ دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے جو کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنی تین رخی سٹرٹیجی پر کام کرتے ہوئے کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے اندر قتل کر رہا ہے اور لائن آف کنٹرول پر رہنے والے آزادکشمیر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت اور پاکستان سے مذاکرات کا دروازہ بند کئے ہوئے ہیں۔ صدر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی جغرافیائی یا زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں اور ان کے مستقبل کا سوال ہے۔ آج جس طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت جاری ہے اورکشمیریوں کو نسلی اور مذہبی بنیادوںپربے دردی سے قتل عام کیا جا رہا ہے یہ پوری دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے بلکہ ہندوستانی افواج کالے قوانین کا سہارا لے کر معصوم کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہا رہی ہے۔ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری و ساری رکھنی ہو گی اور اپنی صفوں کے اندر مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کے ہاں دستک دینی ہوگی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ صدر نے کہا کہ ہمیں اپنے تارکین وطن کو مزید متحرک کرنا ہوگا اور ان کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی دستور ساز اداروں تک پہنچنا ہوگا۔ تارکین وطن جہاں کہیں بھی ہیں وہ وہاں اپنی حکومتوں تک اپنے بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے کشمیر اور پاکستان کے غیر اعلانیہ سفیروں کا کردار ادا کریں ۔ صدر نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا اور الیکٹرانک دور ہے ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر پہنچانا ہو گا۔