هفته 18  اگست 2018ء
هفته 18  اگست 2018ء

بار بار پوزیشنز تبدیل ہونے سے مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا ، شیری رحمن

اسلام آباد (دھرتی نیوز ) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن نے کہا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیرپر بار بار پوزیشنز تبدیل ہونے سے مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا پیپلز پارٹی انتخابات سے قبل ہی مسئلہ کو منشور کا حصہ بنانے کیساتھ اقتدار میں آ کر بھی اسے اولین سفارتی ترجیح دے گی۔ ن لیگ کی حکومت نے چار سال تک تو وزیر خارجہ ہی مقرر نہ کیا جبکہ اس وقت بھی اس کی سفیر متنازعہ بنے ہوئے ہیں۔ کے آئی آئی آر نے مسئلہ کشمیر خاص طور ہر بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزاتی شکل میں دنیا کے سامنے لایا اور جنوبی ایشیا میں قیام امن کے کئے کردار ادا کیا۔ وہ پیر کے روز اسلم آباد کلب میں کشمیر انسی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل ریلیشنز کی سلور جوبلی تقریب کے موقع پر دو روزہ کانفرنس کے تیسرے سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر سنیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر،ثمر عباس ، مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے شجاع بخاری ،سنیر سفارتکاروں ،صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ملکی اور غیر ملکی نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی صدارت صدر کے آئی آئی آر شاہ غلام قادر نے کی۔مقررین نے کہا کہ کشمیری شہدا کی قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج ایک دن ضرور طلوع ہو گا۔بھارت نے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھی پابندیاں لگائیں تاکہ اس کی بربریت کی خبر دنیا تک نہ پہنچے لیکن اس کے باوجود بھارتی بربریت بھارتی اور عالمی میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہے۔ بھارت کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔پاکستان کو کشمیریوں کی کھل کر مدد کرنی چاہیے۔ عالمی برادری پر زور دیا جائے کہ بھارت کشمیر میں ظلم کرکے خطے کا امن تبا ہ کرنا چاہتا ہے شری رحمان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے حقیقی وکیل ہونے کا کردار اداکرے۔حکومت و اپوزیشن سمیت تمام سیاسی و سماجی تنظیمیں کشمیر کے مسئلہ پر ایک ہیں۔ تحریک آزادی کو طاقت و قوت کے بل بوتے پر دبانے کی سازشیں قوم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت پہلے کی طرح بھرپور انداز میں جاری رکھی جائے گی۔ بھارت سرکار کشمیریوں کی مضبوط جدوجہد آزادی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے۔ نام نہا د سرچ آپریشن کے نام پر معصوم اور بے گناہ کشمیریوں کی قتل و غارت گری کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ کشمیری نوجوان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں اور قربانیاں و شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔حامد میرنے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا اور الیکٹرانک دور ہے ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر پہنچانا ہو گا۔پاکستان میں اہل صحافت لاتعداد چیلنجز کا سامنا کرتے آئے ہیں اور حکومتوں کی جانب سے کسی نہ کسی انداز میں میڈیا کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں جب کہ معلومات تک بلا رکاوٹ رسائی اور میڈیا کارکنان کے جان و مال کے تحفظ جیسے چیلنجز آج بھی درپیش ہیں۔ثمر عباس نے کہا کہ ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے ہمارا میڈیا وقت کے ساتھ ساتھ بالغ اور ذمہ دار ہورہا ہے تاہم میڈیا کو آزاد اور مثر بنانے کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی کی اشد ضرورت ہے۔شاہ غلام قادر نے کہا کہ ہماری بھارت سے دوستی نہیں ہو سکتی البتہ اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔ آخر میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم