هفته 21 جولائی 2018ء
هفته 21 جولائی 2018ء

مقبوضہ کشمیر ، جھڑپوں میں درجنوں زخمی و گرفتار

  سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں چار روز قبل بھارتی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوکر گزشتہ روز دم توڑنے والے نوجوان محمد اقبال بٹ عرف سفیل احمد کو ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جس کے بعد شہادتوں کی تعداد12ہو گئی ہے ،وادی میں احتجاج،ہڑتال اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری،مزید 32افراد زخمی ،مزاحمتی خیمے کا پر امن احتجاج اور 11مئی کو وادی بھر میں شہداءکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کااعلان ،بھارتی فورسز کا بارہمولہ اور سوپور میں چھاپے 4 مبینہ مجاہدین اور 7بالائی ورکرز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ ،کرالہ گنڈ ہندوارہ اور بونی گام قاضی گنڈ میں فورسزکا قہر، مکانو ں کی تو ڑ پھو ڑ،بلاعمروجنس لوگو ں کی مارپیٹ،علاقے میں کشیدگی،ہڑتال کے باعث زندگی تھم گئی،انٹر نیٹ موبائل اور ریل سروس بدستور معطل،تعلیمی سرگرمیاں بھی بحال نہ ہو سکیں ۔تفصیلات کے مطابق بڑی گام امام صاحب شوپیان میں اتوار کی صبح جنگجووں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے ایک شدید مسلح تصادم کے دوران زخمی ہونے والا داھڑو ناگبل کا محمد اقبال بٹ ولد غلام حسن بٹ عرف سفیل احمد 3 دن بعد سرینگر کے ایس ایچ ایم ایس ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا۔ محمد اقبال داھڑو میں ایک کریانہ کی دکان چلاتا تھا معلوم ہوا کہ محمد اقبال کے اور دو بھائی ہیں جن میں ایک بچپن سے ہی جسمانی طور معذور ہے۔ محمد اقبال بڑی گام امام صاحب میں ایک اینکاونٹر کے دوران فورسز کی مظاہرین پر راست فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا اور منگل کے روز 3 دن بعد ان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ادھر داھڑو ناگبل میں جوں ہی اقبال کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلی تو آس پاس کے علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے اور مہلوک کے گھر پہنچ گئے۔اس دوران نوجوان نے ناگبل میں واقع فوجی کیمپ پر پتھراو کیا جہاں فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ اور ٹیر شیلوں کا استعمال کیا جسکی وجہ سے 9 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے دو کو علاج و معالجہ کے لیے سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا۔محمد اقبال کے آخری سفر میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی 7 بار نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گونج میں محمد اقبال کو پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔ادھر ہلاکتوں کے خلاف ضلع شوپیان میں مکمل ہڑتال رہی۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم