بدھ 24 اکتوبر 2018ء
بدھ 24 اکتوبر 2018ء

ممبران کشمیر کونسل کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن خارج

اسلام آباد ( دھرتی نیوز ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چار ممبران کشمیر کونسل کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن خارج کر دی جس میں درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ وفاقی حکومت کو کشمیر کونسل کےا ختیارات محدود کرنے اور آزادکشمیر حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے سے روکا جائے ، عدالت نے رٹ پٹیشن منظور کرنے کے بعد حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا کہ وفاقی حکومت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے جلد سماعت کرنے کیلئے ایک درخواست دائر کی تھی عدالت نے ایک دن قبل یعنی 30مئی کی بجائے 29مئی کو اس رٹ پٹیشن پر سماعت کی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ اسے قانون سازی کیلئے روکا جا سکے پٹیشنرز چونکہ متاثرہ فریق نہیں ہیں ، آئین اور قانون کے تحت عدالت وفاقی حکومت کو قانون سازی سے نہیں روک سکتی اور یہ ترمیمی بل جائنٹ سیشن میں پاس ہو گا اس لیے یہ رٹ بے بنیاد ہے اور بد نیتی پر مبنی ہے ، 29مئی کو سماعت کے آغاز پر عدالت نے رٹ پٹیشنرز کے وکیل سے ان پوائنٹ پر بحث کرنے کیلئے کہا لیکن وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے اسی اثناءمیں ایک اور وکیل آفتاب جرال نے بھی اس طرح کی ایک رٹ دائر کی تا ہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد رٹ پٹیشن خارج کر دی ، وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے فون کر کے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود کو عدالت میں بہترین طریقے سے مقدمہ پیش کرنے پر مبارکباد دی ہے ۔