جمعه 16 نومبر 2018ء
جمعه 16 نومبر 2018ء

سرینگر،معروف صحافی شجاعت بخاری کو شہید کر دیا گیا

سرینگر (دھرتی نیوز)انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں پولیس نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے معروف صحافی شجاعت بخاری کو ان کے دفتر کے قریب فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے شجاعت بخاری پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے اخبار کے دفتر ڈیلی رائزنگ کشمیر سے اپنے دو محافظوں کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھنے کے لیے نکلے۔شجاعت بخاری نے 2008 میں اخبار ڈیلی رائزنگ کشمیر شروع کیا تھا۔پولیس سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ مسلح افراد کے حملے میں شجاعت اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوئے جبکہ دوسرا محافظ زخمی ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کشمیری جنگجوو¿ں نے کیا ہے۔شجاعت بخاری اپنا اخبار شروع کرنے سے قبل انڈیا کی اخبار دا ہندو کے نامہ نگار تھے۔ معروف صحافی ہونے کے علاوہ وہ مقامی کشمیری زبان کی تجدید کے لیے مہم کر رہے تھے۔شجاعت بخاری نے دنیا کے کئی ممالک میں امن اور سکیورٹی کی کانفرنسوں میں حصہ لیا۔50 سالہ شجاعت نے سوگواران میں والدین، اہلیہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 90 کی دہائی سے شروع ہونے والی شورش میں کئی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں اور پولیس ان کی ہلاکت کی ذمہ واری جنگجوو¿ں پر ڈالتے ہیں۔انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے شجات بخاری کے قتل کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں انھوں نے کہا یہ کشمیر میں دانشمندانہ بات کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ انھیں اس خبر پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔