هفته 18  اگست 2018ء
هفته 18  اگست 2018ء

کمشنر ان لینڈ ریونیو عدنان انعام اللہ نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا

مظفرآباد (دھرتی نیوز)ایف بی آر سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے کمشنر ان لینڈ ریونیو عدنان انعام اللہ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے احکامات ، اور ہائی کورٹ سے رٹ مسترد ہونے کے باوجود ایف بی آر واپس جانے سے انکارکر دیا ، ا تفصیلات کے مطابق تیرویں ترمیم کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے بذریعہ آرڈر نمبر1047-51 2018 مورخہ 14 جون 2018 کو عدنان انعام اللہ کو ایف بی آر میں واپس بھیجنے اور انکی جگہ ایف بی آر میں ڈپوٹیشن پر گئے ہوئے ان لینڈ ریونیو کے سینئر افسر سردار ظفر محمود خان کو بطور کمشنر ان لینڈ ریونیو مقرر کئے جانے کا حکم صادر کیا لیکن عدنان انعام اللہ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آزاد جموں کشمیر ہائیکورٹ سے عارضی حکم امتناعی حاصل کرلیا لیکن عدالت عالیہ نے نہ صرف حکم امتناعی خارج کیا بلکہ عدنان انعام اللہ کی رٹ کو خارج کرتے ہوئے یہ اصول طے کیا کہ ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے کسی بھی شخص کو گورنمنٹ کسی بھی وقت واپس بھیج سکتی ہے ۔ عدالت کی واضح ہدایت کے باوجود عدنان انعام اللہ واپس جانے سے انکاری ہیں اور محکمے میں رہنے کے لئے جگہ جگہ سے سفارشیں کروا رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق عدنان انعام اللہ نے تیرہویں ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ایک متنازع خط نمبریTax/CIR-304/7236-39/2018 مورخہ 19/ 6/ 2018 لکھا جس میں آزاد کشمیر سے جمع ہونے والا ٹیکس 2 ارب 70کروڑ ایف بی آر کے حوالے کرنے کی کوشش کی لیکن منسٹری آف فنانس آزاد کشمیر کی بروقت مداخلت اور وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایت پر سیکرٹری فنانس نے خط لکھ کر وضاحت کردی کہ یہ ٹیکس آزاد کشمیر ان لینڈ ریونیو کا ہے اور ایف بی آر سے اس کا کوئی تعلق نہیں اگر بروقت یہ اقدام نہ اٹھایا جاتا تو عدنان انعام اللہ کی یہ سازش کامیاب ہوجاتی اور آزاد کشمیر حکومت کو سالانہ 12 ارب روپے کا نقصان ہوتا اس کے علاوہ عدنان نام اللہ نے ایسے اقدامات کیئے ہیں جس سے وفاق اور ریاست جموں و کشمیر میں اختلافات پیدا کئے جا سکیں ایف بی آر سے آئے ہوئے یہ افسر مختلف کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ کے سرٹیفکٹ جاری کرکے خزانے کو پہلے ہی کروڑوں روپے کے نقصان پہنچا چکے ہیں یہ افسر ان لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے بد نام زمانہ افسر عاصم شوکت اور فاروق جمیل کے ساتھ مل کر کروڑوں کی کرپشن میں ملوث ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے ایف بی آر سے بد نام زمانہ افسران قیصر اقبال اور وسیم الطاف آ چکے ہیں جن کے خلاف آزادکشمیر احتساب بیورو میں آج بھی کرپشن کے کیسز پڑے ہوئے ہیں ان افسران نے بھی عاصم شوکت کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے کی کرپشن کی احتساب بیورو نے جب عاصم شوکت اور قیصر اقبال کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے تو انہوں نے کشمیر کونسل میں بیٹھے مافیا کی مدد سے چیئرمین احتساب بیورو آزاد کشمیر مظہر کلیم شاہ کو اپنے عہدے سے ہٹانے پر کامیاب ہو گئے آج بھی یہ کرپٹ مافیا عدنان انعام الللہ, فاروق جمیل اور عاصم شوکت پر مشتمل ہے اور ان کی کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیںآزاد کشمیر کی تاجر برادری اور سول سوسائٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تیرہویں ترمیم کے ثمرات سمیٹنے ہیں اور گوڈ گورننس کو قائم کرنا ہے اور کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو فوری طور پر عدنان انعام اللہ کو ایف بی آر واپس بھیجا جائے اور اس کے ساتھ کرپشن میں ملوث عاصم شوکت اور دوسرے افسروں کے خلاف پچھلے دس سال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور جو ملوث پایااس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ عاصم شوکت کے خلاف احتساب بیورومیں موجود کیسز پر فوری طور پر کاروائی کی جائے  

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم