پیر 10 دسمبر 2018ء
پیر 10 دسمبر 2018ء

بھارت کو سی پیک پر اعتراض کا حق نہیں ، صدر

مظفرآباد( دھرتی نیوز) آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی اور سینٹر فار ایکسی لینس فار سی پیک کے زیر اہتمام پاک چین اقتصادی رہداری اور علاقائی روابط پر سمینار کا انعقاد کیا گیا۔سمینار سے خطاب میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری پر اعتراض اُٹھا نے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ آزاد کشمیر گلگت بلتستان ، لداخ اور وادی کشمیر ریاست جموں و کشمیر کی مختلف اکائیاں ہیں اور کشمیر زمانہ قدیم سے شاہراہ ریشم کے ذریعے چین اور وسط ایشیائی خطوں کے درمیان تجارت کا حصہ رہا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب پورا ریاست جموں و کشمیر چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بن کر بین الاقوامی اقصادی تعاون اور تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ سیمینار سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدکلیم عباسی ، سی پیک سینٹر فار ایکسی لینس اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رشید،سیکرٹری سیاحت و اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مدحت شہزاد،ڈاکٹرثمینہ صابرنے بھی خطاب کیا ۔جبکہ وزیر سما جی بہبود محترمہ نورین عارف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر، یونیورسٹی پرنسپل آفیسران، سربراہان شعبہ جات،ضلعی انتظامیہ،پولیس حکام کے علاوہ طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے ۔ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ تین براعظموں کو باہم جوڑنے والا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی کل مالیت ایک کھرب ڈالر ہے اور اس میں اب تک دنیا کے ستاسٹھ ممالک شامل ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور چین کے ساتھ اس کے خصوصی تاریخی روابط کے باعث پاکستان کو چین پاکستان کو اقتصادی راہداری کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کا دور ختم ہو چکا ہے ۔ اور اب دنیا اقتصادی تعاون اور تجارتی تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو کر اکنامک جیو گرافی کا روپ دہار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کوئی تخیل نہیں ہے اور نہ ہی ایسا منصوبہ ہے جو ابھی پائپ لائن ہیں بلکہ اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ 1960 کی دہائی سے تعلقات چلے آ رہے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مستحکم تر ہو رہے ہیں ۔ گوادر پورٹ کے بعد کراچی ، جیوانی ، پسنی اور گڈانی جیسے پورٹس کو بھی ترقی دی جائے گی ۔ جبکہ سی پیک کے تحت توانائی ، صنعت ، فائبر آپٹیکس بنیادی ڈھانچے اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہونے والا ہے جس کے لیے سی پیک کو توسیع دی جائے گی جو 2030 تک جاری رہے گی ۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ سی پیک کے تحت آزاد کشمیر میں چار میگا پراجیکٹس منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن میں سے کروٹ میں 720 میگا واٹ پن بجلی کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے جب کہ میرپور میں انڈسٹریل زون سمیت دیگر تین منصوبوں پر عملدرآمد ہونا باقی ہے ۔ انہوں نے نیلم ،جہلم منصوبے کے منفی ماحولیاتی اثرات اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے معاملات کو ابتداء میں ہی حل کیا جائے گا ۔ صدر سردار مسعود خان نے آزاد کشمیر کی جامعات اور تعلیمی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک اور دیگر منصوبوں سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے طلبہ کو ایسی تعلیم دیں جس کی مستقبل میں ضرورت ہو گی ۔

آج کااخبار

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

کالم